Seerat-ul-Nabi 189

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ فرمانرواؤں کودعوتی خطوط

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ فرمانرواؤں کودعوتی خطوط
یہ ہولناک منظر دیکھ کر حضرت عمرو بن امیہ رضی الله عنہ کے ساتھی نے پوچھا:
“اب کیا رائے ہے۔”
حضرت عمرو بن امیہ رضی الله عنہ بولے:
“میری رائے ہے کہ ہم رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس چلے جائیں اور اس سانحے کی خبر دیں ۔”
اس پر ان کے ساتھی نے فرمایا:
“مگر جس جگہ منذر بن عمرو رضی الله عنہ جیسا آدمی شہید ہوچکا ہے،میں وہاں سے اپنی جان بچا کر نہیں جاؤں گا۔”
“اچھی بات ہے…میں بھی تیار ہوں ۔”
اب دونوں نے تلواریں سونت لیں ۔دشمن کو للکارا اور ان سے جنگ شروع کردی…
آخرکار حضرت عمرو بن امیہ رضی الله عنہہ گرفتار ہوگئے جب کہ ان کے ساتھی صحابی شہید ہوگئے۔عامر بن طفیل کی ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مان رکھی تھی…اس نے اپنی ماں کی منت پوری کرنے کی خاطر عمرو بن امیہ رضی الله عنہ کو آزاد کردیا۔یہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنایا۔آپ صلی الله علیہ وسلم کو بہت رنج ہوا۔سارے صحابہ غمگین ہوگئے۔
اس کے بعد آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے عامر بن طفیل کے لیے بددعا کی۔بددعا کے نتیجہ میں وہ طاعون کے مرض میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوگیا۔
بئر معونہ کی لڑائی کی خاص بات یہ ہے کہ ان شہید ہونے والے صحابہ میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی الله عنہہ بھی تھے، جب یہ شہید ہوئے تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی نعش کو اوپر اٹھالیا۔ان کی لاش پھر زمین پر اتاردی گئی۔انہیں قتل ہونے والوں میں تلاش کیا گیا۔لیکن کی لاش نہ ملی… یہ بات سن کر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“عامر بن فہیرہ کی لاش کو فرشتوں نے دفن کیا ہے۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو اس واقعہ سے اتنا صدمہ ہوا تھا کہ مسلسل ایک ماہ تک صبح کی نماز میں دعائے قنوت نازلہ پڑھتے رہے اور بئر معونہ پر شہید کیے جانے والے صحابہ کے قاتلوں کے حق میں بددعا کرتے رہے۔اسی طرح آنحضرت صلی الله علیہ وسلم واقعہ رجیع کے قاتلوں کے حق میں بھی بددعا فرماتے رہے۔
غزوہ تبوک کے بعد سرایا بھیجے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔اس دوران آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں ہر طرف سے وفد آنے لگے۔یعنی لوگ وفدوں کی شکل میں آ آ کر اسلام قبول کرنے لگے۔ایک روز بنی حنیفہ کا وفد آیا۔اس میں مسیلمہ کذاب بھی تھا۔ان لوگوں نے اس شخص کو کپڑوں میں ڈھانپ رکھا تھا۔اس وقت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم صحابہ کرام رضی الله عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ٹہنی تھی۔ٹہنی کے سرے پر کچھ پتے بھی تھے۔مسیلمہ نے آپ کے نزدیک آکر کہا:
“آپ مجھے اپنی نبوت میں شریک کرلیجئے ۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اس کی بے ہودہ بات کے جواب میں ارشاد فرمایا:
“اگر تو مجھ سے یہ ٹہنی بھی مانگے تو میں تو تجھے یہ بھی نہیں دے سکتا۔”
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اس کی آمد سے پہلے یہ صحابہ کرام سے فرما چکے تھے کہ میں نے دیکھا ہے کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے ہی میں مجھے وحی کی کہ ان پر پھونک ماریں ۔میں نے پھونک ماری تو ت دونوں کنگن اڑگئے۔اس سے میں نے یہ تعبیر لی کہ دو کذاب یعنی جھوٹے نبی ظاہر ہونے والے ہیں ۔
یہ دو جھوٹے طلیحہ اور مسیلمہ تھے۔طلیحہ تو یمن کے شہر صنعا کا رہنے والا تھا اور مسیلمہ عمامہ کا۔
دونوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی زندگی مبارک ہی میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا تھا۔
اس وقت یہی مسیلمہ آیا تھا۔واپس اپنے لوگوں میں جاکر اس نے یہ بات اڑادی کہ محمد صلی الله علیہ وسلم نے مجھے نبوت میں حصے دار بنالیا ہے۔پھر یہ قرآن کریم کی آیات کی نقالی میں …اوٹ پٹانگ قسم کے عربی جملے بولنے لگا…اور لوگوں سے کہنے لگا کہ مجھ پر یہ وحی آئی ہے…اپنی الٹی سیدھی کرامات دکھانے لگا…فرضی معجزات دکھانے لگا…اس طرح لوگ اس کے گرد جمع ہونے لگے۔اس روسیاہ نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو ایک خط بھی لکھا تھا…اس میں لکھا:
“مجھے آپ کی نبوت میں شریک کرلیا گیا ہے… ہم دونوں آدھے آدھے کے مالک ہیں مگر قریش کے لوگ انصاف پسند نہیں ہیں ۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہ خط لکھوایا:
“بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم ۔یہ خط محمد صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام ہے۔سلامتی ہو اس پر جس نے ہدایت اور سیدھے راستے کی پیروی کی۔اما بعد!یہ روئے زمین اللّٰہ کی مالک ہے۔وہ اپنے بندوں میں جسے چاہے،اس کا وارث بنادے۔درحقیقت بہتر انجام تو اللّٰہ سے ڈرنے والوں کا ہی ہوتا ہے۔”
آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ خط دو قاصدوں کے ذریعے بھیجا۔اس نے خط پڑھ کر ان دونوں سے کہا:
“کیا تم بھی وہی بات کہتے ہو جو انہوں نے لکھا ہے؟ ”
جواب میں دونوں قاصدوں نے فرمایا:
“ہاں ! ہم بھی یہی کہتے ہے۔”
اس پر اس نے کہا:
“اگر قاصدوں کو قتل کرنا دستور کے خلاف نہ ہوتا تو میں تمہاری گردنیں ماردیتا۔”
اس جھوٹے کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے دور میں جنگ لڑی گئی۔اس جنگ کو جنگ یمامہ کہتے ہیں ۔اس میں مسیلمہ کذاب حضرت وحشی بن حرب رضی الله عنہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔حضرت وحشی رضی الله عنہ وہ ہیں جن کے ہاتھوں غزوہ احد میں حضرت حمزہ رضی الله عنہ شہید ہوئے تھے…بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔
حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے دنیا کے بادشاہوں کے نام خطوط لکھوائےاور ان خطوط میں ،ان بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی۔روم کے بادشاہ ہرقل کو بھی خط لکھوایا،یہ خط حضرت دحیہ کلبی رضی الله عنہہ لے کر گئے۔روم کے بادشاہ خود کو قیصر کہلواتے تھے۔
قیصر نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے خط کا احترام کیا…لیکن ایمان لانا اس کے مقدر میں نہیں تھا۔اسی طرح حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایران کے بادشاہ کسریٰ پرویز کے نام خط لکھوایا۔یہ خط عبداللہ سہمی رضی الله عنہ لے کر گئے۔اس نے خط سننے سے پہلے ہی اسے چاک کرنے کا حکم دیا۔اس کے حکم پر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا خط پھاڑ کردیا گیا۔اس نے اپنے دربار سے قاصد کو بھی نکال دیا۔حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی الله عنہ اپنی سواری پر بیٹھے اور واپس روانہ ہوئے۔مدینہ منوره پہنچ کر انہوں نے ساری تفصیل سنادی۔
یہ سن کر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“کسریٰ کی حکومت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔”
ادھر کسریٰ پرویز نے اپنے یمن کے حاکم کو لکھا:
“مجھے معلوم ہوا ہے کہ قریش کے ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔تم فوراً اسے گرفتار کرکے میرے پاس بھیج دو۔”
یمن کے گورنر بازان نے دو آدمی بھیج دیئے،دونوں مدینہ پہنچ کر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ان کی داڑھیاں منڈی ہوئی اور مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں ۔آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ان کے حلیے دیکھ کر فرمایا:
“تمہارا برا ہو!یہ تم نے اپنے چہرے کیسے بنارکھے ہیں ۔تمہیں ایسا حلیہ اختیار کرنے کا حکم کس نے دیا؟ ”
جواب میں وہ بولے:
“ہمارے پروردگار کسریٰ نے۔”
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے یہ سن کر ارشاد فرمایا:
“اب جاؤ اور کل میرے پاس آنا۔”
دونوں چلے گئے اس دوران اللّٰہ تعالیٰ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے خبر دی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کسریٰ پر اس کے بیٹے کو مسلط کردیا ہے،وہ فلاں مہینے اور دن اسے قتل کردے گا۔
اس وحی کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلایا اور یہ اطلاع انہیں دی۔ساتھ ہی آپ صلی الله علیہ وسلم نے بازان کے نام خط لکھوایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ کسریٰ کو فلاں مہینے اور فلاں دن قتل کردے گا۔
بازان کو یہ خط ملا تو اس نے سوچا،اگر وہ نبی ہیں تو جیسا انہوں نے لکھا ہے،ویسا ہی ہوگا۔
چنانچہ اسی طرح ہوا…اس کے بیٹے شیرویہ نے اسی دن اسے قتل کردیا جس کی پیشن گوئی ہوچکی تھی۔بازان کو جب یہ اطلاع ملی تو اس نے فوراً آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں قاصد بھیجا اور اپنے اور اپنے ساتھیوں کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع دی۔
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی کے نام بھی خط لکھوایا۔نجاشی کے پاس جب یہ خط پہنچا تو انہوں نے اس مکتوب مبارک کو آنکھوں سے لگایا،تخت سے اتر کر زمین پر آبیٹھے اور اسلام قبول کیا۔پھر ہاتھی دانت کی صندوقچی منگوا کر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خط مبارک اس میں ادب سے رکھا۔اس خط کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے نام ایک دوسرا خط بھی لکھوایا۔اس میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے لکھوایا کہ نجاشی حضرت اُمّ حبیبہ رضی الله عنہا سے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا نکاح کردیں ۔
نجاشی نے اس خط کو بھی چوما…آنکھوں سے لگایا اور حکم کی تعمیل کی اور حضرت اُمّ حبیبہ رضی الله عنہا سے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا نکاح پڑھایا۔یہ دونوں خط حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ لے کر گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں