59

عمران کلین بولڈ، اقدامات غیرآئینی قرار، کل ووٹنگ، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین سے متصادم، کابینہ 3 اپریل کی حیثیت سے بحال، سپریم کورٹ کا تاریخی متفقہ فیصلہ

اسلام آباد(ٹی وی رپورٹ) قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ آئین سے متصادم ہے، کابینہ 3 اپریل کی حیثیت سے بحال ہوگئی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے تاریخی متفقہ فیصلہ دے دیا، عمران خان کلین بولڈ، اقدامات غیرآئینی قرار، کل ووٹنگ ہوگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندو خیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نےڈپٹی اسپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ وزیراعظم صدر کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتے تھے، تحریک عدم اعتماد کی کارروائی جاری رکھیں، کامیاب ہو تو نئے قائد ایوان کے انتخاب تک اجلاس ملتوی نہ کیا جائے، ووٹنگ والے دن کسی رکن اسمبلی کو نہیں روکا جائیگا، سپریم کورٹ نے صدر کے نگراں حکومت کے احکامات بھی کالعدم قرار دے دیئے، اٹارنی جنرل نے اسپیکر رولنگ کا دفاع کرنے سے معذرت کرلی، عدالت نے اسپیکر کو ہفتہ9 اپریل کو صبح ساڑھے10 بجے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف مشترکہ اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کی ہدایت کی ہے۔ نمائندہ نیوزکے مطابق سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل آئین کے آرٹیکل(1) 5کے تحت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ملک و قوم کے خلاف مبینہ ’’سازش تھیوری‘‘ کی بنیاد پر عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کرنے کے حوالے سے جاری کی جانے والی 3 اپریل کی رولنگ اور صدر عارف علوی کی جانب سے عمران خان کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کا تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا جبکہ قومی اسمبلی کو اسی پوزیشن پر بحال کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کیلئے 9 اپریل کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا حکم جاری کردیا ہے، فاضل عدالت نے قرار دیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی 3 اپریل کی رولنگ اور وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر عارف علوی کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا عمل آئین و قانون سے متصادم اور کسی بھی قانونی اثرات کے بغیر تھا، جبکہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی اسمبلی میں زیر التوا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے جمعرات کو ازخود نوٹس کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ رات تقریباً ساڑھے 8بجے متفقہ طور پرجاری کردیا، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کھلی عدالت میں 8صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تمام ججوں کا متفقہ فیصلہ ہے، ہم نے ایک دوسرے سے مشورہ کرکے یہ فیصلہ جاری کیا ہے، فیصلے کے مطابق ڈپٹی اسپیکر کی 3 اپریل کی رولنگ غیرآئینی تھی جبکہ وزیراعظم عمران خان، اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے اور متعلقہ اراکین اسمبلی کو نوٹسز کے اجراء کے بعد صدرعارف علوی کو اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتے تھے، فاضل عدالت نے وزیر اعظم کی اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کو 3اپریل کی پوزیشن پر بحال کردیا ہے اور اسپیکر کو ہفتہ9 اپریل کو صبح ساڑھے 10 بجے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف مشترکہ اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کی ہدایت کی ہے، عدالت نے حکم دیا کہ ووٹنگ کے روز کسی بھی جماعت کے رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کے عمل سے نہیں روکا جائے گا اور تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں فوری طور پرنئے وزیراعظم کا انتخاب ہوگا، فیصلے کے مطابق ووٹنگ کا عمل صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوگا، تاہم اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی تو یہی حکومت اپنے امور سرانجام دیتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں