33

فقید المثال اور تاریخ ساز شخصیت. عبدالقدیر خان

52 / 100

پچھلے دنوں ایڈمرل سروہی صاحب کا فون آیا کہ وہ آنا چاہتے ہیں، مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ ان سے ملاقات ہوگی تو چند پرانی یادیں تازہ ہوجائینگی۔ جب وہ تشریف لائے تو دیکھا کہ عمر نے اپنی قیمت وصول کرلی ہے، کافی کمزور اور ضعیف نظر آئے مگر الحمداللہ دماغ اُسی طرح تندوتیز یعنی شارپ ہے۔ جب وہ نیوی کے سربراہ تھے تو رسمی ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں مگر جب وہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر ہوئے تو میرے ان سے بہت قریبی تعلقات قائم ہوگئے کیونکہ پاکستان میزائل پروگرام شروع کررہا تھا۔ سروہی صاحب اسپارکو کے سربراہ کے کام سے مطمئن نہیںتھے، انھوں نے ایک روز مجھے بلایا اور کہا کہ آج سے آپ میزائل پروگرام کے کوارڈی نیٹرہونگے اور آپ کو اس کام کو اب تیزی سے آگے بڑھانا ہے۔ ہندوستان آنکھیں دکھا رہا تھا اگرچہ ہمارے پاس ایٹم بم تھے مگر میزائل ٹیکنالوجی کا ہونا بھی بہت ضروری تھا۔ میں نے محترمہ بینظیر سے بات کی اور انھوں نے فوراً منظوری دیدی اس وقت جنرل بیگ آرمی چیف تھے اور وہ میزائل پروگرام کے سخت حامی تھے۔ میں چین گیا اور ہم نے M-11 میزائل کا کنٹریکٹ کرلیا ۔ میں نے اور جناب مرحوم فخرالدین ملک، ممبر فنانس نے دستخط کئے۔ اَب جگہ کا مسئلہ تھا،ہم ہیلی کاپٹر میںخانپور کے پاس گئے ، نہایت ہموار، خوبصورت جگہ، تربیلہ سے نہر کا پانی وہاں سے گزر رہا تھا اور ہائی وولٹیج کا تار بھی گزر رہا تھا۔ ڈی جی CWO ساتھ تھے۔ سروہی صاحب نے جگہ دیکھتے ہی منظوری دیدی اور میں نے وہاں تعمیر کا کام بریگیڈیئر سعید بیگ کو دیدیا۔ انھوں نے جس رفتار سے یہ کام کیا وہ قابل دید اور قابل تحسین تھا۔ آپ روزمرہ کی پروگریس دیکھ سکتے تھے۔ ہم ہفتہ میں ضرور ایک چکر لگالیتے تھے۔جب کام تیزی سے چل پڑا تو سروہی صاحب نے اپنا ایک نہایت قابل افسر ریئر ایڈمرل سہیل احمد خان کو وہاں پوسٹ کردیا۔ ان کا ہماری ٹیم سے بہت اچھا تعلق رہا۔

دیکھئے اس پورے کام میں مجھے سروہی صاحب کی سرپرستی اور سربراہی حاصل تھی اور ہم بہت قریب ہوگئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ ہرمعاملے کو بہت جلد سمجھ جاتے تھے اور مفید مشورہ دیتے تھے۔ ان کی ٹیکنیکل صاحیت بہت اعلیٰ تھی چونکہ انھوں نے انگلینڈ میں اعلیٰ ٹریننگ حاصل کی تھی۔ ایڈمرل سعید محمد خان جنھوں نے نیوی کی سربراہی کا عہدہ سروہی صاحب سے لیا تھا، وہ میرے بہت عزیز دوست ہیں انھوں نے ہمیشہ سروہی صاحب کی فنّی اور انتظامی صلاحیتوں کی بے حد تعریف کی ہے۔ ایڈمرل سروہی صاحب کی زندگی ہمیشہ بہتر سے بہتر حاصل کرنے میں گزری ہے۔ انہوں نے 1952میں نیوی انجینئرنگ کالج لاہور میںداخلہ لیااور انگلینڈ سے اعلیٰ فنی تعلیم حاصل کی اور ہر امتحان میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے طور پر تعیناتی سے قبل نیوی کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے نیوی میں جدت اور مہارت متعارف کروائی۔ پورے ملک اور افواج پاکستان میں ان کی بے حد عزت تھی۔

ایڈمرل سروہی نے اپنی سوانح حیات بھی لکھی ہے جس کا عنوان Truth Never Retiresہے۔ اور اس کو جنگ پبلشرز لاہور نے شائع کیا تھا۔ کتاب نہایت دلچسپ ہے کہ اس میں پیشہ ورانہ واقعات کے علاوہ سیاسی ریشہ دوانیوں کا بھی ذکر ہے۔ میں ان ریشہ دوانیوں سے واقف ہوں کہ یہ میرے سامنے کے واقعات ہیں۔ ایڈمرل سروہی صاحب نے جس بردباری، وقار کا اظہار کیا تھا وہ سب کو معلوم ہے۔ ہوا یہ کہ جنرل ضیاء الحق کے جہاز میں انتقال کے بعد غلام اسحٰق خان عارضی صدر بن گئے، جنرل اسلم بیگ آرمی چیف بن گئے۔ الیکشن ہونے والے تھے، ایک روز جنرل اسلم بیگ کے دفتر میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ان کے PSO نے آکر بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس نصرت آگئے ہیں میں نے اُٹھنا چاہا تو بیگ صاحب نے کہا کہ نہیں آپ ٹھہریں۔ جسٹس نصرت نے الیکشن کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ اندازہ ہے کہ بینظیر بھٹو جیت جائینگی، بیگ صاحب نے کہا، اگر وہ الیکشن جیت جاتی ہیں تو وہی حکومت بنائینگی، ہم دخل اندازی نہیں کرینگے۔ بینظیر نے الیکشن جیت لیا اور ان کاوڈیراپن حاوی ہوگیا۔ انھوں نے جنرل امتیاز کو مشیر دفاع یعنی وزیر دفاع لگادیا، اس میں کوئی حرج نہ تھا، وہ بہت اچھے افسر تھے اور میرا خیال تھا کہ وہ وقت آنے پر یقیناً آرمی چیف بن جائینگے۔ مگر اب حالات بدل چکے تھے وہ ریٹائر ہوچکے تھے اور کئی برس گزر گئے تھے۔ بینظیر نے نہایت غیر جمہوری رویہ اختیار کیا۔ پہلے انھوں نے روایت کے قطعی برعکس جنرل (ر) شمس الرحمٰن کلّو کو DG ISI لگا دیا۔ وہ بہت اچھے افسر تھے مگر افواج کے اپنے اصول اور روایات ہیں۔ یہ غلط کام تھا پھر انہوں نے کوشش کی کہ ایڈمرل سروہی صاحب کو مدّت ختم ہونے سے پہلے ریٹائر کردیں۔ ان کو لالچ دیا گیا کہ کہیں تین سال کے لئے سفیر بنادیئے جائینگے۔ سروہی صاحب ہمیشہ سے نہایت بااصول شخصیت کے مالک ہیں انھوں نے صاف انکار کردیا اور جنرل اسلم بیگ نے اور صدر غلام اسحٰق خان نے ان کا ساتھ دیا۔

ایڈمرل سروہی کی بہت بڑی خواہش تھی کہ بھاولپور میں ایک اعلیٰ سائنٹفک اور انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ بنائیں۔ انھوں نے بڑی محنت کی۔ ان کی بیگم صاحبہ نے، جن کا تعلق شعبہ تعلیم سے رہا ہے، ان کا ساتھ دیا۔ میں نے، ڈاکٹر نذیر احمد اور سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی مسیح الدین نے بھی ہاتھ بٹایا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کچھ سیڈمنی دی مگر جیسا کہ خطرہ تھا حکومت نے ساتھ نہیں دیا اور یہ اعلیٰ تعلیمی ادارہ نہ بن سکا۔ مجھے بے حد افسوس ہے۔ ایڈمرل سروہی نے اپنے علاقے میں بچیوں کا کالج بنایا ہے اور طلباء و طالبات کو وظائف دیتے رہتے ہیں۔ ایک فقیدالمثال محب وطن کی صلاحیتوں سے ان لوگوں نے فائدہ نہ اُٹھاکر اپنی جہالت کا بڑا ثبوت دیا۔ اللہ پاک ایڈمرل سروہی اور ان کے اہل خانہ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!

(نوٹ) پچھلے کالم میں حفیظ پیرزادہ صاحب کا قلمدان غلطی سے وزارت خارجہ لکھ دیا گیاتھا وہ وزیر خزانہ تھے مگر میرا تعلق سکریٹری جنرل جناب اے جی این قاضی صاحب سے تھا وہ ہی ہمیں فنڈ دیتے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں