89

فلسطین، کشمیر اور دیگرچیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ وژن پر عمل کرنا ہے، او آئی سی اعلامیہ

او آئی سی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فلسطین، کشمیر اور دیگرچیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ وژن پر عمل کرنا ہے۔
او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 48ویں اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، اعلامیے میں “اتحاد، انصاف اور ترقی کے لیے شراکت” کے مرکزی موضوع کو شامل کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مندرجات، او آئی سی کے چارٹر میں درج عظیم اسلامی اقدار اور نظریات سے ماخوذ ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں اور مقاصد سے مطابقت رکھتے ہیں، عالمی سیاسی، سلامتی، انسانی، اقتصادی اور تکنیکی مسائل کے بارے میں جائزے اور ان سے نمٹنے کے لیے وژن اور نظریات کی نمائندگی کرتا ہے۔
او آئی سی رکن ممالک کے عزم کو واضح کرتا ہے جن میں مشترکہ مفادات کو فروغ دینا اور ان کا تحفظ کرنا، فلسطین، کشمیر اور دیگرمشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے منصفانہ مقاصد کی حمایت، غیر OIC ممالک میں مسلم اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ، مسلم دنیا کے اندر اور اس سے باہر کی سماجی، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی ترقی اور انضمام کے لیے مشترکہ وژن پر عمل کرنا ہے۔
ہم آہنگی، رواداری، پرامن بقائے باہمی، زندگی کے بہتر معیار، انسانی وقار اور تمام لوگوں کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینا، ہماری اجتماعی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
اعلامیے میں اس سال کے آخر یا اگلے سال، تنازعات کو روکنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے طریقہ کار طے کرنے کے لیے وزارتی اجلاس بلانے کی تجویز ہے۔
یہ اعلامیہ افغانستان ہیومینیٹرین ٹرسٹ فنڈ (AHTF) کے فعال ہونے کا خیرمقدم کرتا ہے۔
واضح رہے کہ اے ایچ ٹی ایف کے چارٹر پر 21 مارچ 2022 کو اسلام آباد میں دستخط کیے گئے تھے، اس اعلامیے میں، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے متفقہ فیصلے کے مطابق 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے عالمی دن کے طور پر منانے اور خصوصی ایلچی مقرر کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا گیا ہے۔
یہ اعلامیہ دہشت گردی کی تمام جہتوں اور زاویوں کو مسترد کرتا ہے اور اس برائی کو کسی بھی ملک، مذہب، قومیت، نسل یا تہذیب کے خلاف استعمال کرنے کی مذمت کرتا ہے، یہ حق خود ارادیت کے لیے لوگوں کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کے خلاف او آئی سی کے مضبوط موقف کا اعادہ کرتا ہے۔
اعلامیہ COVID-19 کے تباہ کن سماجی اور اقتصادی اثرات کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک پر موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو واضح کرتا ہے، اس میں یکساں طور پر ویکسین کی فراہمی ، قرض سے نجات، غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کا مقابلہ کرنے اور موسمیاتی فنانسنگ کے وعدوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت پیدا کرنے کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی کو تحریک دینے میں جدت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے روابط اور شراکت کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا اظہار کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں