52

افغانستان میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت ختم ہونی چاہیے، ملی یکجہتی کونسل پاکستان

44 / 100

اسلامی تحریک کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف واحدی نے کہا کہ افغانستان میں جمہوری عمل پر زیادہ زور دیا جائے، وہاں جنگی صورتحال خطے اور افغانستان کے استحکام کیلئے مناسب نہیں ہے۔ افغانستان میں امریکہ کیخلاف مزاحمتی قوتوں کی کامیابی پر انھیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔


کونسل کے نئے صدر، سیکریٹری جنرل اور کابینہ کے انتخاب کے لیے دستوری اجلاس ماہ اگست کے پہلے ہفتے میں منعقد کیا جائے گا، سپریم کونسل میںمجی دستوری ترامیم کے پاس ہونے تک موجودہ دستور ہی نافذ العمل ہوگا۔ دستوری اجلاس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال، مسئلہ کشمیر، مسئلہ فلسطین، سودی نظام، وقف املاک بل، گھریلو تشدد بل جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ یہ فیصلے کونسل کے ایک آن لائن مشاورتی اجلاس میں کیے گئے، جو کونسل کے صدر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر کی صدارت میں ہوا۔ صدر ملی یکجہتی کونسل نے کہا کہ اگلے انتخابات سے قبل کونسل میں وسعت لانے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ کونسل ملک کی تمام قابل ذکر مذہبی جماعتوں کا فورم بن سکے۔ اس حوالے سے دیگر جماعتوں سے روابط کا فیصلہ کیا گیا۔ مشاورتی اجلاس میں کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے ہمارا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ افغانستان سے بیرونی مداخلت ختم ہونی چاہیئے۔ افغان عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق ہونا چاہیئے۔

کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیئے، جس میں تمام قومیتوں اور اکائیوں کو شامل کیا جائے۔ اسلامی تحریک کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف واحدی نے کہا کہ افغانستان میں جمہوری عمل پر زیادہ زور دیا جائے، وہاں جنگی صورتحال خطے اور افغانستان کے استحکام کے لیے مناسب نہیں ہے۔ افغانستان میں امریکہ کے خلاف مزاحمتی قوتوں کی کامیابی پر انھیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس آن لائن اجلاس میں کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، کونسل کے نائب صدر حافظ عبد الغفار روپڑی، کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ثاقب اکبر، اسلامی تحریک کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی اور جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی راہنماء پیر سید صفدر گیلانی، پیر لطیف الرحمن اور دیگر راہنمائوں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں