51

عمران نے قواعد کے خلاف تحائف 14کروڑ میں بیچے، وزیراعظم

اسلام آباد(ٹی وی رپورٹ‘ایجنسیاں) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف قواعد کے خلاف 14کروڑروپے میں دبئی میں فروخت کیے۔ قیمتی تحائف میں ڈائمنڈ جیولری ‘ بریسلٹ، گھڑیاں اور سیٹ شامل ہیںجبکہ مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز کا کہناہے کہ تحائف خریدنے کے لیے اس کے پاس پیسے کہاں سے آئے اصل سوال ہے کیونکہ تنخواہ کے علاوہ ان کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں‘مسلم لیگ (ن )کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کی مکمل تحقیقات ہوں گی‘ گولڈ پلیٹڈ کلاشنکوف بھی غائب ہے‘یہ بنی گالہ سے برآمد کی جائے گی‘مسلم لیگ(ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاکہ عمران نیازی نے بازار میں گھڑی نہیں بلکہ پاکستان کی عزت بیچی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماءفواد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر کسی ملک نے گھڑی تحفے میں دی اور وہ سابق وزیراعظم نے حکومت سے خرید کر باہر جاکر فروخت کردی تو اس میں کیا جرم ہوا؟۔ جتنا یہ عمران خان پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں اتنے ہی یہ خود گندے ہو رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے وزیر اعظم ہاؤس میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران انکشاف کیاکہ میں کنفرم کر سکتا ہوں کہ عمران خان نے توشہ خانے سے تحائف لے کر بیرون ملک فروخت کیے ہیں۔عمران خان نے یہ تحائف 14کروڑروپے میں دبئی میں فروخت کیے‘ قیمتی تحائف میں ڈائمنڈ جیولری‘ بریسلٹ ، گھڑیاں اور سیٹ شامل ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے بھی ایک بار گھڑی تحفے میں ملی تھی جسے میں نے توشہ خانہ میں جمع کرا دیا تھا‘مجھے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایک صحافی کے سوال کرنے پر وزیراعظم نے اسے بتایاکہ بیرون ملک سے ملنے والے تحائق توشہ خانے میں جمع کرائے جاتے ہیں ‘اسٹیٹ بینک ان تحائف کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کرتاہے ‘ نیلامی کی صورت میں دوبارہ قیمت کا تعین ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کرتے ہیں ۔حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنائے جانے سے متعلق صحافیوں کے سوال پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی آفر اس سے قبل پرویز الٰہی کو کی گئی تھی اور انھوں نے یہ آفر قبول کرتے ہوئے دعائے خیر بھی کی تھی‘دونوں جانب سے ایک دوسرے کو مٹھائیاں بھی کھلائی گئی تھیں لیکن اس کے باوجود پرویز الٰہی بھاگ گئے جس کی وجہ سے ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا تھا، حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ پارٹی اور اپوزیشن اتحاد کا تھا۔دریں اثناءمسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز نے کہاہے کہ عمران خان کے پاس گھڑی اور ہار خریدنے کے پیسے کہاں سے آئے؟ مریم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان نے گھڑی اور ہار پہلے خریدے، پھر بیچ دیے اصل کہانی نہیں، عمران نے وہ گھڑی اور ہار کتنے میں حکومت سے خریدے اورکتنے میں بازار میں بیچ دیے اصل کہانی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ وہ تحائف خریدنے کے لیے اس کے پاس پیسے کہاں سے آئے اصل سوال ہے کیونکہ تنخواہ کے علاوہ ان کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں۔ادھر احسن اقبال نے فواد چوہدری کے بیان پر کہا کہ میری گھڑی ، میری مرضی ، میں نے بیچی،بات اتنی سادہ نہیں ہے،وہ گھڑی پاکستان کے وزیر اعظم کو دو طرفہ تعلقات کے اعزاز میں تحفہ میں ملی تھی وہ بازار میں بیچنے کے لئے نہیں ملی تھی‘عمران نیازی نے بازار میں گھڑی نہیں پاکستان کی عزت بیچی ہے،شرمناک کام۔مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سابقہ دور میں توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف بھی فروخت کئے گئے، پاکستان کے عوام کو توشہ خانہ کا پورا ریکارڈ دیا جائے گا، ان لٹیروں نے توشہ خانہ کے تحائف 18 کروڑ میں فروخت کئے۔ انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ میں ایک گولڈ پلیٹڈ کلاشنکوف موجود نہیں، یہ بنی گالا سے برآمد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملزم اگر کوئی ہے تو وہ عمران خان ہیں، عمران خان نے آٹا، چینی بھی چوری کیا۔فواد چوہدری نے توشہ خانہ کے تحائف فروخت کرنے کی خود تصدیق کی، خالی گھڑی پر نہیں انہیں دیگر چیزوں پر بھی جواب دینا ہوگا۔ علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ابھی تک مجھے پتا نہیں ہے کہ شہباز شریف کیا کہہ رہے ہیں، اگر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ باہر کے کسی ملک نے گھڑی تحفے میں دی اور وہ سابق وزیراعظم نے حکومت سے خرید کر باہر جاکر بیچ دی تو اس میں کیا جرم ہوا؟مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ ان کا اعتراض کیا ہے، گھڑی 8، 9 کروڑ کی ہو، 5 کروڑ کی ہو یا 10کروڑ کی، اگر میری ہے اور میں نے بیچ دی تو اس پر کوئی اعتراض نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں شہباز شریف بہت کنفیوژڈ ہیں، ان کو سمجھ نہیں آ رہا کہ عمران خان پر کیسے الزامات لگائیں، کبھی وہ کوئی اور کریکٹر ڈھونڈ کر لے آتے ہیں کبھی گھڑی لے آتے ہیں۔ جتنا یہ عمران خان پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں اتنے ہی یہ خود گندے ہو رہے ہیں، شہباز شریف سطحی گفتگو سے پرہیز کریں اور ملکی مسائل پر توجہ دیں۔ایک اور بیان میں فوادچوہدری کا کہناتھاکہ توشہ خانہ ریکارڈ سرکار کا ریکارڈ ہے، تحفہ ملتا ہے جمع ہوتا ہے ،خریدنا ہواس کی قیمت لگتی ہے جوخزاے میں جمع ہوتی ہے، آپ لوگوں نے تحفے چوری کر کے بیچے خریدے ہوتے تو کیس نہ بنتا۔فواد چوہدری نے احسن اقبال کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ الزام تو کوئی اچھا ڈھونڈ لو نہیں مل رہا تو ایسے احمقانہ الزامات لگا رہے ہیں جن کا نہ سر ہے پیر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں