61

غیبت کیا ہے .(قرآن و احادیث کی روشنی میں)

غیبت کیا ہے

(قرآن و احادیث کی روشنی میں)

از تحریر: مولانا عبد الرؤف نعیمی متعلم جامعہ نعیمیہ اسلام آباد

قرآن مجید نے لوگوں کو غیبت سے متنفر کرنے کے لیے ایک ایسی تشبیہ دی جس کو سن کر کوئی سلیم الطبع غیبت کی جانب راغب نہیں ہو سکتا ۔ فرمایا گیا کہ کوئی شخص انسانی گوشت کھانا پسند کرےگا؟ اور انسان بھی وہ جو مردہ ہو اور مردہ بھی وہ جو اس کا بھائی ہو ۔ ایسی چیز کو ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اور انداز سے بیان فرمایا جب ماعز نے اعتراف زنا کیا اور حضور ﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو رسول اللہ ﷺ نے سنا کہ دو آدمی آپس میں اس طرح گفتگو کر رہے ہیں کہ اس شخص کی طرف دیکھو کہ جس کا گناہ اللہ تعالی نے ڈھانپ دیا تھا مگر اس نے خود انکشاف کیا پھر اسے اس طرح سنگسار کیا گیا جس طرح کتے کو کیا جاتا ہے ۔حضور ﷺ نے یہ بات سنی اور خاموش رہے پھر کچھ وقت حضور ﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے۔فرمایا کہ فلاں فلاں آدمی کہاں ہیں؟ ان دونوں کے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم حاضر ہیں فرمایا کہ اترو اور اس مردے گدھے کو کھاؤ تو وہ کہنے لگے اے نبی اللہ اس مردار کو کون کھاتا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا
فمانلتما من عرض اخیکما اشد من الاقل منہ والذی نفس بیدہ انہ الان لفی انہار الجنۃ ینعمس فیھا
ترجمۃ: یعنی تم مردہ گدھا کھانے سے نفرت کرتے ہو لیکن اپنے بھائی کی عزت پر جو تم نے حملہ کیا ہے وہ مردار کھانے سے بھی زیادہ بد تر ہے۔
پھر فرمایااس ذا ت کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ تو اس وقت جنت کی نہروں میں نہا رہا ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غیبت کبیرہ گناہوں سے ہے۔ اگر کوئی شخص غیبت کر بیٹھے تو وہ توبہ کرے اور اگر ہو سکے تو جس کی غیبت اس نے کی ہے اس سے بخشوا لے ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اُخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے عیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو۔ اور (اِن تمام معاملات میں) اللہ سے ڈرو بیشک اللہ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے
بغوی نے لکھا ہے جب رسول اللہ ﷺ کسی جہاد یا سفر میں تشریف لے جاتے تو ایک ایک غریب آدمی کو دو دو مال دارآدمیوں کی خدمت کرنے کے لیے مقرر فرما دیتے اور دو مال داروں کے ساتھ تیسرے غریب کو ساتھ ملا دیتے تھے۔ غریب خادم آگے جا کر دونوں مالداروں کے اترنے کا مقام درست کر دیتا تھا۔ اور کھانے پینے کی چیزیں بھی فراہم کر دیتاتھا۔ ایک بار سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو دو آدمیوں کے کام پر مامور کیا ۔حضرت سلمان رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر کسی فرور گاہ پر پہنچے اور وہاں جا کر سو رہے ۔اپنے دونوں ساتھیوںکے لیے کھانے پینے کا سامان فراہم نہ کر پائے۔جب آپ سے ان دونوں آدمیوں نے پوچھا کہ تم نے کوئی چیز فراہم نہیں کی تو حضر ت سلمان فارسی نے جواب دیا کہ مجھے ایسی نیند آ گئی کہ میں کچھ نہ کر سکا ۔ ان دونوں نے کہا کہ اب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤ۔ہمارے لیے رسول اللہ ﷺنے کھانا عطا کرنے کی درخواست کرو۔ ساتھیوں کے کہنے کے مطابق حضرت سلمان نے جا کر حضور ﷺ نے عطائے طعام کی درخواست کی ۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اسامہ بن زید (رسول اللہ نے متبنہ) سے جا کر کہو اگر کچھ طعام و ادام (سالن) بچا ہواہوگاتو وہ دے دیں گے ۔ حضر ت اسامہ رسول اللہ ﷺ کے خازن بھی تھے اور پڑاؤ کے مہتمم بھی ۔ حضرت سلمان نے حضرت اسامہ سے درخواست کی ۔ اور اسامہ نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ حضرت سلمان نے واپس آ کر ساتھیوں کو اسامہ کے قول کی اطلاع دے دی۔ ساتھیوں نے کہا اسامہ کے پاس کھانا تو تھا لیکن انہوں نے بخل سے کام لیا اس کے بعد حضرت سلمان کو صحابہ کی ایک جماعت کے پاس بھیجا گیا لیکن وہاں سے بھی کچھ نہ ملا ۔حضرت سلمان نا کام لوٹ آئے ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے کہا اگر ہم (تم کو) کسی جاری کنویں کی طرف پانی کے لیے بھیجیں گے تو وہ بھی خشک ہو جائے گا پھر یہ لوگ اسامہ کے پاس جستجو کے لیے آئے کہ رسول اللہ نے اسامہ کو جو طعام دینے کا حکم دیا تھا کیا واقعہ وہ اسامہ کے پاس موجود نہیں تھا۔ (یا تھا اور انہوں نے بخل سے کام لیا) جب حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں یہ لوگ حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ گوشت کی خوشبو تمہارے منہ سے مجھےآتی محسوس ہو رہی ہے دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ خدا کی قسم آج ہم نے دن بھر گوشت نہیں کھایا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم غلط کہہ رہے ہو تم سلمان اور اسامہ رضی اللہ عنھماکا گوشت کھاتے رہے ہو۔
تو اس وقت یہ آیہ نازل ہوئی
أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا
یہ غیبت کرنے کی قباحت کی پر زور تصویر کھینچی گئی ہے ۔ استفہام انکاری ہے جو نفی کو پختہ کر رہا ہے ۔ فعل محبت کی نسبت (مضاف فاعلی ) احد کی طرف تعلیق کے ساتھ کی گئی ہے۔اور تعلیق محبت ایسی چیز سے کی ہے جو انتہائی مکروہ اور خبیث ہے (یعنی انسان کا گوشت) ۔ اور انسان بھی وہ جو بھائی ہو اور بھائی بھی مردہ۔
فکرھتموۃ۔۔۔یعنی اگر مردہ بھائی کا گوشت تمہارے سامنے لایا جائے اور تم سے کھانے کو کہا جائے تو تم اس کو مکروہ اور قابل نفرت سمجھو گے اور اس کراہت کا انکار تمہارے لیے ممکن نہیں۔
مجاہد نے کہا جب أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ ۔۔۔کہا گیا تو گویا تو ان کی طرف سے جواب ملا کہ ہم تو اس کو گوارہ اور پسند نہیں کر سکتے تو اس پر کہا گیا جب تم اس کو برا سمجھتے ہو تو اپنے بھائی کی پیٹھ پیچھے برائی کے ساتھ اس کا ذکر بھی نہ کرو۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نےعرض کیا کہ سفیہ ایسی ایسی ہے یعنی پست قامت ہے ۔ یہی اس کا عیب کافی ہے رسول اللہ نے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ عنہا تو نے ایسی بات کہی کہ اگر سمندر میں اس کو مخلوط کر دیا جائے تو سمندر کو بھی کڑوا کر دے ۔ رواہ احمد ابو داود ترمذی
غیبت کیا ہے خودرسالت مآب ﷺ نے بیان فرمائی ہے ایک دن حضور ﷺ نے دریافت کیا تم جانتے ہوغیبت کیا ہے؟ صحابہ نےعر ض کی اللہ ورسولہ اعلم۔ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضور نے فرمایا
ذکرک اخاک بما یکرہ
اپنے بھائی کا ایسا ذکر جسے وہ نا پسند کرے ۔عرض کی گئی کہ اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہو تو بھی اس کا ذکر غیبت ہو گی ۔ فرمایا کہ اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہے اور تو اس کا ذکر کرے تو ،تم نے غیبت کی اگر ایسی بات کا ذکر کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو تم نے اس پر بہتان باندھا ۔
غیبت کی تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ کسی مسلمان کوذلیل اور رسوا کرنے کے لیے اس کی پیٹھ پیچھے اس کا وہ عیب بیان کیا جائے جو اس میں ہو اور اگر کسی غرض صحیح سے اس کا عیب بیان کیا جائے تو وہ غیبت نہیں ہے ۔ اور اگر اس کے متعلق اگرایک ایسا عیب بیان کیا جائےجو اس میں نہیں ہے تو پھر وہ بہتان ہو گا۔
غیبت کرنے پر عذاب کی وعید
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لما عرج بي مررت بقوم لهم اظفار من نحاس يخمشون وجوههم وصدورهم فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء الذين ياكلون لحوم الناس ويقعون في اعراضهم”
جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے“۔(ابو داود 4878)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جس نے دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھایا اس کے پاس اس کے بھائی کا گوشت لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا : تم جس طرح دنیا میں اپنے زندہ بھائی کا گوشت کھاتے تھے اب مردہ کا گوشت کھاؤ وہ اس کوچیخ مارتا ہوا اور منہ بگاڑتا ہو ا کھائےگا
غیبت کس طرح ترک کی جائے؟
علامہ آلوسی لکھتے ہیں غیبت کرنے میں اکثر لوگ مبتلا ہیں غیبت میں کھجوروں کی سی مٹھاس ہے اور شراب کی سی تیزی اور سرور ہے اور حقیقت میں غیبت لوگوں کے گوشت کا سالن ہے ۔ اللہ تعالی اس سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ غیبت سے اجتناب کے لیے انسان کو چاہیے کہ قرآن مجید اور احادیث میں جو غیبت پر عذاب کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں ان میں غور و فکر کرے اور یہ سوچے کہ غیبت کر کے دنیا میں وقتی طور پر اس کو و ہ لذت حاصل ہو گی جو غیبت میں شیطان کے شکر گھولنے کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے لیکن اس کے بدلنے میں انتہائی محنت و مشقت اٹھا کر اور مال و دولت خرچ کر کے جو عبادتیں کی ہیں وہ اس کو آخرت میں دینی ہوں گی اور اگر عبادتیں نہ ہوئی تو گناہ برداشت کرنے پڑیں گے
آدمی مخالفین کی غیبت تو کرتا ہی ہے اپنے دوستوں کی بھی غیبت کرتا ہے جو دوست سامنے نہ ہو اس کی دوسروں کے سامنے اور دوسروں کی غیبت اس کے سامنے کرتا ہے اس معاملے میں بھی یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اس کے دوست کو یہ معلوم ہو جائے جس شخص کی دوستی کا میں دم بھرتا تھا ، جس کی دوستی پر میں مان کرتا تھا وہ محفلوں میں کس طرح میرے عیبوں کو بیان کرتا ہے ۔ اس پر کیا گزرے گی ! اور یہ دوستی پھر کیسے قائم رہے گی ، دوستی رہے گی بھی یا دشمنی میں تبدیل ہو جائے گی ۔ جب آدمی کسی شخص کی برائی بیان کرے تو ایک بات تو یہ سوچے کہ جس برائی کہ وجہ سے میں اس کی مذمت کر رہا ہوں آیا وہ برائی مجھ میں تو موجود نہیں ہے اگر وہ برائی مجھ میں ہے تو دوسروں کی مذمت کو کیا جواز ہے ؟ سو اگر آدمی اپنے عیب پر غور کرتا رہے تو اس کو دوسروں کے عیب بیان کرنے کی فرصت نہیں ملے گی ۔
غیبت کی توبہ اور اس کا کفار ہ:
علامہ نووی لکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص گناہ کرے تو اس پر لازم ہے کہ فوراً اس گناہ سے توبہ کر لے یہ توبہ اللہ کے حقوق سے ہے ۔ اس کی تین شرطیں ہیں۔ایک علی الفور گناہ کو ترک کر دے ۔دوسری اس گناہ پر نادم ہو اور تیسری آئندہ کے لیے اس گناہ کو بالکل ترک کرنے کا عزم کرے ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس کے لیے استغفار کرو جس کی غیبت کی ہے ۔
عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ نے کہا جب کوئی کسی کی غیبت کرے تو اس کو نہ بتائے لیکن اللہ سے استغفار کرے
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم سے جس کی غیبت کی ہے ا س کے لیے استغفا رکرو
جس شخص سے غیبت کرنے والا غیبت کرنے پر معافی مانگے اس شخص کے لیے اس کو معاف کر دینا مستحب ہے ۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں