50

فوج کو کاروباری منصوبوں میں شامل ہونے کا اختیار نہیں اسلام آباد ہائی کورٹ

فوج کو کاروباری منصوبوں میں شامل ہونے کا اختیار نہیں اسلام آباد ہائی کورٹ
اسلام آباد کی عدالت کا کہنا ہے کہ ریاست اور حکومتی عہدیداران کا فرض ہے کہ وہ مارگلہ ہلز کا تحفظ کریں اور عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ کو مارگلہ ہلز کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان بحریہ اور پاکستان فوج نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر نافذ شدہ قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی تباہی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے نیوی گالف کورس کی تعمیر بھی غیر قانونی قرار دے دی ہے اور وزارت دفاع کو اس معاملے میں انکوائری کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد کی عدالت نے وزارت دفاع کے سیکریٹری کو فرانزک آڈٹ کرا کے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کا بھی حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں آرمی ایکٹ 1952 اور ایئرفورس ایکٹ 1953 سمیت پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون میں کوئی ایسی شق موجود نہیں جس کے تحت فوج اپنے قیام کے مقاصد کے علاوہ کسی سرگرمی میں حصہ لے سکے۔

’پاکستانی فوج کے پاس اپنی قیام کے مقاصد کے علاوہ بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی بھی کاروباری سرگرمی میں حصہ لینے اور ریاست کی زمین کی ملکیت کا دعوی کرنے کا کوئی اختیار نہیں نہ ہی اس کے دائرہ اختیار میں ہے۔‘
عدالت نے اپنے فیصلہ میں آئین پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق افواج کا بنیادی کام یا آئینی فریضہ بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے پیش نظر پاکستان کا دفاع کرنا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افواج کا کام سول حکومت کی مدد کرنا بھی ہوتا ہے جن میں اندرونی سلامتی، قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کام حکومت کی اجازت یا ہدایات سے مشروط ہوتے ہیں۔عدالت کا کہنا ہے کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی تباہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جبکہ ماحولیاتی اور قدرتی نظام کےتحفظ کو ریاست اور اداروں کی آئینی ذمہ داری قرار دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری فیصلے میں نیشنل پارک کی 8068 ایکڑ اراضی پر پاکستان فوج کے ڈائریکٹوریٹ کا ملکیتی دعوی بھی مسترد کیا ہے اور پاک فوج کے فارمز ڈائریکٹوریٹ کا مونال ریسٹورنٹ کے ساتھ لیز کا معاہدہ بھی غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔
105 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں اسلام آباد انوائرمنٹل کمیشن کی رپورٹ کو بھی حصہ بنایا گیا ہے۔
اسلام آباد کی عدالت کا کہنا ہے کہ ریاست اور حکومتی عہدیداران کا فرض ہے کہ وہ مارگلہ ہلز کا تحفظ کریں اور عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے تعطیلات پر روانگی سے قبل یہ فیصلہ تحریر کر کے دستخط کیے تھے جسے آج جاری کیا گیا ہے تاہم اس معاملے ہر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’ستم ظریفی مارگلہ ہلز کے محفوظ نوٹیفائیڈ ایریا کی بے حرمتی میں ریاستی ادارے کا ملوث ہونا ہے، پاکستان بحریہ اور پاکستان فوج نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر نافذ شدہ قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے اور اشرافیہ کی گرفت کا ایک مثالی کیس تھا۔‘

عدالت نے مزید کہا ہے کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ مارگلہ ہلز کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے اقدامات کرے تاکہ اسے مزید تباہی سے بچایا جاسکے۔
مقدمہ کب درج ہوا اور کس نے کیا؟
سال 2014 میں زاہد بیگ مرزا نامی ایک پاکستانی شہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ پٹیشن دائر کرنے والے پروفیسر زاہد بیگ مرزا 86 سالہ وائلڈ لائف ایکسپرٹ ہیں۔ اس درخواست کے دائر ہونے کے بعد اسی سال اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ہی اسلام آباد وائلڈ مینیجمنٹ بورڈ کا قیام بھی عمل میں آیا تھا جس کا مقصد مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا تحفظ کرنا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں