hafiz muhammad jameel articles 107

فضائل و سیرت سیدنا امام حسین سلام اللہ علیہ: حافظ محمد جمیل

فضائل و سیرت سیدنا امام حسین سلام اللہ علیہ
حافظ محمد جمیل (ریسرچ سکالر جامعہ نعیمیہ، اسلام آباد)

سیدنا امام حسین سلام اللہ علیہ نواسہ ہیں اس عظیم ہستی کے جن کے امتی ہونے کیلئے انبیاء کرام دعائیں کرتے رہے۔اللہ سبحانہ و تعالی نے ان کے واسطہ سے ہمیں ایمان و نعمت اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا۔حضور ﷺ نے ہمیں فرمان الہی سنایااور اسلام کے احکامات بتلانے کیلئے طائف کی ستم ظریفیا ں اور شعب ابی طالب کی مصیبتیں و سختیاں برداشت کیں۔ہر درد دینے والے کو دعادی پر کوئی عوض نہ چاہا سوائے اس کے کہ
جسے اللہ تعالی نے یوں ارشاد فرمایا
لَا أَسْأَ لُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی
ترجمہ: میں (محمدرسول اللہ) تم سے اس (تبلیغ اسلام)پر کوئی اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے۔
جب یہ آیۃ نازل ہوئی تو کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے
یا رَسُولَ اللَّہِ ، وَمَنْ قَرَابَتُکَ ہَؤُلاءِ الَّذِینَ وَجَبَتْ عَلَیْنَا مَوَدَّتُہُمْ ؟ قَالَ : عَلِیٌّ وَفَاطِمَۃُ وَابْنَاہُمَا
اے اللہ کے پیارے حبیب ﷺ جن سے آپ نے محبت کرنیکا فرمایا ہے ان سے کون سی وہ اعلی شخصیات مرادہیں جن سے محبت کرنے پر خود رب کائنات نے بھی ارشاد فرما دیا
تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
علی،فاطمہ اور ان کے دونوں شہزادے رضی اللہ عنہم (معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر: 2575)
ایک اور مقام پر ان سے محبت کو حضور ﷺ نےہدایت کی اساس قرار دیتےہوئے فرمایا
حضرت زید بن ارقم اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضور اکرمﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فرمایا
اِنِّيْ تَارِکٌ فِيْکُمْ ثَقْلَيْن اِنْ اَخَذْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوْا کِتَابَ اللّٰه وَعِتْرَتِيْ اَهْلَ بَيْتِيْ فَانْظُرُوْا کَيْفَ تَخْلُفُوْنِيْ فِيْهِمَا.
’’ترجمہ: لوگو میں تم میں دو بھاری (نہایت اہمیت والی ) چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، اگر تم نے اِن دونوں کو تھامے رکھا(ہر عمل ان کی ہدایات کے مطابق کیا)تو ہر گزگمراہ نہ ہوں گے: کتاب اللہ اور میری اہل بیت۔ دیکھنا! میرے بعد تم اِن دونوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو‘‘۔(جامع ترمذی، ج5، ص662، حديث نمبر 3786/3788
حضرت حسین حضور ﷺ کو اتنے پیارے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا
حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ ۔
ترجمہ: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں (جامع ترمذی،ابواب المناقب،باب منا قب الحسن والحسین علیہما السلام ج2 ص 218 حدیث نمبر 4144)
امام حسین سلام اللہ علیہ کی ولادت با سعادت سہ شنبہ ۵ شعبان المعظم ۴ ہجری مدینہ المنورہ میں ہوئی۔
آپ کی ولادت کی خبر پیدائش سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کو دے دی گئی تھی جیسا کہ حضور ﷺ کی چچی ام فضل بنت حارثہ کی روایت سے ثابت ہے کہ ایک دن انہوں نے ایک خواب دیکھا تو حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں
یا رسول اللہ ﷺ آج رات میں نے ایک ڈرا دینے والا خواب دیکھا ہے۔تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ اے چچی جان !آپ نے ایسا کیا دیکھا ہے خواب میں؟عرض کرنے لگی بہت ہی فکر کاباعث ہے،آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ ہے کیا؟عرض کرنے لگی کہ میں نے دیکھا ہے گویا آپ ﷺ کے جسم اطہر سے ایک ٹکڑا کاٹ دیا گیاہے اور میری گو د میں رکھ دیا گیاہے۔سننے کے بعد مسکراتے ہوئے رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے کہ تم نے تو کتنا شاندار خواب دیکھا ہے۔ان شاء اللہ فاطمۃ الزھرا ء سلام اللہ علیہا کو صاحبزادے تولدہونگے اور وہ تمہاری گودمیں پرورش پائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضور ﷺ کی بیان فرمائی ہوئی بشارت کے عین مطابق ہی بی بی فاطمۃالزھراء سلام اللہ علیھا کو حضرت اما م حسین علیہ السلام تولد ہوئے اور وہ میری گود میں آئے۔(مشکوۃ المصابیح،ج۱،ص572)
آپ علیہ السلام جہاں نواسہ ختم الرسل ہیں وہاں ان خوش نصیبوں میں سے بھی ہیں جن کے نام حضور ﷺ نے خود تجویز فرمائے
معجم کبیر طبرانی میں ہے
عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالی عَنْہُ , أَنَّہُ سَمَّی ابْنَہُ الأَکْبَرَ حَمْزَۃَ ، وَسَمَّی حُسَیْنًا جَعْفَرًا بِاسْمِ عَمِّہِ ، فَسَمَّاہُمَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَیْنًا
ترجمہ:حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بڑے بیٹے حضرت حسن کا نام مبارک حمزہ اور چھوٹے بیٹے کا نام مبارک آپ کے چچا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کانام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رکھا۔(معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر2713)
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ایک موقعہ پر پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں نام رکھنے کی وجہ بھی بیان فرما دی۔
حسن اور حسین یہ دونوں نام اہل جنت کے اسماء ہیں اور اسلام سے پہلے عرب میں یہ دونوں نام نہیں رکھے گئے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبیر و شبر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا انہیں کے نام پر حسن اور حسین رکھا۔ (صواعق محرقہ، صفحہ 118) اس لئے حسنین کریمین کو شبیر اور شبر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سریانی زبان میں شبیر و شبر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنیٰ ایک ہی ہیں
علامہ ابن حجر مکی ہیتمی نے الصواعق المحرقہ میں صفحہ 115 پر یہ روایت درج فرمائی ہے۔
امام عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام کی کنیت ابو عبد اللہ ہے اور القاب مبارکہ ریحانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم،سیدشباب اھل الجنۃ،الرشید،الطیب،الزکی،السیداورالمبارک ہیں۔
جب آپ علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہوئی تو آپ کے کانوں میں آذان کہی گئی اور وہ آذان کی متبرک آواز حضور رحمۃ اللعالمین ﷺ کی تھی۔
جیسا کہ روایت میں آتا ہے
عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ” أَذَّنَ فِی أُذُنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ حِینَ وُلِدَا
ترجمہ: حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حسن اور حسین پیدا ہوئے تو حضور ﷺ نے ان کے کانوں میں آذان کہی۔(معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر 2515)
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہماکی ولادت پر عقیقہ کیا اور اس کے لئے ایک ایک دنبہ کو ذبح فرمایا جیسا کہ ابو داود شریف کی روایت ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ کَبْشًا کَبْشًا.
ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے حضرات حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ایک ایک دنبہ ذبح فرمایا۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الضحایا، باب فی العقیقۃ ، ص392، حدیث نمبر2843۔سنن نسائی،کتاب العقیقۃ ، حدیث نمبر- 4230سنن بیہقی، حدیث نمبر1900)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا
یَمْتَصُّ لُعَابَالْحُسَیْن کَمَا یَمْتَصُ الرَّجُلُ التَّمَرَۃَ
وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے لعابِ دہن ( رال، تھوک) کو اس طرح چوستے ہیں جیسے کہ آدمی کھجور چوستا ہے۔ (نور الابصار صفحہ 114)
کیا محبت کا عالم ہو گا۔اتنی محبت جہاں میں کسی نے بھی اپنے نواسوں سے نہیں کی ہو گی پر نواسوں نے بھی محبت کا حق ادا کیا ،خاندان لوٹا دیے ،گردنیں کٹوا دیں پر نانا کے دین پر حرف نہ آنے دیا۔
ایک دفعہ تو حضور ﷺ نے امام حسین علیہ السلام کو اپنی گود میں بٹھایااور آپ کے لبوں کو بوسہ دے کر ان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح فرمایا اور ساتھ ساتھ جوان سے محبت کرے ان کو بھی دعا دی فرمایا
اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُمَا
ترجمہ:اے اللہ !میں ان (حسن و حسین )سے محبت رکھتا ہو ں تو بھی ان سے محبت رکھ اور جو ان سے محبت رکھے اس کو اپنا محبوب بنا لے(جامع ترمذی،ابواب المناقب،باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام،ج 2 ص218)
ایک اور مقام پر حضور ﷺ نے امام حسن و حسین کی شان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا
فَقَالَ ہَذَانِ ابْنَایَ وَابْنَا ابْنَتِی اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُمَا .
ترجمہ :یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ائے اللہ !تو ان دونوں سے محبت فرما اور جو ان سے محبت رکھے اسکو اپنا محبوب بنالے۔(جامع ترمذی، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام،حدیث نمبر 4138 )
کیا کمال شخصیت ہیں خود تو اللہ کو محبو ب ہیں جو ان سے محبت کرے وہ بھی اللہ کے محبوبوں میں شامل ہو جاتاہے۔کیونکہ ایسے انسان کےلئے جو حسنین کریمین سے محبت کرتاہے خود رسول خدا دعا فرما رہے ہیں
أَحَبَّ اللَّہُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا-
ترجمہ:اللہ تعالیٰ اس کو اپنا محبوب بنالے جس نے حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھی۔ (جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام .ج2ص218 حدیث نمبر 4144-)
ایک لحاظ سے تو اللہ سبحانہ و تعالی نے ان کو جو یہ چاہتےہیں کہ اللہ ان سے محبت کرے کو ایک نسخہ بتا دیا کہ ہر وقت امام حسنین و کریمین رضی اللہ عنہما کے قصیدے پڑھوں ،ان کی شان کو بیان کرو کیونکہ ان کی شان کو بیان کرنا سنت مصطفی ﷺ ہے اور سنت بھی ایسی کہ جو محمد رسول اللہ ﷺ کو بہت زیادہ پسند تھی۔
حضور کی محبت کے عالم کا اندازہ تو کریں کہ نہ صرف اس کے لئے دعا فرمائی جو ان سے محبت کرتاہے بلکہ جو ان سے بغض رکھتا ہے اس کے لئے وعید بھی بیا ن فرما دی اس نبی نےجس نے کفارکے ظلم پر بھی بارگاہ خدا وندی میں یہ کہا کہ اے اللہ ان کو ہدایت عطا فرما یہ نہیں پہچانتے مجھ کو کہ جو حسنین کریمین سےبغض رکھتا ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی محمد رسول اللہ سے بغض رکھتاہے
جیسا کہ فرمان ہے
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِی وَمَنْ أَبْغَضَہُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِی.
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا۔( سنن ابن ماجہ شریف، باب فضل الحسن والحسین ابنی علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہم. حدیث نمبر148)
یہ شہزادے تو وہ ہیں جن کا رونا بھی محبوب خدا کو نا گوار گزرتاہے
عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ زِیَادَۃَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَیْتِ عَائِشَۃَ فَمَرَّعَلَی بَیْتِ فَاطِمَۃَ فَسَمِعَ حُسَیْنًا یَبْکِیْ فَقَالَ اَلَمْ تَعْلَمِیْ اَنَّ بُکَائَہُ یُؤْذِیْنِیْ.
ترجمہ:سیدنازید بن ابی زیادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضرت رسول اللہ صلی علیہ وسلم ام المومنین حضرت عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہاکے حجرئہ مبارکہ سے باہرتشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کے دولت خانہ سے گزر ہوا ،امام حسین رضی اللہ عنہ کی رونے کی آوازسنی توارشادفرمایا:بیٹی کیا آپ کو معلوم نہیں!ان کارونا مجھے تکلیف دیتا ہے۔(نورالابصارفی مناقب ال بیت النبی المختار ص139 )
کیوں نہ ایسی حالت ہوتی جن کے بارے میں میرے پیارے مصطفی کا یہ فرمان ہو
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنُ ھُمٰا رُ یُحَانِیْ مِنَ الدُنْیَا حسن اور حسین دنیا کے میرے دو پھول ہیں (مشکوٰۃ شریف صفحہ 570)
ایک بار تو ایسا ہو ا کہ حضور نے ان کی خاطر منبر سے خطبہ فرماتے وقت خطبہ کو موقوف کر دیا ،منبر سے نیچے تشریف لائے اور ان کو اپنی گود میں لے لیا
جیسا کہ جامع ترمذی شریف سنن ابوداؤدشریف ،سنن نسائی شریف میں حدیث مبارک ہے
حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی: بُرَیْدَۃَ یَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَہُمَا وَوَضَعَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّہُ (إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ) فَنَظَرْتُ إِلَی ہَذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی قَطَعْتُ حَدِیثِی وَرَفَعْتُہُمَا.
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا حبیب اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہمیں خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سرخ دھاری دار قمیص مبارک زیب تن کئے لڑکھڑاتے ہوئے آرہے تھے توحضرت رسول اکرم ﷺ منبر شریف سے نیچے تشریف لائے امام حسن وامام حسین رضی ا للہ عنہما کوگود میں اٹھالیاپھر(منبر مقدس پر رونق افروز ہوکر)ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا،تمہارے مال اورتمہاری اولادایک امتحان ہے میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا سنبھل سنبھل کرچلتے ہوئے آرہے تھے لڑکھڑارہے تھے مجھ سے صبر نہ ہوسکا یہاں تک کہ میں نے اپنے خطبہ کو موقوف کرکے انہیں اٹھالیا ہے
امام حسین کی شہادت کے بارے میں بھی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی فرما دیا تھا
إِنَّ اِبْنِیْ ہَذَا یَعْنِی الْحُسَیْنَ یُقْتَلُ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِ الْعِرَاقِ یُقَالُ لَہَا کَرْبَلَاء ، فَمَنْ شَہِدَ ذَلِکَ مِنْہُمْ فَلْیَنْصُرْہُ- (البغوی وابن السکن والباوردی وابن مندہ وابن عساکر عن أنس بن الحارث بن منبہ-
ترجمہ:یقینا میرا یہ بیٹایعنی حسین رضی اللہ عنہ عراق کے ایک علاقہ میں شہیدکیا جائے گا، جسے کربلا کہا جائے گا،توافراد امت میں سے جو اس وقت موجود ہو اسے چاہئیے کہ ان کی نصرت وحمایت میں کھڑاہوجائے۔ (کنز العمال،حدیث نمبر34314-)
جبکہ شہید اور مخالفت کرنے والوں نے اس ارشاد کو بھولا دیا
الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔
ترجمہ:حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۔ (جامع ترمذی،ابواب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام .حدیث نمبر4136)
اور سردار اپنی شاہی میں اپنے فرمانبرداروں کو ہی ساتھ رکھتےہیں جو یہ سمجھتے ہیں اور منبروں پر سمجھاتےہیں کہ وہ سیاست کے لئے وہاں گئے تھے وہ خود اندازہ کر لیں کہ کس منہ سے وہاں حاضر ہوں گے
اس کو بھی و ہ بھول گئے کہ حضور ﷺ نے ا ن کو اپنے جاہ و جلال ،سرداری اور جرات و سخاوت کا وارث بنایا تھا
عَنْ فَاطِمَۃَ بنتِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّہَا أَتَتْ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَکْوَاہُ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ، فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ! ہَذَانِ ابْنَاکَ فَوَرِّثْہُمَا شَیْئًا، فَقَالَ:أَمَّا الْحَسَنُ فَلَہُ ہَیْبَتِی وَسُؤْدُدِی، وَأَمَّا حُسَیْنٌ فَلَہُ جُرْأَتِی وَجُودِی.
ترجمہ:خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرضِ وصال کے دوران حضرت حسن وحسین رضی اللہ تعالی عنہما کو آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض کیا : یا رسول اﷲ ﷺ!یہ آپ کے شہزادے ہیں، انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں! تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسن’ میرے جاہ وجلال اور سرداری کا وارث ہے اور حسین’ میری جرات و سخاوت کا۔ (معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر-18474جامع الاحادیث للسیوطی، مسانید النساء ، مسند فاطمۃ رضی اللہ تعالی عنہا حدیث نمبر: -43493 کنز العمال،باب فضل الحسنین رضی اللہ عنہما، حدیث نمبر37712)
آپ کی شہادت عظمی ،روز عاشورہ ،دس(10) محرم الحرام سنہ اکسٹھ(61) ہجری میں ہوئی، جیساکہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں نقل فرمایاہے
قال الزبیر بن بکار: قتل الحسین یوم عاشوراء سنۃ إحدی وستین وکذا قال الجمہور۔
سید الشہداء حضرت امام حسین سلام اللہ علیہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت کی شہرت بھی عام ہو گئی تھی ۔ حضرت علی ، حضرت فاطمۃالزہرا اور دیگر صحابہ ِ کبار و اہلِ بیت کے جان نثار رضی اللہ عنہم سبھی لوگ آپ کے زما نۂ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ارجمند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا اور ان کا خون نہایت بے دردی کے ساتھ زمین کربلا میں بہایا جائے گا۔ جیسا کہ ان احادیث کریمہ سے ثابت ہے جو آپ کی شہادت کے بارے میں وارد ہیں ۔جیسا کہ روایت میں مذکور ہے۔
حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک روز حضورﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہو کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کی گود میں دیا پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضور ﷺ کی مبارک آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کیا حال ہے ؟ فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے یہ خبر پہنچائی کہ اِنَّ اُمَّتِیْ سَتَقْتُلْ اِبْنِی میری امت میرے اس فرزند کو شہید کرے گی حضرت اُم الفضل کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! (امام حسین اس وقت گود مصطفی ﷺ میں تھے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )کیا اس فرزند کو شہید کرے گی! حضور ﷺ نے فرمایا ہاں پھر حضرت جبرئیل میرے پاس اس کی شہادت گاہ کی سرخ مٹّی بھی لائے (مشکوٰۃ صفحہ 572) اور ابن سعد اور طبرانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا آپ ﷺ نے فرمایا اِنَّ اِبْنِیْ اَلْحُسَیْنُ یُقْتَلْ بَعْدِ بِاَرْضِ الطَّفِ میرا بیٹا میرے بعد ارضِ طِف میں قتل کیا جائے گا۔ اور جبرائیل میرے پاس وہاں کی مٹی بھی لائے اور مجھ سے کہا کہ یہ حسین کی خوابگاہ (متقل) کی مٹی ہے (الصواعق المحرقہ، صفحہ 118) طف قریب کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتے نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دینے کے لئے اللہ سے اجازت طلب کی جب وہ فرشتہ اجازت ملنے پر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا تو اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور حضور ﷺ کی گود میں بیٹھ گئے تو آپ ان کو چومنے اور پیار کرنے لگے۔ فرشتے نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ حسین سے پیار کرتے ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا اِنَّ اُمَّتَکَ سَتَقْتُلْہ’ آپ کی امت حسین کو قتل کر دے گی۔ اگر آپ چاہیں تو میں ان کی قتل گاہ کی (مٹی) آپ کو دکھا دوں۔ پھر وہ فرشتہ سرخ مٹی لایا جسے اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے میں لے لیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اے ام سلمہ ! جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا حسین شہید کر دیا گیا۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس مٹی کو ایک شیشی میں بند کر لیا جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن خون ہو جائے گی۔ (الصواعق المحرقہ، صفحہ 118)
اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کوچھ شہزاد ے اورتین شہزادیاں عطا فرمائیں (1)حضرت علی اکبررضی اللہ عنہ (2)حضرت علی اوسط (امام زین العابدین رضی اللہ عنہ) (3) حضرت علی اصغررضی اللہ عنہ (4)حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ(5)حضرت محمد رضی اللہ عنہ (6)حضرت جعفررضی اللہ عنہ (1)حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا(2) حضرت سیدہ سکینہ رضی اللہ عنہا(3)حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاہیں-(نورالابصارفی مناقب اٰل بیت النبی المختار،ص:52، للعلامہ شبلنجی مولود1250ھ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں