49

فیٹف اجلاس: پاکستان بدستور گرے لسٹ میں، متحدہ عرب امارات بھی شامل

فیٹف کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان کو بدستور گرے لسٹ کا حصہ رکھا گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کو بھی گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ادارے نے متحدہ عرب امارات کو بھی گرے لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فیٹف کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان کو بدستور گرے لسٹ کا حصہ رکھا گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کو بھی گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔
ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی ادارہ ہے، جس کا قیام 1989 میں جی سیون سمٹ کی جانب سے پیرس میں عمل میں آیا۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر منی لانڈرنگ کی روک تھام تھا۔ تاہم 2011 میں اس کے مینڈیٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے مقاصد بڑھا دیے گئے۔
ان مقاصد میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھنا اور اس حوالے سے مناسب قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات طے کرنا تھا۔
ادارے کے کُل 38 ارکان میں امریکہ، برطانیہ، چین اور بھارت بھی شامل ہیں جب کہ پاکستان اس کا رکن نہیں۔ ادارے کا اجلاس ہر چار ماہ بعد، یعنی سال میں تین بار ہوتا ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔
پاکستان کو کب گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا؟
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو کہ مختلف ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور انسداد منی لانڈرنگ جیسے اقدامات پر نظر رکھتا ہے۔
جون 2018 میں فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا تھا اور 2019 کے آخر تک منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق 27 نکاتی ایکشن پلان پر عمل در آمد کے لیے کہا تھا۔
حالیہ اجلاس سے پہلے توقع یہی کی جا رہی تھی کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا کیونکہ جون 2021 میں ہونے والے اجلاس کے بعد فیٹف کے سربراہ مارکس پلیا نے کہا تھا کہ فیٹف ایکشن پلان کا آخری نکتہ مکمل ہونے اور اس کے بعد ایشیا پیسفک گروپ کے چھ نکات پر مکمل عمل در آمد ہونے کے بعد دو دفعہ جائزہ ٹیم پاکستان بھیجی جائے گی جو کہ ان اقدامات کا زمینی جائزہ لے گی۔
گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کیا ہے؟
ادارہ عمومی طور پر انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور ان کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ جن ممالک کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں تو ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
اگرچہ ایف اے ٹی ایف خود کسی ملک پر پابندیاں عائد نہیں کرتا مگر ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔
ایف اے ٹی ایف ممالک کی نگرانی کے لیے لسٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے جنہیں گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کہا جاتا ہے۔
بلیک لسٹ میں ان ہائی رسک ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جن کے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور قواعد میں سقم موجود ہو۔ ان ممالک کے حوالے سے قوی امکان ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک ان پر پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔
گرے لسٹ میں ان ممالک کو ڈالا جاتا ہے جن کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں اور وہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر ان قانونی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اعادہ کریں۔
پس منظر
پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں ڈالا تھا۔ اس کے بعد سے پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے گذشتہ کچھ عرصے میں کئی قانون متعارف کروائے ہیں۔ ان قوانین میں انسداد منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم، انسداد دہشت گردی قانون میں ترامیم، وقف پراپرٹیز قانون، میوچل لیگل اسسٹنس قانون سمیت 14 وفاقی اور تین صوبائی قوانین شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں