53

فیدل کاستروکون تھا ؟

تعارف:

کیوبا کے سابق صدر اور کیوبا میں کیمونسٹ انقلاب کے بانی عظیم انقلابی لیڈر فائیڈل کاسترو نے امریکہ کو ناکوں چنے چبوائے اور دنیا کو یہ باور کروایا کہ اگر کوئی قوم سر اٹھا کر باعزت زندگی گزارنا چاہتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے غلام نہیں بنا سکتی۔ اس نے اپنے ملک کو امریکہ کی کٹھ پتلی ریاست سے نکا ل کرایک خودمختار اور آزاد ملک بنایا۔ اس نے 1959 ء سے لیکر 1976 ء تک کیوبا کے وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دیں جبکہ وہ1976 ء سے لیکر 2008 تک وہ کیوبا کا صدر رہا۔بڑھاپے کی وجہ سے وہ اقتدار اپنے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو کو سونپ کر تمام فرائض منصبی سے سبکدوش ہو گیا۔اس نے 90 سال کی طویل زندگی کے بعد2016میں وفات پائی۔

ابتدائی زندگی وتعلیم:

فائیڈل کاسترو 13 اگست 1926 ء کو کیوبا کے شہر باۂرین میں ایک امیر زمیندار کا سترو کے گھر پیدا ہوا۔ اس نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کیلئے ہوانا یونیورسٹی میں داخل ہو گیا جہاں سے اس نے قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل۔

وہ ابھی قانون کا طالب علم ہی تھا کہ اس نے صدر کیوبا فل جنسیو باٹیسٹا (Fulgencio Batista) کی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک شروع کردی۔

طالب علمی کے زمانے میں وہ اپنے ساتھیوں میں بہت مقبول تھا۔ اس کے کالج کے ساتھی اس کی ہربات ماننے کو تیار رہتے تھے۔لہذا بچپن سے ہی اس میں قیادت کی صلاحیت موجودتھی۔ کالج اور یونیورسٹی میں جب بھی کوئی غیر فطری قانون پاس ہوتا تو وہ اس کے خلاف انقلابی قدم اُٹھانے کے لئے نکل پڑتا یا جب بھی کسی طالب علم کے خلاف یونیورسٹی کی جانب سے زیادتی ہوتی تو اس کے خلاف فوراََ اٹھ کھڑا ہوجاتا۔ وہ بچپن ہی سے ایک انقلابی نوجوان تھا جس کا مقصد کیوبا کی عوام کو امریکہ کی غلامی سے نجات دلانا تھا۔ جب بچپن میں وہ امریکہ کے ہاتھوں عوام کو یرغمال اور حکومت کو کٹھ پتلی بنا دیکھتا تو اس کا دل کڑھنا شروع ہو جاتا۔ یوں وقت کے ساتھ ساتھ غلامی سے نفرت اس کے رگ و پے میں سما گئی اور وہ ایک انقلابی کیوبن قوم پرست رہنما بن کر ابھرا۔ایک ایسا رہنما جس کی بات اس کی قوم مانتی تھی۔

کیوبا کی تاریخ پر ایک نظر:

اس سے پہلے کہ فائیڈل کاسترو کے حالات زندگی پر ایک نظر ڈالی جائے، ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کیوبا کا مختصر تعارف پیش کیا جائے تاکہ فائیڈل کاسترو کی جدوجہد کو حقیقی معنوں میں سمجھا جا سکے۔کیوبا ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کا کل رقبہ109,884 کلومیٹرہے۔ 2018میں اس کی کل آبادی 12ملین تھی۔ یہ ملک شمالی کریبئین میں واقع ہے جہاں میکسیکو کی خلیج اور بحر روم آپس میں ملتے ہیں۔یہ ملک امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے ساتھ جنوب میں ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم سے اس کا انحصار امریکہ پر رہا ہے۔ یہ ملک امریکہ کے شہر فلوریڈا سے صرف 90 میل کی مسافت پر واقع ہے۔

کیوبا کی آباد کاری اور آزادی کی عجیب تاریخ ہے جس کا باقاعدہ آغاز 1492 ء یعنی پندرھویں صدی میں اس وقت ہوا جب عالمی شہرت یافتہ بحری سیاح کرسٹوفر کو لمبس اپنے تین بحری جہازوں کے ہمراہ جزیرے پر لنگر انداز ہوا تو یہاں قدیم انڈین قبائل” اراواک” آباد تھے۔ جن میں اکثریت غلاموں کی تھی۔ زرعی لحاظ سے اس کی زرخیز ی کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کی زمین گنا، تمباکو، کافی جیسی قدرتی نعمتوں کا خزانہ اگلتی ہے اور ہنر مند افرادی قوت کی بھی بہتات ہے۔ انہی خوبیوں کو بھانپتے ہوئے کولمبس نے ا س جزیرہ پر آباد کاری کا فیصلہ کیا اور ہسپانیوں کیلئے ایک نئی سلطنت کی بنیادرکھی۔

جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے جنوبی امریکہ کی اس منفرد جزیرائی ریاست کریبین کے شمال میں ایسے مقام پر واقع ہے جہاں بحرہ کریبین، خلیج میکسیکو اور بحیرہ روم ایک دوسرے کو جداکرتے ہیں۔ جنوب میں امریکہ کی ریاست فلوریڈ اور بہاماس جبکہ ہیٹی اور نارتھ جمیکا کا مغرب میں واقع ہیں۔ ہوانا کیوبا کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ ملک کا دارالحکومت، تجارت اور کاروبار کا سب سے بڑامعاشی مرکز بھی ہے۔ اس کے نمایاں شہروں میں سانتا، موگابے اور گانا گو قابل ذکرہیں۔ درحقیقت یہ کریبئین کے سمندری خطے میں عالمگیر پیمانے پر سب سے بڑاسیاحتی جزیرہ ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کیوبا ترقی پذیر ہونے کے باوجود اس کی معیشت کا معیارقابل تعریف ہے۔ اس لئے پیداواری ذرائع میں چینی، تمباکو، کافی کی پیداوار اور ہنرمند افراد ی قوت قا بل ذکرہیں۔ انیسویں صدی میں کیوبا میں ہونے والی وافر مقدار میں گنے کی کاشت نے چینی کی صنعت کو بام عروج تک پہنچایااور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کیوبا دنیا کی ایک تہائی چینی پیداکرنے کے قابل ہو گیا۔ کیوبا کی تاریخ بتاتی ہے کہ 1868 سے 1895 ء تک کاعرصہ وہ ہے جس میں آزادی کیلئے جنگیں لڑی گئیں۔

سب سے غریب ریاست ہونے کے باوجود سب سے زیادہ خوددار اور معیار زندگی کے اعتبار سے کیوبا کا شمار تیسری دنیا میں ہو تا ہے جہاں شرح خواندگی 97 ء فیصد ہے۔ سیاسی لحاظ سے1898 ء میں کیوبا کے اندرونی معاملات میں امریکہ کی مداخلت سے پیدا ہونے والے تنازعات کے نتیجہ میں جنگ کا آغاز ہو ااور یوں کیوبا سیاسی طورپر امریکہ کی آماجگاہ بن گیا۔

1933 ء میں فوجی آفیسر باٹیسٹاامریکہ کی آ شیرواد پر اس وقت کے صدر مچوڈو کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہو گیا اور وہ 1956 تک امریکی سنگینوں کے سائے میں ملک پر مسلط رہا۔جب امریکی غلامی حد سے بڑھ گئی تو کیوبا کو ایک آزاد ریاست بنانے کی غرض سے 1956 ء میں فائیڈل کاسترو نے امریکہ کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز کر دیا اور یوں ایک طویل جد وجہد کے بعد وہ بالآخر کیوبا کو امریکی تسلط سے آزاد کروانے میں کامیاب ہوگیا۔

انقلاب کی وجوہات:

کیوبا میں نو آباد ہسپانوی باشندوں کا قدیم مقامی لوگوں کے ساتھ ہتک آمیز اور غلامانہ طرز عمل، امریکیوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور سرمایہ کاری کے ذریعے وہاں کی معیشت اور قدرتی وسائل پر غاصبانہ قبضہ ایسے عوامل تھے جس نے ایک طرف کیوبا کومجبور کیا کہ وہ سوویت یونین کی امداد طلب کرے اور دوسری طرف انہوں نے امریکہ کے خلاف افریقہ کے تمام ممالک کی درپردہ آزادی کیلئے اپنی حمایت جاری رکھی۔ کاسترو نے جنوبی افریقہ کی آزادی کی تحریک میں نیلسن منڈیلا کا بالخصوص ساتھ دیا۔

جنوبی افریقہ کی آزادی نے پوری دنیا بلکہ براعظم یورپ پر بڑے مثبت اثرات مرتب کئے۔امریکامیں سیاہ فام صدر کا انتخاب نیلسن منڈیلا کی سحر انگیز شخصیت اور مثبت خیالات کا نتیجہ تھا۔ سوویت یونین کی جانب سے امریکا سے 90 میل کے فاصلے پر کیوبا میں میزائلوں کا نصب کرنا کے پیش نظر امریکا نے لچکدار سفارتی پالیسی اپنانے پر مجبور ہوا۔ فائیڈل کاسترو کی نیلسن منڈیلا کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی ہر سطح پر برقرار رہی۔ فائیڈل کاسترو نے کیوبا کو امریکہ کے نو آبادیاتی تسلط سے آزاد کرواکے اشتراکیت کے راستے پر گامزن کردیا۔ فائیڈل کاسترو نے کیوبا کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔

اگر کاسترو نہ ہوتا تو کیوبا پر ابھی تک امریکہ کا تسلط قائم ہوتا۔ فائیڈل کاستروکی ہمہ جہت انقلابی شخصیت اور کیوبا دونوں لازم وملزوم تھے۔اگر ہم یوں کہیں تو بے جا نہ ہو گا کہ فائیڈل کاسترو کی امریکہ سے ٹکراؤ کی پالیسی نے اس اپنے ملک کا ہیرو بنا دیا۔

فائیدل کاسترو کی سیاسی جد و جہد:

فائیدل کاسترو نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1947 ء میں اس وقت کیا جب اس نے کیوبن عوام کی ایک سیاسی پارٹی ” پارٹدوارتھو ڈوکسو” میں شمولیت اختیار کی اس پارٹی کے بانی یوڈارڈو تھا۔ یوڈارڈو کی پارٹی کا منشور تھا، سیاسی آزادی، دیانت دار حکومت اور معاشرتی انصاف تھا۔ اس وقت کاسترو یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ وہ بہت جلد اس سیاسی پارٹی کا ایک سرگرم عمل رکن بن گیا۔ وہ اپنے ساتھی طلباء کو لیکر حکومت وقت کے خلاف مظاہرہ کرتاتھاجس کیوجہ سے اسے موت کی دھمکی دی جاتی تھی۔ اسے کہا جاتا کہ وہ یونیورسٹی چھوڑ دے ورنہ موت کے گھاٹ اتار دیاجائیگا۔ اس دھمکی کے بعد مسلح طلبااس کے باڈی گارڈ ہوتے تھے۔

فیڈل کاسترو،کارل مارکس کے نظریات کا حامی تھا۔ وہ ملک میں کیمونسٹ حکومت کے قیام کا خواہاں تھا اوروہ اشتراکی حکومت کے شدید خلاف تھا۔ 1947 ء سے 1950 ء تک وہ ایک سرکردہ باغی لیڈر رہا۔ اس کے پاس طلبا ء کا ایک گروپ تھا جو حکومت کے خلاف مختلف علاقوں میں پرتشدد مظاہروں میں مصروف رہتا تھا۔ کبھی فوجی چھاؤنیوں اور بیرکوں پر حملہ کرتا تھااور کبھی پولیس اسٹیشن پر حملہ۔

1948 ء میں کاسترو اپنے چند باغی طلباء کے ہمراہ کولمبیا چلا گیاجہاں کی حکومت نے اس کا بہت گرم جوشی سے استقبال کیا لیکن کچھ عرصہ بعدوہاں کے ایک سیاسی رہنما جارج ایلیسر کی موت پر ملک میں فسادات شروع ہو گئے جس کیوجہ سے وہ واپس کیوبا آگیا۔ واپس آکر کیوبا کے ایک دولت مند شخص کی بیٹی میرٹا سے اس کی شادی ہو گئی اور ستمبر 1949 ء میں ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام فیڈلیٹو رکھا گیا۔1959 ء میں ا س نے ڈاکٹر آف لاء کا امتحان پا س کر کے بیرسٹری اور سیاست کے میدان میں اپنے پیشے کا آغاز کردیا۔ اس نے غریب کیوبن کے خلاف ناجائز مقدمات مفت لڑے۔ ا س نے کیوبا کے غریب عوام کی ہر میدان میں وکالت کی۔ نومبر 1950 ء میں کیوبا کی عدالت نے یونیورسٹی میں طلباء کی ایک ایسوسی ایشن پر پابندی لگادی

جس کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کے ساتھ جھڑپ میں کاسترو گرفتار ہو گیااور اسے قید کر لیاگیا۔ 1952 ء میں ا س نے ایک گروپ بنایا جس کا نام اس نے ” دی مومنٹ“ رکھا۔ اس نے ایک اخبار کی اشاعت بھی شروع کردی جس کا نام ” دی اکیوزر ” تھا۔ایک سال کے اندر اندر اس نے 1200 افراد ” دی مومنٹ” میں شامل کئے۔ان میں اکثر لوگ کیوبا کے ضلع ہوانا سے تعلق رکھتے تھے۔

ان سب کو فوجی تربیت دیکر ہتھیار مہیا کئے گئے اور 26 جولائی 1953 ء کو اس نے فوجی چھاؤنی میں منکیڈا بیرک پر حملہ کردیا۔ اس کا یہ آپریشن ناکام رہا اوراس آپریشن میں اس کے چھ ساتھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 15 بری طرح زخمی ہو گئے۔ دوسری طرف کیوبا کی فوج کے 19 جوان مارے گئے اور 27 زخمی ہو گئے۔ 22 باغیوں کو ایک سول ہسپتال سے پکڑکر ان پر مقدمہ چلا یا گیا جن کو بعد میں سزائے موت دے دی گئی۔

ا س واقعہ کے بعد کاسترو اپنے 19 ساتھیوں کے ہمراہ مائسٹرا کے پہاڑوں میں روپوش ہوگیا جہاں سے وہ گوریلا بیس قائم کر کے گوریلا جنگ کا آغاز کرنا چاہتا تھا۔دوسری جانب کیوبا کی حکومت نے ملک میں مارشل نافذ کر دیا اور میڈیا پر سخت پابندی لگادی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے کاسترو کو بدنام کرنے کیلئے یہ خبر چلائی کہ کاسترو نے سول ہسپتال کے مریضوں کو نشانہ بنایا جس سے متعدد مریض مو ت کے گھاٹ اترگئے۔ اس کے بعد حکومت نے کاسترو کے خلاف سخت آپریشن کا آغاز کیا جس میں کاسترو اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ لیا گیا۔اس کوپھانسی کی سزا دی گئی اور کچھ کو قید کردیاگیا۔سب قیدیوں پر مقدمات چلائے گئے۔

باقی قیدیوں کو تو 13 سال قید کی سزاملی لیکن فائیڈل کاسترو کو 15 سال قید بامشقت کی سزاسنائی گئی اور اُسے ماڈل جیل میں قید کرلیا گیا۔ اسطرح ” دی موومنٹ ” گروپ کے 25 لوگوں کو قید کی سزاملی۔ اس واقعے کے بعد اس نے اپنے گروپ کا نام اس واقعہ سے منسوب کرکے ” 26 جولائی موومنٹ رکھا” کیونکہ یہ واقعہ 26 جولائی 1953 ء کو پیش آیا تھا۔ اس کی 26 جولائی کی موومنٹ کو مختصراََ (MR-26-7) بھی کہتے ہیں۔ قید کے دوران وہ اکثر کارل مارکس اور لینن کی کتابیں پڑھتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ سگمنڈ فرائیڈ، کانت، شیکسپیئر اور ناتشے کی کتابوں کا مطالعہ بھی کرتا تھا۔

1954 ء میں باٹیسٹاکی حکومت نے جنرل الیکشن منعقد کروائے جس میں باٹیساپارٹی کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہ ہوا۔ 15 جولائی 1955 ء میں باٹیسٹا حکومت نے تمام قیدیوں کو رہا کردیا کیونکہ اب اس کو کاسترو سے کوئی ڈرنہ تھا کیونکہ وہ دوبارہ سراُٹھانے کے قا بل نہیں تھا۔

دوسری طرف اس نے قید میں ہونے کے باوجود اپنی انقلابی ٹیم کو منظم رکھااور کیوبا کی حکومت کو ناکوں چنے چبوانے شروع کردئیے۔ کاسترو نے رہاہونے کے بعد تشدد پر مبنی حکومت کے خلاف مظاہرے اور جلوس نکالنا شروع کر دئیے جس کیوجہ سے حکومت نے اس کے خلاف سخت آپریشن کا آغازکردیا۔ ان حالات میں کاسترو اور اس کا بھائی راؤل فرار ہو کر میکسیکو چلے گئے۔ انہوں نے وہاں سے پریس کو خط لکھا کہ ہم میکسیکو آگئے ہیں کیونکہ ہم پرآزادی کے تمام دروازے بند کردئے گئے ہیں۔ میکسیکو میں رہتے ہوئے اس کی دوستی ایک ہسپانوی نژاد ” البرٹو بائیو” سے ہوئی جس نے کاسترو کو گوریلا جنگ کے بارے میں کچھ اہم معلومات دیں۔

نومبر 1956 ء کو کاسترو 81 مسلح باغیوں کے ہمراہ واپس کیوبا آگیا، اور سہرا مائسٹرا کے پہاڑوں میں پناہ گزین ہو گیا جہاں ا س پر کئی دفعہ فوجی حملے کئے گئے اور آخر 81 باغیوں میں صرف 19 باغی بچے۔ باقی یا تو مارے گئے یا قید کرلئے گئے۔اب کاسترو نے فوجی چوکیوں پر حملے کرنا شروع کردیے تاکہ کچھ اسلحہ ہاتھ لگ جائے اور راشن بھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاسترو نے وہاں کے علاقائی لوگوں کو اعتماد میں لیکر 200 افراد پر مشتمل ایک فورس بنائی۔اس نے اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ کی کمان خود سنبھالی، دوسرے حصہ کا کمانڈر راؤل کو بنایااور تیسرےحصے کا کمانڈر گویرا بن گیا۔ انہوں نے منظم طریقے سے پولیس اور فوج کے خلاف حملے شروع کردیے۔

کاسترو کی حکومت کا قیام:

آخر کار امریکہ نے تنگ آکر کاسترو سے مذاکرات شروع کئے اور امریکہ نے باٹیسٹاکی حکومت ختم کردی اور صدر کو 300 ہزار ڈالر دیکر ملک بدر کردیا۔ دوسری طرف کاسترو نے جنگ آزادی کا اعلان کردیا۔ 31 دسمبر 1958 ء کو کاسترو نے صدر کے محل میں زبردستی داخل ہو کر جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کردیاکیونکہ امریکہ نے سپریم کورٹ کے جج کارلوس کو کیوبا کا صدر بنایا تھا جس پر کاسترو سخت برہم تھا اور اس نے جنگ بندی ختم کرکے پورے ملک میں جنگ آزادی کا اعلان کردیا۔ ان حالات میں کیوبا کے غریب عوام نے کاسترو کا ساتھ دیا اور امریکہ نے مجبور ہوکر حکومت کیوبا کی بھاگ ڈور بالآخر کا سترو کے حوالے کردی۔

کاسترو نے 16 فروری 1959 ء کو کیوبا کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھا یا۔ 15 اپریل 1959ء کو اس نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا جہاں وہ امریکہ کے وائس صدررچرڈنکس سے ملا جس کو کاسترو نے بہت ناپسند کیا۔اس کے بعد وہ کینڈا، برازیل اور ارجنٹینا کے دورے پر گیا۔ اس کے بعد کے زمانے میں وہ پھر کبھی امریکہ نہیں گیا۔

فائیدل کاسترو بطور لیڈر:

فائیڈل کاسترو ایک دلیر اور نڈر لیڈر تھا۔اس نے مشکل حالات میں اپنے اعصاب پر قابو رکھا۔ اس کی جرات کی ایک مثال یہ ہے کہ مارچ 1960 ء میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں اس نے برملا اعلان کردیا کہ کیوبا کی خانہ جنگی اور قتل عام کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ اس کی شدید تنقید سے امریکہ بوکھلاہٹ کا شکار رہتا تھا۔ وہ استعماریت اور شہنشاہت کے خلاف تھا۔ وہ اشتمالی عقائد رکھتا تھااوراشتراکیت پر اسے پورا یقین تھا۔

وہ کولمبیا میں سامراجی حکومت کے خلاف باغیوں کے گروپ میں بھی شامل رہا۔ وہ اپنے مخالفین کو برداشت نہیں کرتا تھا یہی وجہ ہے کہ کامیابی کے بعد اس نے اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کیلئے فوجی ٹریبیونل قائم کیا اور ہزاروں سیاسی مخالفین کو پابند سلاسل کردیا۔ اس نے بہت بے جگری سے امریکہ کی مخالفت کی اوراس نے 1952 ء میں امریکہ کے ساتھ تمام فوجی معاہدے توڑ دئیے اور اثاثے بھی ضبط کرلیے۔ فیڈرل کاسترو کے زیر انتظامیہ تمام کاروبار اور کارخانہ جات کو قومی تحویل میں لیا گیااور 1961 ء سے لیکر 2011 ء تک کیوبا کے کمیونسٹ پارٹی کی ریاست بن گئی۔

کیوبا روس کا اتحادی بن گیااس کے ساتھ کئی مشترکہ معاہدے کئے۔ان معاہدات کا مقصد امریکہ کے خلاف ایک مضبوط فوجی اتحاد بنا ناتھا۔ ادھر امریکہ نے کیوبا کے ساتھ اپنے تمام معاہدے 3 جنوری 1961 ء میں یکسرختم کردیئے۔ مخالفین کی بہت بڑی تعداد ملک چھوڑکر جلاوطنی پر مجبور ہو گئی۔ 1962 ء میں روس اور امریکہ کے درمیان شدید تنازعات کے نتیجے میں روس نے بھی امریکہ کو براہ راست ہدف بنانے کے لئے کیوبا کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے درمیانی درجے کے میزائل نصب کردئیے جو امریکہ پر دباؤ کا سبب بنے۔ اس دوران امریکہ نے روس کے خلاف ترکی اور اٹلی میں میزائل نصب کر دئیے۔ ادھر کیوبا میں صرف 90میل دور سویت یونین کے ایٹمی میزائلوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے چھکے چھڑا دئیے اور وہ سویت یونین کے ساتھ صلح کرنے پر رضامند ہو گیا۔ اس سخت بحرانی کیفیت کو آج بھی دنیا کیوبن میزائل بحران کے نام سے یاد کرتی ہے۔

دونوں عالمی طاقتوں کی کشمکش میں فائیڈل کاسترو چٹان کی طرح ڈٹا رہا۔اس نے اپنی قوم کا نہ صرف مورال بلند کیا بلکہ اس کو یکجا بھی رکھا۔ اس لحاظ سے بلاشبہ فائیڈل کاسترو ایک آئینی عزم کا حامل لیڈر تھا۔ فیڈل کاسترو کو روس کی طرف سے امریکہ کے خلاف ہر قسم تعاون حاصل تھا۔ یکم ستمبر 1977 ء میں امریکہ کے محدود سفارتی تعلقات کیوبا سے بدستور قائم تھے تاکہ امریکہ کی براہ راست آمدورفت اس جزیرہ پر یقینی بنائی جاسکے۔ امریکہ کا کیوبا سے ایک معاہدے کے تحت جزیرے کے اہم حصے ” گوانتا گاموبے ” پر اپنا بحر ی ا ڈہ قائم کیا ہوا تھا۔ کیوبا نے اس کو ختم کروایا۔ افریقہ کے ساتھ سرد جنگ میں بھی کیوبا نے امریکہ کے خلاف درپردہ ساتھ نبھایا۔

وفات:

کیوبا کے سابق صدر اورکیمونسٹ پارٹی کیوبا کے پہلے سیکریٹری فائیڈل کاسترو 25نومبر2016کو بوقت رات دس بج کر انتیس منٹ پر وفات پا گیا۔ اس کے بھائی راؤل کاسترو نے ریڈیو اور ٹی وی پر اس کی وفات کا سرکاری طور پر اعلان کیا۔ اس کی جسم کو جلا کر اس کی خاک کو سنتیاگو ڈی کیوبا نامی یادگار میں دفنا دیا گیا میں 4دسمبر 2016کو دفنا دیا گیا۔اس کی وفات کے بعد کیوبا کا صدر اور فرسٹ سیکریٹری اس کا بھائی راؤل کاسترو بنا جو پہلے ہی تما م اختیارات سنبھال چکا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں