110

عوام کیلئے 28 ارب کا ریلیف پیکیج

عوام کیلئے 28 ارب کا ریلیف پیکیج، ایک کروڑ 40 لاکھ غریب گھرانوں کو اضافی 2 ہزار روپے دیئے جائیں گے، ساڑھے 8 کروڑ افراد کو فائدہ ہوگا، پیکیج آئندہ بجٹ میں شامل کیا جائے گا، وزیراعظم، قوم سے پہلا خطاب
کراچی، اسلام آباد( خبر ایجنسیاں) وزیر اعظم شہباز شریف نےعوام کیلئے 28ارب کے نئے ریلیف پیکیج کااعلان کرتے ہوئے کہاہےکہ ایک کروڑ40لاکھ غریب گھرانوں کو اضافی 2ہزار روپے ماہانہ دیئے جائیں گے، ساڑھے 8کروڑ افراد کو فائدہ ہوگا،پیکیج آئندہ بجٹ میں شامل کیا جائیگا،دل پر پتھر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات مہنگی کیں،IMF کی سخت شرائط عمران حکومت نے مانیں، ملک کو بدترین قرض کے دلدل میں پھنسایا، اب مشکل فیصلہ معاشی بحران سے نکالنے اور دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے کیا،قوم اندرونی خلفشار پر قابو پائے بغیر ترقی نہیں کرسکتی، حکومت سنبھالتے ہی میڈیا مخالف قانون ختم کیا،نواز شریف اور اتحادیوں کا شکرگزار ہوں، یوٹیلیٹی اسٹورز پر ملک بھر میں 10کلو آٹے کا تھیلا 400 روپے میں فروخت کیا جائیگا،خارجی محاذ پر سابقہ پونے 4 سال ملکی مفادات کیلئے مہلک ثابت ہوئے،خطے میں امن بھارت کی ذمہ داری،5 اگست کے یکطرفہ اقدامات ختم کرےتاکہ کشمیر سمیت متنازع امور پر ٹھوس پیش رفت ہو۔گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سےاپنے پہلے خطاب میں کہاکہ اس مرحلے پر وزیراعظم پاکستان کا منصب سنبھالنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں جب ملک کوگزشتہ پونے 4سال کی حکومت کے تباہ کن ، سنگین حالات سے بچانا مقصود ہے، عوام نے مطالبہ کیا تھاکہ اس نااہل اور کرپٹ حکومت سے فوری طور پر جان چھڑائی جائے اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے مل کر عوام کے مطالبے پر لبیک کہا اور آئین پاکستان کے تمام جمہوری تقاضے پورے کرتے ہوئے اس تبدیلی کو یقینی بنایا ، پہلی بار دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں گئے یہ عوام پارلیمنٹ اور آئین کی فتح ہے۔ ہم نے حکومت سنبھالی تو ہر شعبہ تباہی کی داستان سنارہا تھا، 3دہائیوں کی عوامی خدمت کے صبر کے دوران ایسی تباہی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی جو سابق حکومت اپنے پونے 4سال کی بدترین حکمرانی کے بعد پیچھے چھوڑ گئی، یہی وجہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو بچانے کا چیلنج قبول کیا حالانکہ یہ حقیقت ہمارے سامنے واضح تھی کہ اس تباہی سے نکلنے اور ملک کو بہتری کے راستے گامزن کرنے کے لئے انتھک محنت اور وقت درکار ہوگا جہاں گزشتہ دور میں ہونے والی تباہی اور بھیانک کرپشن کی انگنت داستانیں موجود ہیں وہیں فسادی ذہن نے معاشرے کے تانے بانے کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے ہماری سیاست کے رگ و ریشے میں نفرت کا زہر بھر دیا گیا ہے ، مادر وطن کی فضائوں میں انتقام غصے اور بدتہذیبی کی آلودگی پھیلادی گئی ہے، ماضی کے اُس دور میں نفرت کی ایک پوری فصل بوئی گئی ، مذموم سیاسی مقاصد کے لئے سفارتی خط کی نام نہاد سازش تب ڈھونڈی گئی ایک خطرناک جھوٹ بولا گیا حالانکہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی نے ایک نہیں دو بار پوری وضاحت کے ساتھ کہا کہ ایسی کوئی سازش نہیں ہوئی ، امریکا میں ہمارے سفیر نے بھی سازش کی کہانی کو یکسر مسترد کردیا ۔ اس کے باوجود ایک شخص مسلسل جھوٹ بول رہا ہے افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ شخص اپنے منفی سیاسی ایجنڈے کی خاطر ، قومی مفادات اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچارہا ہے ۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا گھمنڈ اور ضد دستور پاکستان اور آئینی اداروں کی متفقہ رائے سے زیادہ مقدم ہے تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے کیونکہ پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک فرد کی ضد سے نہیں ۔عوام کو یاد ہوگا وزیراعظم محمد نواز شریف کے دور میں جب پاکستان نمایاں ترقی کررہا تھا اس ایک شخص نے دھونس ، دھمکی اور دھرنے کا ڈرامہ رچایا تھا وہ بھی ایسے وقت میں جب پاکستان کے عظیم دوست چین کے صدر سی پیک کا تاریخی معاہدہ کرنے پاکستان تشریف لارہے تھے لیکن اس شخص کی ہٹ دھرمی اور دھرنے سے یہ اہم ترین معاہدہ تاخیر کا شکار ہوگیا، میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا حکومت کا فرض اولین ہے او راس پر کوئی سمجھوتہ کیا ہے نہ کریں گے، سابق حکومت جن حقائق پر جان بوجھ کر پردہ ڈال رہی ہے وہ حقائق میں آج انہیں یاد دلانا چاہتا ہوںآئی ایم ایف سے معاہدہ آپ نے کیا ہم نے نہیں ، ان کی سخت شرائط آپ نے مانیں ہم نے نہیں ، عوام کو مہنگائی کی چکی میں آپ نے پیسا ہم نے نہیں ، ملک کو اس معاشی دلدل میں آپ نے دھنسایا ہم نے نہیں، ملک کو تاریخ کے بدترین قرض کے نیچے آپ نے دفن کردیا ۔ عالمی اداروں نے گواہی دی کہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ کرپشن آپ کے دور میں ہوئی ملک میں لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے آپ واپس لائے اور آج معیشت کی سانس بند ہوئی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی عمران خان ہیں ۔انہوں نے کہاہک ہم ہر مشکل فیصلہ کرنے کو تیار ہیں اور ہر ممکن وہ کام کریں گے جس سے قومی ترقی کا سفرتیزی سے آگے بڑھ سکے ،نااہلی اور کرپشن کی سیاست کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوسکے ، ہم نے حکومت سنبھالی تو مہنگائی عروج پر تھی کاروبار ، روزگار ، معاشی سرگرمیاں ختم ہوکر رہ گئی تھیں، ڈالرجو 2018 میں ہم 115روپے پر چھوڑ کر گئے تھے سابق حکومت کے پونے4سال کے دوران ڈالر 189 روپے پر پہنچ گیا جس سے ایک طرف مہنگائی کی آگ مزید تیز ہوگئی تو دوسری جانب پاکستان پر قرض کا بوجھ بھی ناقابل برداشت ہوگیا ۔ گزشتہ پونے 4 سال میں پاکستان کے قرض میں 20 ہزار ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ۔ جو 1947میں 2018ء تک 71سال میں اب تک تمام حکومتوں کی طرف سے لئے جانے والے مجموعی قرض کا 80 فیصد ہے ۔ رواں مالی سال وفاق کے بجٹ خسارے کا تخمینہ 5ہزار 6 سو ارب روپے ہے جو تاریخ کا بلند ترین خسارہ ہے ۔ نااہل سابق حکومت نے صرف اسی سال اتنا خسارہ کیا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ، اس کے مقابلے میں آپ گواہ ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں لئے گئے قرض سے عوام کو 10 ہزار 400 میگا واٹ بجلی مہیا کی ، سڑکوں کا جال بچھایا ، بہترین پبلک ٹرانسپورٹ دی، کھربوں روپے کے ترقی اور خوشحالی کے منصوبے بنائے اور مہنگائی تاریخ کی کم ترین سطح پر لے کر آئےجب ہم نے اب حکومت سنبھالی تو ملک میں 60 ہزار 500 میگا واٹ کے پاور پلانٹ بند پڑے تھے کیونکہ سابق حکومت نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ ایندھن کا بندوبست کیا اور نہ ہی بروقت بجلی کے کارخانے مرمت کرائے جس کی وجہ سے عوام مہنگی بجلی اور گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہوئے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ روز اضافہ کیا ہے یہ فیصلہ ہمیں کیوں او رکن مشکل معاشی حالات میں کرنا پڑا یہ سچائی آپ کے علم میں لانا بہت ضروری ہے ۔ دنیا میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ، تیل پیدا کرنے والے ملکوں سے لے کر ترقی یافتہ ممالک سمیت سب اس شدید معاشی صورتحال سے دوچار ہیں لیکن سابق حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کے لئے سبسڈی کا اعلان کردیا جس کی قومی خزانے میں کوئی گنجائش نہیں تھی ہم نے اپنے سیاسی مفاد کو قومی مفاد پر قربان کرنا قومی فرض جانا کیونکہ یہ فیصلہ پاکستان کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے ناگزیر تھا ،ایک معاشی بحران میں پاکستان اور اس کے عوام کو سابق حکومت نے پھنسایاہے، آج کا یہ مشکل فیصلہ معیشت کو موجودہ بحران سے نکالنے کی طرف ایک اہم قدم ہے ،ہم غریب عوام کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بوجھ سے بچانے کے لئے 28 ارب روپے ماہانہ کے نئے ریلیف پیکیج کا آغاز کررہے ہیںجس کے تحت فوری طو رپرپاکستان کے ایک کروڑ 40 لاکھ غریب ترین گھرانوں کو 2ہزار روپے دیئے جارہے ہیں ،یہ گھرانے ساڑھے8کروڑ افراد پر مشتمل ہیں جو پاکستان کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے، یہ اس مالی امداد کے علاوہ ہے جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت انہیں پہلے سےدی جارہی ہے اور آئندہ مالی سال کے لئے اس ریلیف پیکیج کو بجٹ میں شامل کیا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ میں نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان بھر میں دس کلو آٹے کا تھیلا 400 روپے میں عوام کو فروخت کیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں