37

عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے حالیہ فیصلے سے ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے دس سال قبل برطانیہ میں ہونے والے قتل کا معاملہ بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے۔ یہ ایک ہائی پروفائل کیس تھا جس میں پاکستان اور برطانیہ کے سیکورٹی اداروں نے باہمی تعاون سے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کیساتھ ساتھ ان کےخلاف ثبوت بھی اکٹھے کیے۔ سیاسی رہنما کے مقدمۂ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے تین مجرموں کو عمر قید و جرمانے کی سزا سنائی اور برطانوی و پاکستانی حکومت کو مفرور مجرموں بانی متحدہ الطاف حسین، افتخار حسین، محمد انور اور کاشف کامران کی گرفتاری کا بھی حکم دیا ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم بانی متحدہ نے دیا، ایم کیو ایم لندن کے 2سینئر رہنماؤں نے یہ حکم پاکستان پہنچایا، نائن زیرو سے معظم علی نے قتل کیلئے محسن علی اور کاشف کامران کا انتخاب کیا۔ اس فیصلے کے ایم کیو ایم لندن کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم یہ حقیقت ہے کہ برطانوی سرزمین پر سابق پارٹی رہنما کے قتل کے بعد بانی متحدہ کی مشکلات میں اصل اضافہ ہوا، منی لانڈرنگ کیس پھر پارٹی میں تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوا اور بتدریج ایم کیو ایم کی سیاست میں الطاف حسین کا کردار محدود ہوتا گیا اور فیصلے کے بعد تو یہ کردار بھی مکمل طور پر ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ اب جبکہ عدالت نے متحدہ کے بانی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں، اس ضمن میں برطانوی اور پاکستانی حکومت کیا حکمت عملی طے کرتی ہیں، آئندہ دنوں میں یہ بھی واضح ہو جائے گا۔ اگرچہ دس سال کا عرصہ نہایت طویل ہوتا ہے لیکن بہرطور مذکورہ فیصلے سے ایک اچھی روایت اس صورت میں بھی قائم ہوئی کہ ہمارے ہاں کتنی ہی اہم شخصیات کا قتل ہوا لیکن ان کے قاتل ہنوز یا تو گرفتار نہ ہوئے یا پھر کمزور استغاثہ کے باعث سزا سے بچ گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں