Mufti gulzar Ahmed Naeemi 151

عید سعید اور علماء کا رویہ. مفتی گلزار احمد نعیمی

60 / 100

عید سعید اور علماء کا رویہ
اس دفعہ کی عید الفطر اس لحاظ سے بہت منفرد اور عید سعید ہے کہ اہل پاکستان نے عرب وعجم کے اکثر مسلمان ممالک کے ساتھ ملکر عید منائی۔اس پر رویت ھلال کمیٹی مبارک باد کی مستحق ہے۔جن اہم لوگوں نے اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالا وہ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔یہ بات بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ہمارے کچھ علماء نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور جاہلانہ ضد کو ہمیشہ کی طرح برقرار رکھا۔ہمارے سابق چیرمین مرکزی رویت ھلال کمیٹی نے کنفیوزن پھیلانے کی بھرپور کوشش کی اور انکے کراچی کے حواریوں نے بھی اس فساد انگیزی میں انکا بھرپور ساتھ دیا۔میرے نزدیک قوم کو تقسیم کرنے کا یہ عمل کوئی لائق تحسین نہیں ہے۔ جس کمیٹی کے فیصلے رویت ھلال کے باب میں وہ اپنی چیرمین شپ کے دوران صادر فرماتے رہے ہیں وہ تو حق و صداقت پر مبنی ہیں بلکہ یوں کہیں کہ وہ فیصلے منزل من اللہ احکام کی طرح اٹل ہوں اور اب جب وہ اس عہدے سے محروم ہوگئے ہیں تو اس کمیٹی کے فیصلے بھی اس قابل نہیں رہے کہ ان پر قوم بھروسہ کرے۔عجیب معیار ہے اور حیران کن سوچ ہے۔پھر حضرت ہمیشہ یہ ارشاد فرماتے رہے ہیں کہ پوپلزئی کا اس کمیٹی کے مقابلے میں چاند کی رویت کے بارے میں اعلان کرنا اور سرکاری کمیٹی کو نظر انداز کرنا ریاست کے اندر ریاست کا قیام ہے۔تو جناب جب آپ قوم کو اکسا رہے ہیں کہ سرکاری کمیٹی کے فیصلہ کی بجائے میرے فیصلہ کو مانو تو کیا یہ ریاست کے اندر ریاست نہیں ہے؟؟ ہر سال آپ کے پاس پوپلزئی کی شھادتوں سے ہٹ کر بھی شھادتیں آتی رہیں لیکن آپ ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنیاد پر انہیں رد کرتے رہے۔میری معلومات کے مطابق پچھلے سال بھی ہمارے آٹھ کے قریب اہل سنت بھائیوں نےروئیت ھلال کے حوالہ سے شھادتیں پیش کیں مگر آپ نے انہیں رد کردیا
آپ کے اس رویہ نے خیبر پختون خواہ کے لوگوں کی بے توقیری کی ہے۔آپ کےرویہ کے مطابق وہ سب کے سب جھوٹی گواہیاں دینے والے ہیں۔۔یاللعجب
آج ہم سے عوام الناس سوال کرتے ہیں کہ سابق چیرمین کو اگر یقین تھا کہ جمعرات کو عید نہیں ہے تو انہوں نے پھر نماز عید کیوں پڑھی، روزہ کیوں نہیں رکھا۔آپ اس وقت ہی اعلان کر دیتے کہ جمعرات کو عید نہیں ہوگی روزہ ہوگا۔اہل پاکستان کو آپ پریشانی اور اضطراب میں ڈال رہے ہیں صرف اس وجہ سے کہ “مجھے کیوں نکالا”۔آپ اپنے چند ہم نواؤں کے ساتھ ایسی اضطرابی کیفیات پیدا کرنے پر جتے رہے ہیں آپ نے اس کے علاوہ اور کیا کیا؟؟
دوسری طرف کچھ علماء کمیٹی کے اجلاس میں بیٹھ کر اپنے موبائلز پر اپنے ساتھیوں کو بتا رہے تھے کہ ہم نے تو بہت احتجاج کیا مگر یہ (چیرمین) کہتا تھا کہ میں نے اتحاد و وحدت قائم کرنا ہے ہے۔ان علماء کا رویہ بھی بہت ہی قابل افسوس ہے بلکہ قابل مذمت ہے۔اگر آپکو فیصلے سے اختلاف تھا تو اٹھ کر چلے آتے فیصلے پر دستخط نہ کرتے۔تصویریں بنوانے اور لائیو کوریج کے لیے آپ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ بھی رہے ہیں اور اپنے کیے ہوئے فیصلے پر تنقید بھی کررہے ہیں۔محض اپنے ہوٹلوں کے قیام، ہوائی سفر اور ٹی اے ڈی اے کے لیے اپنے ضمیر کے خلاف فیصلے پر دستخط کیے۔یہ ضمیر فروشی کی انتہاء ہے۔میری حکومت سے گزارش ہے کہ ان لوگوں کا محاسبہ کیا جائے۔انہوں نے ریاستی ادارے کا حصہ ہوکر بھی اسے بدنام کیا ہے۔انکی ممبر شپ ختم کی جائے۔میری مقتدرہ طاقتوں سے بھی گزارش ہے کہ ایسے اداروں میں صرف ریاستی مفادات کا خیال رکھنے والے مخلصین کو لایا جائے جو بہت ہی معاملہ فہم ہوں۔پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو ریاست کا بھی خیال رکھتے ہیں اور دینی روایات کی بھی محافظت بہت خوب کرتے ہیں۔آپ کہہ رہے تھے کہ “آج بہت یاد آئے”یہ منافقت کی انتہاء ہے۔مطلب آپ کا ایمان کسی کے سہارے قائم تھا۔وہ گئے تو ایمان بھی گیا۔اب آپ سے کسی فیصلے پر بھی دستخط کروائے جاسکتے ہیں۔بس ذرا ہوائی سفر کے لیے ٹکٹ، کسی اچھے ہوٹل میں قیام اور کچھ نقدی مل جانی چاہیے۔ایک مولی صاحب کہہ رہے تھے کہ بڑے امتحان میں ڈال دیا گیا ہے۔جس نام پہ آپ روٹی روزی چلاتے ہیں انہوں نے تو فرمایا تھا کہ اے دنیا میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں۔انکے فرزندوں نے تو حکومتوں کو جوتے کی نوک پر رکھا۔جانیں دے دیں مگر ضمیر کا سودا نہ کیا۔آپ ایک چھوٹی سی ممبری کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہیں۔آپ کے نزدیک یہ فیصلہ درست نہیں تھا تو قبول نہ کرتے۔مگر مچھ کے آنسو بہانے کا کیا فائدہ۔؟کمیٹی سے باہر لوگوں کارویہ قابل افسوس ہے مگر کمیٹی کے اندر لوگوں کا رویہ قابل افسوس ہی نہیں قابل مذمت بھی ہے۔
جب ایک ریاستی ادارے نے روئیت کے بارے میں فیصلہ کردیا تو وہ پاکستانی شہری کی حیثیت سے قبول کرنا میرا فرض ہے۔وہ ٹھیک ہے تو فیصلہ کرنے والے عند اللہ ماجور ہونگے اور اگر جدوجہد کے بعد انکے فیصلہ میں کوئی کمی رہ گئی تو پھر بھی وہ کنہگار نہیں ہونگے۔قومی مفاد کے پیش نظر کیا گیا فیصلہ ہر دو صورتوں میں قابل قبول اور قابل تحسین ہے۔
میں اپنی ذاتی حیثیت میں اس بات کا ہمیشہ خواہش مند رہا ہوں کہ پورے عالم اسلام میں عیدین اور دیگر مذہبی تہوار ایک ہی دن منانے چاہییں تاکہ امت مسلمہ میں اتحاد ویگانگت کا بہتریں مظاہرہ ہوسکے۔اگر صدیوں تک امت ایک ہی دن یہ عیدین مناتی رہی ہے تو اب منانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔انگریز کی کھینچی ہوئی لکیروں سے یہ ممالک بنے ہیں۔یہ تقسیم کوئی شرعی تقسیم نہیں ہے۔یہ مطالع کا اختلاف عثمانیوں اور عباسیوں کے دور میں بھی موجود تھامگر پورا عالم اسلام ایک ہی دن عید کرتا تھا۔اگر او آئی سی کے پلیٹ فارم کو استعمال کیا جائے تو یہ بڑ ا کام سرانجام دیا جاسکتا ہے۔اس سے کچھ تو او آئی سی کی موجودگی کا جواز بھی بنا رہے گا۔
بہرحال ہمیں ریاستی اداروں کے فیصلوں کو قبول کرنا چاہیے۔تنقید کی جاسکتی ہے مگر ادارے کا عزت و وقار مجروح نہیں کرنا چاہیے۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں