57

فتح مصر کی تاریخ | Muslims Conquest of Egypt

Muslims Conquest of Egypt

سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کے وصال تک مسلمان اپنے اندرونی مسائل پر قابو پا چکے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ارگرد کے علاقے فتح کر نے کے بعد اپنی توجہ بیرونی فتوحات پر مبذول کردی۔ مسلمانوں نے اپنا رخ ایران، مصر اور افریقہ کی جانب کر لیا۔ مصر اس وقت سلطنت روما کا حصہ تھا اور خطے میں میدانی علاقوں اور دریائے نیل کی وجہ سے سرسبزو شاداب تھا۔ مصر کی فتح سے نہ صرف اسلام افریقائی ممالک تک پھیل جاتا بلکہ مسلمانوں کی فوجی اور معاشی طاقت میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جاتا۔
فاتح مصر:
اس سے پہلے کہ مصر کی فتح کے بارے میں لکھا جائے، ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس جلیل القدر ہستی کامیں مختصر تعارف پیش کیا جائے جنہوں نے مصر کو فتح کیا۔ فاتح مصر و فلسطین حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ قریش کے ایک مشہور و معروف سردار العاص بن وائل کے فرزندتھے۔ آپؓ کی صلاحیتوں اور کوششوں کی وجہ سے اسلام کو بہت تقویت پہنچی ۔ آپؓ فہم وفراست، علم و ادب ، جنگی تجربے، بہادری اور عزمِ مصمم کی بدولت اسلام کے نامی گرامی سپہ سالاروں میں شمار ہوتے ہیں۔انہوں نے آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی اسلام کی سربلندی کے لئے تلوار اٹھائی اور کئی غزوات و سرایا میں شرکت کی ۔ انہوں نے خلیفہ راشد اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور خلیفہ راشد دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں کئی مشہور جنگیں لڑیں اور اللہ تعالیٰ کی نصرت سے سب میں ہی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے مشہور ترین معرکوں میں شام، فلسطین اور مصر شامل ہیں۔ مصر کی فتح کے بعد خلفیہ راشدحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو مصر کا گورنر مقرر فرمایا۔اپنی گورنری کے دوران انہوں نے مصر میں ایک نیا شہر فسطاط بسایا اوربحیرہ روم سے دریائے نیل تک نہر سویز کھدوائی جو ان کی وفات کے اسی سال بعد تک چلتی رہی ۔
وجوہات :
ساتویں صدی عیسوی میں مصر سلطنت روم کا بہت زرخیز اور شاداب علاقہ تھا۔ یہاں غلہ کی فراوانی کے علاوہ معدنیات کی بھی بہتات تھی۔ اس کے علاوہ مصر علوم و فنون، صنعت اور تجارت وزاعت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ دوسری طرف مصر کے مقامی باشندے رومیوں کے ظلم و ستم سے سخت نالاں تھے۔ ان کی مذہبی آزادی صلب ہو چکی تھی۔ فلسطین کی فتح کے موقع پر جب سیدناحضرت عمر فاروقؓ بیت المقدس تشریف لے گئے تو حضرت عمرؓ بن العاص نے ان سے مصر پر فوج کشی کی اجازت مانگی۔ مدینہ پہنچ کر غور و فکر اور مشورے کے بعد حضرت عمرؓ نے مصر پر فوج کشی کی اجازت دے دی۔
مسلمان فوج کی کامیابی کی وجوہات:
حملہ آور مسلمان فوج جنگی حکمت عملی میں رومی سپاہ سے کہیں برترتھی۔ جنگی اعتبار سے ان کو یہ خصوصیت حاصل تھی:
۱۔ مسلمان کم تعداد کے باوجود دفاعی حکمت عملی اختیار نہیں کرتے تھے اور جارحانہ لڑتے تھے۔
۲۔حیران کن کارروائی اور برق رفتاری سے دشمن کو قلعوں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیتے تھے ۔ وہ چھپ کر ناگہانی حملہ کر کے دشمن کو برباد کرنے میں ماہر تھے۔ ان کی تیزرفتاری کارازان کے برق رفتار عربی گھوڑے تھے۔
۳۔وہ دشمن کے اہم ترین مقامات پر پوری قوت سے حملہ کرتے تھے اور دشمن کے مرکز کو سب سے پہلے تباہ کردیتے تھے۔
۴۔ وہ موقع کے مطابق اپنی جنگی پالیسی میں تبدیلی لاتے تھے۔
۵۔وہ مفتوح قوم کے نجی معاملات میں دخل دینے کی بالکل کوشش نہیں کرتے تھے۔
۶۔بہترین قیادت، بلند حوصلہ سپاہی اور شوق شہادت ،مسلمانوں کے پاس یہ تینوں چیزیں موجود تھیں۔
۷۔ مسلمان مسلسل لڑائیوں کی وجہ سے نڈر، بے خوف اوربے حد تجربہ کار ہو چکے تھے۔
واقعات:
جب عرب میں چاروں طرف مسلمانوں کی فتوحات کا آغاز ہو گیا تو سلطنت روما بھی اندر سے ہل کے رہ گئی۔قیصر روم مصر پر ہر حالت میں قابض رہنا چاہتا تھا لیکن اس نے مسلمانوں کی جنگی قابلیت کا اند ازہ بھی لگا لیا تھا۔اس لئے اس نے تیزی سے اپنی فوجی طاقت بڑھانا شروع کر دی۔ بری فوج کے علاوہ سمندری بیڑے میں بھی اضافہ کر دیا۔شمال سے آنے و الے تمام راستوں پر جگہ جگہ بھاری بھای فوجی دستے بٹھا دئیے۔ اس نے قلعوں اور فصیلوں کو اور مضبوط کر دیا۔چونکہ شام اور فلسطین میں رومی کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود کھلے میدان میں بار بار مسلمانوں سے شکست کھا چکے تھے اس لئے رومی سپہ سالاروں نے یہ فیصلہ کیا کہ رومی فوج ہر مقام پر قلعہ بند ہو کر دفاعی جنگ لڑے گی، یوں ان سے جارحانہ پن چھن گیا۔ رومی فوج کے پاس سامان رسد وحرب کی کوئی کمی نہ تھی، اس لئے محصور رومی فوج جنگ کو کافی طول دینے کے قابل تھی۔ قیصر روم نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اگر بہت کم تعداد میں کوئی عرب دستہ کھلے علاقے میں قلعے کے قریب پا یا جائے تو قلعے سے باہر نکل کر اسے زیادہ سے زیادہ تباہ کر دیا جائے۔رومی سپہ سالار کو یقین تھا کہ مسلمان قلعہ بند فوج کو شکست دینے میں ناکام رہے تو واپس ہو جائیں گے۔ اس کے بر عکس عربوں کے پاس قلعہ کے شیان شان سامان نہ تھاا ور نہ ہی انہیں اس قسم کی دفاعی پوزیشن کو سر کرنے کا تجربہ تھا۔دریائے نیل اور اس کے بے شمار معاون دریاؤں اور ندی نالوں کو پار کرنے کے لئے مسلمانوں کے پاس کوئی سامان نہ تھا۔ مدینہ مصر کی سرحد سے تقریباً ایک ہزار میل دور تھا۔ لہذاوہاں سے کمک کا آنا بھی مشکل تھی۔ رومیوں میں اتنی طاقت تھی کہ وہ مسلمانوں کا کامیابی سے مقابلہ کر سکتے اور جنگی توازن کو اپنے حق میں بر قرار رکھنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ لیکن جب تک وہ فوج دفا عی پوزیشن سے نکل کر کامیاب جارحانہ کارروائی نہ کرتے مکمل فتح حاصل نہیں کر سکتے تھے۔
شروع میں خلیفہ وقت کے حکم کے مطابق اسلامی لشکر کی کارروائی لڑ نے کی بجائے دیکھ بھال تک محدود تھی۔ حضرت عمروؓ بن العاص نے پہلے مرحلہ کی تکمیل کے لئے یہ تجویز بنائی کہ دریائے نیل کے مشرقی کنارے کے مقامات میں موجود رومی فوج کے ساتھ الگ الگ لڑائی کی جائے۔ اگر حالات اجازت دیں تو زیادہ سے زیادہ مقامات فتح کرلئے جا ئیں۔حضرت عمر ؓ بن العاص نے اللہ کا نام لے کر مصر ی سرحد کو پار کیا اور ۱۰ ذی الحج ۱۸ھ بمطابق ۱۲ دسمبر ء۶۳۹ کو رومیوں کو العریش کے مقام پر شکست دے کر پیش قدمی جاری رکھی۔ عمرؓ بن العاص نے وہی راستہ اختیار کیا جس پر کئی صدیاں قبل حضرت ابراہیم ؑ نے مصر کا سفر طے کیا تھا۔ یہ وہی راستہ تھا جس پر حضرت یوسفؑ کوقافلے وا لے مصر لے گئے تھے۔ اسی راستہ کو اختیا ر کر کے کئی فرعون اپنی فتوحات کے لئے شمال کی جانب حملہ آور ہوئے تھے۔ اسی راستہ کے سکندر اعظم بابل اور پومئی کے حکمرانوں مصر پر حملہ آور ہوا تھا۔ العریش کے بعد حضرت عمروؓ بن العاص نے الفرما (پیلوزیم) کے قلعہ نما شہر پر حملہ کیا۔ ایک ماہ کے محاصرے کے بعد اسلامی دستے شہر کے اندر داخل ہو گئے اور رومی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے۔ یہاں مسلمانوں کے قبضہ میں کافی مال غنیمت آیاجس میں سامان رسد بھی تھا جسکی مسلمانوں کو اشد ضرورت تھی۔ الکبیر شہر کو فتح کرتے ہوئے اسلامی لشکر بلبیس کے مقام پر پہنچ گیا جہاں رومی فوج قلعہ بند ہو چکی تھی اور ایک ماہ کے محاصرہ کے بعد رومی فوج نے ہتھیا ڈال دئیے۔اس دوران اسلامی لشکر کی پیش قدمی جاری رہی۔ مئی ۶۴۰ تک دریائے نیل کے ساتھ ساتھ تقریباً دو سو پچاس میل کا علاقہ مسلمانوں نے بہت کم نقصان کے بدلے فتح کر لیا تھا۔ ابتدائی لڑائی میں حضرت عمروؓ بن العاص کویقین ہو گیا کہ محصور رومی فوج کی مدد کے لئے دوسرے مقامات سے رومی سپہ سالار فوج بھیجنے سے کتراتا ہے۔ اس لئے انہوں نے ہر مقام پر رومی فوج کے ساتھ کامیابی سے جنگ کی۔فتح مصرکا دوسرا مرحلہ بابیلون کے اہم مقامات کی فتح تھا۔ یہ شہر دریائے نیل کے کنارے پر تھا۔ دراصل یہ قلعہ اور شہر موجود ہ قارہ کے نواح میں تھے۔ بابیلون کا قلعہ پرانا اور کئی سو سال قبل بنایا گیا تھا۔ اہم مقامات ہونے کے باعث یہاں ہر حملہ آورآتا تھا۔ اس لئے یہ قلعہ بہت مضبوط اور وسیع بنا گیا تھا۔بابیلون کے مقام پر بیس ہزار موجود رومی فوج نے اسلامی کمک اور حضرت عمرؓ بن العاس کے لشکرکو آپس میں متحد ہونے سے روکنے کی کوئی کوشش نہ کی ۔ راستہ میں انہوں بابیلون کے شمال میں چند میل واقع ایک اہم فوجی چوکی ام دنین بھی فتح کر لی۔ اس حملے میں حضرت زبیر بن عوامؓ پیش پیش رہے۔( نوٹ: حضرت زبیر بن عوامؓ حضورؐ کے بہت قریبی صحابی تھے۔ وہ حضرت ابوبکرؓ کے داماد تھے اور حضرت اسماءؓ ان کی زوجہ تھیں۔)
جولائی ۶۴۰ کو تھیوڈور نے عرب فوج کے متحد ہونے کے بعد حیلو پولس کے مقام پر جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسلامی سپہ سالار نے اپنی فوج کی ایک اونچے مقام پر صف بندی کی۔ تیز رفتار دستے بھی رومی فوج کے دائیں بائیں حیران کن کارروائی کے لئے چھپا دئیے گئے۔ لڑائی شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد دونوں تیز رفتار اسلامی دستے دشمن پر تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد ٹوٹ پڑے۔ اس اچانک کارروائی سے گھبرا کر رومی فوج بھاگ نکلی اس دوران بہت سے رومی فوجی مارے گئے۔ ادھربابیلون کا محاصرہ تنگ کر دیا گیا لیکن شمالی علاقہ کی فتوحات جاری رکھی گئیں۔ بابیلون کے شمال میں تقریباً چالیس میل دور مانوف اور اثرب کے دو شہروں پر قبضہ کر لیا گیا۔
سائرس کو مکمل شکست کایقین ہو گیا تھا۔ اس نے جزیہ دینا قبول کیا اور رومیوں اور مصریوں کو آزادی دے دی گئی۔البتہ یہ شرط رکھی کہ جب تک معاہدہ کی منظوری ہرقل روم سے نہ ہو جائے جنگی حالات بدستور قا ئم رکھے جائیں گے۔ یعنی بابیلون کا قلعہ مسلمانوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ لیکن ہرقل نے یہ شرط منظور نہ کی اور گورنر سائرس پر بہت ناراض ہوااور اس کے تما م اعزاز ات چھین کر اسے ملک بدر کر دیا۔ اس خبر سے جنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔بابیلون کے قلعہ کا سات ماہ تک محاصرہ جاری رہا۔ کئی مقامات پر ر ومیوں کو بھاری نقصان سے پسپا کر دیا۔ آخر مارچ ۶۴۱ء کے دوران ہرقل کی موت کی خبر نے محصور فوج کے حوصلے پست کر دئیے۔
حضرت زبیرؓ بن عوام کا حیرت انگیزکارنامہ:
ایک روز حضرت زبیرؓ بن عوام نے تمام خطرات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چند ساتھیوں کے ہمراہ نہایت دلیری سے قلعہ کی دیوار پر چڑھ گئے اور محافظوں کو موت کے گھاٹ اتار کر قلعے کا دروازہ کھول دیا۔ اس طرح یہ مضبوط قلعہ سر کر لیا گیا اور بابیلون کی محصور فوج نے ہتھیار ڈال دیئے۔مسلمانوں کے ہاتھ بے شمارمال غنیمت اور سامان رسد و حرب آیا۔
فتح مصر کے تیسرے مرحلہ میں شمالی مغربی علاقوں کی فتح شامل ہے۔ہرقل کے مرنے کے بعد کوئی مؤثر قیادت نہ رہی۔ حضرت عمر بن العاصؓ نے نومبر ۶۴۱ء میں مصر ایک سال میں خالی کرنے کا معاہدہ کرلیا۔ ستمبر ۶۴۲ میں سکندریہ پر مسلمانوں کا بغیر کسی مزاحمت قبضہ ہو گیا اور رومیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اسطرح مصر کی فتح مکمل ہو گئی۔یہاں سکندریہ کے قطب خانہ کو جلانے کا الزام بھی مسلمانوں پر غلط ہے۔فتوحات مصر کے بعد پورے پانچ سوسال تک کسی مورخ نے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ بقول ہتی اور امیر علی کے سکندریہ کے کتب خانے کو ۴۸ قبل مسیح میں جولیس سیزر نے جلایا تھا۔چند مورخین کے مطابق مسلمانوں نے یہاں ایک پرانی تباہ شدہ نہر کے نشانات دیکھے تھے جو غالباً بحیرہ روم کو بحیرہ احمر سے ملاتی تھی۔ یہ نہرموجودہ سویز کی جگہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نہر کو مسلمانوں نے بحال کر نے کی کوشش مگر حالات نے انہیں اجازی نہ دی ۔ایک مؤرخ کے مطابق یہ نہر مرمت کر دی گئی ۔
فیوم کے زرخیز علاقے پر اسلامی لشکر کے قبضہ سے بے شمار سامان رسد وغیرہ ہاتھ آیا۔ حضرت عمروؓ بن العاص نے بابلیون کو فتح کر نے کا فیصلہ کیا۔ ابھی ایک ماہ گزرا تھاکہ رومی گورنر سائرس نے مسلمانوں سے صلح کرنے کا ارادہ کیا۔ سائرس نے ایلچیوں کے ذریعے اسلامی سپہ سالار کو بھاری رقم کی پیش کش کی جس کے عوض مسلمان مصر کو خالی کر دیں۔ مگر انہیں بتا یا گیاکہ یا تو وہ لوگ اسلام لے آئیں یا جزیہ ادا کریں یا پھرلڑ کر فیصلہ کریں۔سائرس نے مزید بھاری رقم کی پیش کش کی کہ مسلمان مصر سے نکل جائیں۔سائرس کو مکمل شکست کا یقین ہو گیا تھا اس نے جزیہ دینا قبول کیا۔ رومیوں اور مصریوں کو مذہب کی مکمل آزدی دے دی گئی۔قلعہ فتح کرنے پر مسلمانوں کے ہاتھ بے شمار مال غنیمت اور سامان رسد وحرب لگا۔ایک روایت کے مطابق دریائے نیل میں بروقت طغیانی نہ آنے کی وجہ سے علاقے میں قحط پھیلنے لگا ۔ کھیت خشک ہو چکے تھے۔مقامی باشندے ایسی حالت میں ایک حسین وجمیل دوشیزہ کو دریا میں بہایا کرتے تھے تاکہ اس کی قربانی کے عوض دریا میں طغیانی آجائے۔حضرت عمرؓ کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے یہ رسم فوراً بند کرنے کا حکم دیا اور ایک خط میں کلام الہی لکھ کر بھیجا اور دعا فرمائی کہ نیل میں طغیانی آجا ئے۔مورخین کے مطابق خط کے ڈالنے کے بعد واقعی دریائے نیل میں طغیانی آگئی اور علاقہ سیراب ہو گیا جس کی وجہ سے قحط ٹل گیا۔۔بابیلون کے شمال میں چالیس میل طالیہ کے قلعہ کے باہر ایک جھڑپ میں رومی بھاگ گئے۔ طالیہ سے دس میل قریب اشمون کا شہر دریا کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔مسلمان دریا کو عبور کر کے اس قلعہ نما شہر پر حملہ آور ہوئے۔ حیرت کا مقام ہے کہ رومی سالار نے مسلمانوں کو دریا بغیر کسی مزاحمت کے عبور کرنے دیا۔ حالانکہ وہ چند دستوں سے عبور کرتے ہوئے مسلمانوں کودریامیں ڈبوسکتے تھے۔ مگر عربوں کو دریا میں گھوڑے ڈالتے اور برق رفتاری سے پیدل دریا عبور کرتے دیکھ کر رومیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ خوفزدہ ہو کر رومی سالار کچھ فوج لے کر وہاں سے بھاگ گیا۔ قوم کے مقام پر رومی ایک سخت جھڑپ کے بعدشمال کی جانب پسپا ہو گئے۔دمہ نامی شہر بغیر کسی مزاحمت فتح ہو گیا۔ جگہ جگہ شکست کھانے کے بعد رومیوں کے حوصلے پست ہو چکے تھے۔ اہل مصر مسلمانوں کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر اب ان کا ساتھ دے رہے تھے۔
نتائج:
اب مصر کا تمام زرخیز علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آچکا تھا۔سکندریہ شہر سکندر اعظم نے تعمیر کر وایا تھا جو اپنی خوبصورتی ،استحکام، فصیلوں، عمارتوں اور باغوں کے لحاظ سے یکتائے زمانہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور جغرافیائی لحاط سے بھی بڑی اہمیت رکھتا تھا، اب مسلمانوں کے قبضے میں تھا۔ مصر کی فتح کے اثرات اور نتائج مندرجہ ذیل تھے:
* ۔مصر کے وسیع و عریض اور سر سبز علاقے پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ یوں تو مصر اس وقت ایک صوبہ تھا لیکن یہ ایک بہت بڑا ملک بھی تھا جو تمام وسائل کے ساتھ مسلمانو ں کے قدموں میں ڈھیر ہو گیا۔
*۔مسلمان افواج ایشیا میں سے نکل کر افریقہ میں داخل ہوگئیں جس کی وجہ سے براعظم افریقہ میں مسلمان فتوحات شروع ہوئیں۔
*۔مسلمانوں کی پے درپے فتوحات نے ریاست مدینہ کو قیصر و کسریٰ کانعم البدل کے طور پر سامنے لایا ۔اب مسلمان ایک عالمی قوت اور سپر پاور بن چکے تھے۔
* ۔فتح مصر سے ریاست مدینہ کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ہوا۔
*۔ اسلام کا بول بالا ہوا۔ اسلام صحرائے عرب سے نکل کر ایشیا اور افریقہ تک پہنچ گیا۔ اس دوران اسلام کی حقانیت، عالمگیریت اور سچائی سے متاثر ہو کر اہل مصر کی کثیر تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔
*۔ مصر کی فتح مستقل اور پائیدار ثابت ہوئی اور اس کے بعد مصر پر غیر مسلم پھرکبھی دوبارہ قبضہ نہ کر سکے۔ مسلمانوں پر مصر پر قبضے کے بعد آج تک مصر اسلام کا مرکز رہا ہے اور آج بھی مصر میں مسلمانوں کی حکومت ہے جہاں قاہرہ یونیورسٹی صدیوں سے علم کے متلاشیوں کی نگاہ کا مرکز رہی ہے۔
*۔ مسلمانوں نے مصر میں مضبوط اور دیرپا تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی جو آج تک قائم دائم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں