Seerat-ul-Nabi 80

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ غزوہ خندق

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ غزوہ خندق
بنی نضیر کے یہودیوں کو مدینہ منورہ میں ان کے علاقے سے نکال دیا گیا تھا، اسی وجہ سے ان کے بڑے بڑے سردار مکہ معظمہ گئے… قریش کو ساری تفصیل بتائی اور قریش کو دعوت دی کہ وہ مسلمانوں سے جنگ کے لیے میدان میں آئیں ، انہوں نے قریش کو خوب بھڑکایا اور کہا:
جنگ کی صورت میں ہم تمہارے ساتھ ہوں گے، یہاں تک کہ محمد(ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو نیست و نابود کردیں گے، مسلمانوں سے دشمنی میں ہم تمہارے ساتھ ہیں -”
یہ سن کر مشرکین کے سردار ابوسفیان نے کہا:
“ہمارے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ شخص وہ ہے، جو محمد(ﷺ) کی دشمنی میں ہمارا مددگار ہو، لیکن ہم اس وقت تک تم پر بھروسہ نہیں کریں گے جب تک کہ تم ہمارے معبودوں کو سجدہ نہ کرلو… تاکہ ہمارے دل مطمئن ہوجائیں -”
یہ سنتے ہی یہودیوں نے بتوں کو سجدہ کرڈالا، اب قریش نے کہا:
“اے یہودیو! تم اہل کتاب ہو اور تمہاری کتاب سب سے پہلی کتاب ہے، اس لیے تمہارا علم بھی سب سے زیادہ ہے، لہٰذا تم بتاؤ… ہمارا دین بہتر ہے یا محمد(ﷺ) کا -”
یہودیوں نے جواب میں کہا:
“تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے اور حق و صداقت میں تم لوگ ان سے کہیں زیادہ بڑھے ہوئے ہو -”
یہودیوں کا جواب سن کر قریش خوش ہوگئے، نبی اکرم ﷺ سے جو انھوں نے جنگ کا مشورہ دیا تھا، وہ بھی انھوں نے قبول کرلیا… چنانچہ اسی وقت قریش کے پچاس نوجوان نکلے، انھوں نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ کر اس کو اپنے سینے سے لگا کر یہ حلف دیا کہ وقت پر ایک دوسرے کو دغا نہیں دیں گے، جب تک ان میں سے ایک شخص بھی باقی ہے، محمد(ﷺ) کے خلاف متحد رہیں گے –
اب قریش نے جنگ کی تیاری شروع کردی، یہودیوں نے بھی اور قبائل کو ساتھ ملانے کی کوشش جاری رکھیں ، اس طرح ایک بڑا لشکر مسلمانوں کے خلاف تیار ہوگیا –
آنحضرت ﷺ کو کفار کی تیاریوں کی اطلاعات موصول ہوئیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مشورہ کے لیے طلب کرلیا، آپ ﷺ نے انہیں دشمن کی جنگی تیاریوں کے بارے میں بتایا، پھر ان سے مشورہ طلب فرمایا کہ ہم مدینہ منورہ میں رہ کر دشمن کا مقابلہ کریں یا باہر نکل کر کریں –
اس پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا:
“اے اللہ کے رسول! اپنے ملک فارس میں جب ہمیں دشمن کا خوف ہوتا تھا تو شہر کے گرد خندق کھودلیا کرتے تھے -”
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ مشورہ سبھی کو پسند آیا، چنانچہ مدینہ منورہ کے گرد خندق کھودنے کا کام شروع کردیا، سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خندق کی کھدائی میں حصہ لیا… خود حضور نبی کریم ﷺ نے بھی خندق کھودی، خندق کی کھدائی کے دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھوک نے ستایا، وہ زمانہ عام تنگ دستی کا تھا –
کھدائی کے دوران ایک جگہ سخت پتھریلی زمین آگئی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس جگہ کھدائی نہ کرسکے، آخر حضور اکرم ﷺ کو خبر کی گئی، آپ ﷺ نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور اس جگہ ماری، ایک ہی ضرب میں وہ پتھریلی زمین ریت کی طرح بھربھرا گئی –
ضرب لگانے کے دوران روشنی کے جھماکے سے نظر آئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے بارے میں پوچھا کہ یہ روشنی کے جھماکے کیسے تھے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“پہلے جھماکے میں اللہ تعالٰی نے مجھے یمن کی فتح کی خبر دی ہے، دوسرے جھماکے کے ذریعے اللہ تعالٰی نے مجھے شام اور مغرب پر غلبہ عطا فرمانے کی اطلاع دی اور تیسرے جھماکے کے ذریعے اللہ تعالٰی نے مشرق کی فتح مجھے دکھائی ہے -”
غرض جب اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کی کھدائی سے فارغ ہوئے تو اس وقت قریش اور اس کے حامیوں کا لشکر مدینہ منورہ کے باہر پہنچ گیا، اس جنگ میں کافروں کی دس ہزار تعداد کے مقابلے میں مسلمان صرف تین ہزار تھے، مشرکوں کا لشکر مدینہ منورہ کے گرد خندق دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا، وہ پکار اٹھے:
“”خدا کی قسم! یہ تو بڑی زبردست جنگی چال ہے، عرب تو اس جنگی تدبیر سے واقف نہیں تھے -”
مشرکوں کے دستے بار بار خندق تک آتے رہے اور واپس جاتے رہے… مسلمان بھی اچانک خندق تک آتے اور کافروں کی طرف تیر برساتے، پھر واپس لوٹ جاتے، کافروں میں سے نوفل بن عبداللہ نے اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر خندق کو عبور کرنے کی کوشش کی… لیکن اس کا گھوڑا خندق کے آرپار نہ پہنچ سکا اور سوار سمیت خندق میں گرا – نوفل کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی – ایک روایت میں ہے یہ بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خندق میں اتر کر اسے قتل کردیا تھا –
کافروں اور مسلمانوں کے درمیان بس اس قسم کی چھیڑ چھاڑ ہوتی رہی… کافر دراصل خندق کی وجہ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے قابل نہیں رہے تھے –
لڑائی سے پہلے عورتوں اور بچوں کو ایک چھوٹے سے قلعہ میں پہنچا دیا گیا تھا – یہ جگہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی تھی – خود حضرت حسان رضی اللہ عنہ بھی وہیں تھے – ان عورتوں میں آنحضرت ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی بطور محافظ تھیں – ایک یہودی جاسوسی کے لیے اس طرف نکل آیا – حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی نظر اس یہودی پر پڑی تو انھوں نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہا:
“اے حسان! یہ شخص دشمن کو اس قلعہ میں عورتوں اور بچوں کی موجودگی کی خبر کردے گا… اور دشمن اس طرف سے حملہ آور ہوسکتے ہیں ، لہٰذا تم نیچے اتر کر اسے قتل کردو -”
اس پر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا:
“تمہیں معلوم ہے، میں اس کام کا آدمی نہیں ہوں -”
حضرت حسان رضی اللہ عنہ دراصل شاعر تھے اور جنگ کے طریقوں سے واقف نہیں تھے… پھر ان کی عمر بھی بہت زیادہ تھی، بوڑھے اور کمزور تھے اس لیے انھوں نے ایسی بات کہی تھی – حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے جب دیکھا کہ حسان رضی اللہ عنہ یہ کام نہیں کریں گے تو تو انھوں نے ایک موٹا سا ڈنڈا اٹھالیا اور نیچے اتر آئیں – خاموشی سے اس کے پیچھے گئیں اور اچانک اس پر حملہ آور ہوئیں … انھوں نے ڈنڈے کے کئی وار اس پر کیے، یہاں تک کہ وہ ختم ہوگیا – پھر تلوار سے اس کا سر کاٹ کر ان یہودیوں کی طرف اچھال دیا جو اس کے پیچھے آرہے تھے – وہ سب خوف زدہ ہوکر بھاگ نکلے –
ادھر مشرکوں میں سے چند لوگ آگے بڑھے – انھوں نے خندق عبور کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں کو دور لے جاکر خوب دوڑایا اور جس جگہ خندق کی چوڑائی کم تھی، اس جگہ سے لمبی چھلانگ لگاکر آخر خندق پار کرنے میں کامیاب ہوگئے – ان لوگوں میں عمرو بن عبدِ وَد بھی تھا… وہ عرب کا مشہور پہلوان تھا اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت بہادر ہے اور اکیلا ایک ہزار آدمیوں کے لیے کافی ہے – خندق عبور کرتے ہی وہ للکارا:
“کون ہے جو میرے مقابلے میں آتا ہے؟”
اس کی للکار سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے – انھوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا:
“اللہ کے رسول! اس کے مقابلے پر میں جاؤں -”
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“بیٹھ جاؤ… یہ عمرو بن عبدِ وَد ہے -”
ادھر عمرو نے پھر آواز دی – حضرت علی رضی اللہ عنہ پھر اٹھ کھڑے ہوئے – آپ ﷺ نے انہیں پھر بٹھادیا… اس نے تیسری بار پھر مقابلے کے لیے آواز لگائی – آخر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دےدی – حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ شعر پڑھتے ہوئے میدان میں آئے –
“جلدی نہ کر، تیری للکار کو قبول کرنے والا تیرے سامنے آگیا ہے – جو تجھ سے کسی طرح عاجز اور کمزور نہیں ہے -”
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی تلوار ذوالفقار عطا فرمائی، اپنا عمامہ ان کے سر پر رکھا اور اللہ سے ان کی کامیابی کے لیے دعا کی –
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مقابلے سے پہلے اسے اسلام کی دعوت دی اور بولے:
“میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلاتا ہوں اور اسلام کی دعوت دیتا ہوں -”
اس نے انکار کیا اور کہا:
“بھتیجے! میں تمہیں قتل کرنا نہیں چاہتا… واپس لوٹ جاؤ -”
جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“لیکن میں تو تمہیں قتل کرنا چاہتا ہوں -”
یہ سن کر عمرو بن عبدِ وَد کو غصہ آگیا – وہ اس وقت پوری طرح لوہے میں غرق تھا – چہرہ بھی خود میں چھپا ہوا تھا – وہ گھوڑے سے کود پڑا اور تلوار سونت کر ان کی طرف بڑھا – اس کی تلوار سے خود کو بچانے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فوراً ڈھال آگے کردی – عمرو کی تلوار ڈھال پر پڑی، ڈھال پھٹ گئی، تلوار حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیشانی تک پہنچ گئی پیشانی پر زخم آگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں