40

فوری انتخاب عمران کا مطالبہ مسترد

فوری انتخاب عمران کا مطالبہ مسترد
لاہور(ایجنسیاں)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا مطالبہ مسترد ‘اسمبلیاں مدت پوری کریں گی ‘حکومت اور اتحادی جماعتیں عام انتخابات مقررہ وقت پر کرانے پر ڈٹ گئیں‘ حکومت اور اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں انتخابات عمران خان کے دباؤ پر نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کے متفقہ فیصلے کے تحت ہی ہوں گے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس کا طویل عرصہ سے التوا کا شکار فیصلہ سنائے۔ریاستی اداروں پر بار بار اور قابل شرم حملوں کے باوجود عمران نیازی کو طویل عرصے سے کھلی چھٹی دی جا رہی ہے۔اس کو دیئے گئے استثنا نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ماڈل ٹاؤن لاہورمیں اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں عمران خان کے اداروں کے خلاف بیانیے کے توڑ کے لیے نیا حکومتی بیانیہ جلد سامنے لانے پر اتفاق کیا گیا۔حکومتی اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی جبکہ پنجاب میں وزیر اعلی کو بچانے کیلئے بھرپور کوشش کی جائے گی۔اجلاس کی صدارت شہباز شریف اور فضل الرحمان نے کی۔ اجلاس میں زرداری‘شاہ اویس نورانی‘حمزہ شہباز، خالد مقبول‘شاہ زین بگٹی، میاں افتخار‘اکرم درانی، طارق بشیر چیمہ‘محسن داوڑ‘اسلم بھوتانی سمیت دیگر رہنماوں نے شرکت کی۔اجلاس میں ضمنی انتخابات کے بعد کی سیاسی صورت حال کے پیش نظر مسلم لیگ ن کی پنجاب میں حکومت برقرار رکھنے کے لیے آئینی و قانونی آپشنز پر غور کیاگیاجبکہ 22جولائی کو قائد ایوان کے دوبارہ انتخاب کے حوالے سے حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی۔فیصلہ کیا کہ قبل از وقت انتخابات سود مند آپشن نہیں ہے‘سیاست میں اداروں کو گھسیٹنا غیر جمہوری عمل ہے، عمران خان ملک میں انتشار کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں‘اتحادی جماعتیں عمران خان کے بیانیے کا جواب دیں گی۔ پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن سے فوری طور پر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کا مطالبہ کیا ۔ اجلاس میں آئی ایم ایف کا پیسہ پاکستان آنے کے بعد عوام کو ریلیف پیکج دئیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے بعداکرم درانی ‘ میاں افتخار اور دیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت کی وجہ سے ملک کی معیشت کا جنازہ نکل گیا‘ملک سنبھالنے کا فیصلہ مجبوری میں کیا‘انتخابات عمران خان کے دبا ئوپر نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کے متفقہ فیصلے کے تحت ہی ہوں گے‘ضمنی الیکشن مقبولیت کا پیمانہ نہیں ہے‘ عمران خان ایک سازشی اور ذہنی مریض ہے‘ڈرکر بھاگنے والے نہیں ‘ڈٹ کر مقابلہ کریں گے‘ فیصلے نظریہ ضرورت کے تحت نہیں ہونے چاہئیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اجلاس کے دوران اتحادی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات کے نتائج کی بنیاد پر وفاقی حکومت یا ملک میں سیاست کے حوالے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ 2018 میں یہ نشستیں پی ٹی آئی یا آزاد امیدواروں کی تھیں ۔ عمران خان سازش کے تحت اقتدار میں آیا، یہ بچہ جمہورا تھا جس کی وجہ سے ملکی معیشت دیوالیہ ہوگئی،مگر ہم ساری جمہوری جماعتیں مل کر اس طوفان کو نہ صرف قابو کریں گے بلکہ اس کو باندھ دیں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ کوئی بھی جماعت ہو جمہوریت پر شب خون مارنا نہیں چاہیے‘برسوں سے زیر التوار فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیا جا نا چاہیے، ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ شخص آئین سے چھیڑ چھاڑکرنا چاہتا ہے،63 اے پر ہمارے تحفظات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں