34

غیرملکی ادائیگیوں میں عدم توازن اور مہنگائی، اسٹیٹ بینک نے شرح سود ڈھائی فیصد بڑھادی، ڈالر 190 کا ہوگیا

کراچی،اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) غیر ملکی ادائیگیوں میں عدم توازن اور مہنگائی،اسٹیٹ بینک نے شرح سود ڈھائی فیصد بڑھادی، پالیسی ریٹ 12.25فیصد ہوگیا، ایکسپورٹ ری فنانسنگ ریٹ بڑھاکر 5.5فیصد کردیا گیا،گزشتہ ہفتہ کے دوران ریکوڈک منصوبہ کے تصفیہ کی مد میں بھاری ادائیگی کے بعد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 70کروڑ ڈالرز، اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں72کروڑ ڈالرز سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر 190کا ہوگیا، انٹر بینک میں ڈالر 188روپے تک جاپہنچا، سونا فی تولہ 1500روپے مہنگا ہوکر ایک لاکھ 34ہزار 300 روپےکا ہوگیا، واجبات کی عدم ادائیگی پر آئی پی پیز کو آئل سپلائی بند ، 4دن کا اسٹاک رہ گیا۔تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز اسٹیٹ بینک میں منعقد ہوا،زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ زری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد سے مہنگائی کا منظرنامہ مزید بگڑ گیا ہے اور بیرونی استحکام کو درپیش خطرات بڑھ گئے ہیں،ملک میں موجودہ سیاسی و آئینی بحران اور روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 2.5فیصد اضافہ کا اعلان کردیا جس کے بعد شرح سود9.75فیصد سے بڑھکر 12.25 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ پچھلے اندرونی اور بیرونی عوامل کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے یہ چیلنجز شرح مبادلہ کے ساتھ سرمایہ کاورں اور کاروباری طبقہ کے اعتماد پر بھی اثر انداز ہورہے ہیں، ملک میں فارن ایکس چینج کی صورتحال اور مالیاتی نظام میں استحکام لانے کے لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 2.5فیصد اضافہ کردیا ہے اس کے ساتھ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح سود بھی 3فیصد سے بڑھا کر 5.5فیصد کردی گئی جبکہ لگژری آئٹمز اور تیار مصنوعات کی درآمدات محدود کرنے کے لیے کیش مارجن کی شرط کی حامل اشیاء کی فہرست میں مزید مصنوعات کا اضافہ کردیا گیا ہے ، ان اقدامات کا مقصد ملک میں فارن ایکس چینج کی صورتحال اور مالیاتی نظام میں استحکام لانا ہے۔ادھر گزشتہ ہفتہ کے دوران ریکوڈک منصوبہ کے تصفیہ کی مد میں بھاری ادائیگی کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر18جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر12ارب ڈالرز کی سطح سے بھی نیچے آگئے۔دوسری جانب کرنسی مارکیٹ ، تجارتی ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں مسلسل اضافے اور ملکی زرمبادلہ کےذخائر میں کمی کے باعث پاکستانی روپے پر شدید دبائو،ڈالر کی قیمت بلندی کی جانب گامزن، انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 188 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 190 روپے تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ،فاریکس ایسوسی ایشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جمعرات کو انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت خرید 2.10 روپے کے اضافے سے 186.10 روپے سے برھ کر 188.20 روپے اور قیمت فروخت 2.15 روپے کے اضافے سے 186.25 روپے سے بڑھ کر 188.40 روپے ہو گئی ہے،دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید 2.50روپے کے اضافے سے 186.50 روپے سے بڑھ کر 189.00 روپے اور قیمت فروخت 3 روپے کے اضافے سے 187.00 روپے سے بڑھ کر 190.00 روپے ہو گئی ہے ،فاریکس رپورٹ کے مطابق یورو کی قیمت خرید 1.50 روپے کے اضافے سے 201.00 روپے سے بڑھ کر 202.50 روپے اور قیمت فروخت 2 روپے کے اضافےسے 203.00 روپے سے بڑھ کر 205.00 روپے ہو گئی ہے جبکہ برطانوی پاونڈ کی قیمت خرید 2 روپے کے اضافے سے 241.00 روپے سے برھ کر 243.00 روپے اور قیمت فروخت 2.50 روپے کے اضافے سے 243.50 روپے سے بڑھ کر 246.00 روپے ہو گئی ہے۔ روپے کے مقابلے پر ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث سونا بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ایک ڈالر فی اونس کے اضافے سے 1926 ڈالر سے بڑھ کر 1927 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے تاہم ڈالر کی قیمت بڑھنے کے سبب مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 1500 روپے فی تولہ کے اضافے سے ایک لاکھ 34ہزار 300 روپے اور 10 گرام سونے کی قیمت 1286 روپے کے اضافے سے ایک لاکھ 15ہزار 141 روپے ہو گئی ہے جو کہ ملکی تاریخ میں سونے کی قیمت کا نیا ریکارڈ ہے ،جبکہ چاندی کی قیمت 1520 روپے فی تولہ پر برقرار رہی۔مزید برآں پاکستان اسٹیٹ آئل نے اربوں روپے کے واجبات ادا نہ کرنے پر آئی پی پیز کو فرنس آئل کی سپلائی بند کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں