12

عمران سیاست نہیں سازش کررہا ہے، قانونی کارروائی کرینگے، صدر علوی کیخلاف پٹیشن دائر کرسکتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

لاہور (نیوزایجنسیاں، ٹی وی رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان سیاست نہیں سازش کررہا ہے، قانونی کارروائی کرینگے، قومی اداروں کیخلاف بیانیہ گھڑنے والا اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہے، خانہ جنگی کرانے کی سازش کچل دینگے، اسے ہٹلر نہیں بننے دینگے، ہر ادارہ اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرتا ہے، فوج کی بہت قربانیاں ہیں جو غلط بات کرتا ہے، مذمت ہونی چاہیے، صدر علوی کیخلاف پٹیشن دائر کرسکتے ہیں، صدر علوی پی ٹی آئی کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، ان کیخلاف کارروائی کے مختلف آپشنز ہیں، لانگ مارچ کو خوش آمدید کہیں گے، قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی، حکمت عملی رانا ثناء اللہ بناچکے، بیرونی سازش کیساتھ ملکر حکومت حاصل کرنے سے بڑا کفر نہیں، اب عمران خان پینترا بدل رہے ہیں انکو جولائی سے سازش کا علم تھا، عمران خان مانیں یا نہ مانیں کمیشن بنائینگے، ،ملک میں کوئی غیر قانونی یا غیر جمہوری عمل نہیں ہوا جسکی وجہ سے مارچ کیا جائے، نیب کی وجہ سے بیورو کریٹس دبائو کا شکار ہیں، ایکسٹینشن سے متعلق سوال ابھی قبل از وقت ہے، جب وقت آئیگا تو دیکھیں گے، امریکا سپر پاور ہے، ہم اس سے بگاڑ نہیں سکتے، عمران خان نے سی پیک منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کروایا جس سے چینی دوست سخت ناراض ہیں، ملکی ترقی کے سب سے بڑے منصوبے پر سابق حکومت نے کام بھی روکدیا، اس میں ہماری دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ٹی آئی کے ایبٹ آباد جلسے پر درعمل میں دیئے گئے بیان اور سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے عمران خان کے خطاب کو پاکستان کیخلاف سازش قرار دیدیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قومی اداروں کیخلاف سازشی بیانیہ گھڑنے والا اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہے، ایبٹ آباد میں آج ریاست پاکستان، آئین اور قومی اداروں کو چیلنج کیاگیا، قانونی کارروائی کرینگے عمران نیازی سیاست نہیں سازش کررہا ہے، یہ سازش پاکستان کیخلاف ہورہی ہے، ایک شخص کی انا، تکبر ، جھوٹ پر پاکستان قربان نہیں کرسکتے،پہلے عمران نیازی نے پاکستان کی معیشت ڈبونے کی سازش کی، اب خانہ جنگی کرانے کی کوشش کررہا ہے عمران نیازی کی ملک میں خانہ جنگی کرانے کی سازش کچل دینگے، عمران نیازی آج کے دور کا میر جعفر اور میر صادق ہے جو پاکستان کو لیبیا اور عراق بنانا چاہتا ہے میرصادق کے ساتھ بھی صادق لگا ہوا تھا جس طرح عمران نیازی کو سرکاری صداقت کا سرٹیفکیٹ ملا تھا عمران نیازی اسی تھالی میں چھید کررہا ہے جس میں اُس نے کھایا، پاکستان کے بائیس کروڑ عوام، آئین اور قومی ادارے ایک شخص کے غلام نہیں، عمران نیازی عوام کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے، اسے پاکستان کا ہٹلر نہیں بننے دینگے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عمران نیازی نے بہت جھوٹ بول لیا، اب اسے سچائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ صدر کیخلاف آئینی پٹیشن پرصبر وتحمل کی پالیسی اپنائی ہے، صدر نے آئینی اور قانونی خلاف ورزیاں کی ہیں، صدر پاکستان تحریک انصاف کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، پی ٹی آئی کو انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ روس سے لے آتے سستی گیس اور تیل، ہمیں تو معاہدے کا کوئی کاغذ نہیں ملا، الیکشن کب ہونے ہیں، اتحادی فیصلہ کرینگے، خیبرپختونخوا آٹے پر سبسڈی دے تو ٹھیک،ورنہ پنجاب دیگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ نوازشریف نےملک کے وقار کی خاطر ایبسولوٹلی نہیں کہا طریقے سے کلنٹن کو جواب دیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ طعنے دینے کے بجائے پنجاب کو بڑے بھائی کا ثبوت دینا ہوگا، تیل کی بڑھتی قیمتیں پائوں کی زنجیر ہیں، ہم کشمیریوں کو مایوس نہیں کرینگے، پاکستان اور بھارت جوہری جنگ کے متحمل نہیں ، کسی بھی حادثے سے بچنے کیلئے کشمیریوں کو حق ِ خود ارادیت دیا جائے، پاکستان کو جن چیلنجرز کا سامنا اب ہے پہلے کبھی نہیں دیکھے، پاکستان کو تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ خسارے کا سامنا ہو گا، سابق حکومت بغیر مشاورت کے تیل کی قیمتوں میں کمی کر گئی جو کہ آئی ایم ایف کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، عمران خان کو ساڑھے تین سالوں میں پہلے ایسا درد کیوں نہیں جاگا، تیل کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے متعلقہ افسران سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں وافر بجلی تھی، نااہلی کی وجہ سے بجلی کا بحران پیدا ہوا، رولز میں لکھا تھا بجلی پلانٹ کی مرمت سردیوں میں ہوگی، انکے دور میں کھاد مہنگی ہوئی، بلیک ہوئی، اب تین ملین ٹن سے زائد گندم امپورٹ کرنا پڑے گی۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ نیشنل سیکورٹی کونسل (این ایس سی) کی دونوں میٹنگ میں واضح طور پر کہا گیا غیر ملکی سازش نہیں ہوئی، بیرونی سازش کے ساتھ ملک کر حکومت حاصل کرنے سے بڑا کفر نہیں، اب عمران خان پینترا بدل رہے ہیں انکو جولائی سے سازش کا علم تھا، عمران خان نے ماننا تو نہیں لیکن پھر بھی کمیشن بنائیں گے، یہ تبدیلی قانونی اور آئینی طریقے سے آئی ہے، سازش سے نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ریفارمز کے بعد ہی آئندہ انتخابات کا سوچیں گے، جھرلو کی حکومت کو ووٹ کی طاقت سے ختم کیا، ریفارمز کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت دینگے وہ آئیں یا نہ آئیں، حکومت کتنی مدت کیلئے ہے یہ فیصلہ مشاور ت سے ہو گا، آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ میرٹ پر سنیارٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کرینگے، مریم نواز لیڈر ہے، بیٹی ہے، شعلہ بیانی ہو جاتی ہے، میرا نہیں خیال ان کے کسی جملے کا مقصد کسی حاضر سروس آفسر کو تنقید کا نشانہ بنانا ہو۔ شہباز شریف نے کہا کہ بائیڈن کی کال آئی تو شکریہ، نہ آئی تو بھی شکریہ، نواز شریف بیمار ہیں ان کا علاج جاری ہے، میرے قائد کی بیماری کو سیاست کا موضوع نہ بنایا جائے، تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو خوش آمدید کہیں گے، لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی جازت نہیں دینگے، تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو کیسے نمٹنا ہے اسکی حکمت عملی رانا ثنا اللہ بناچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی پر کسی قسم کی قدغن لگانے کا ارادہ نہیں رکھتی،پیکا آرڈیننس سمیت دیگر تمام قوانین کے تحت صحافیوں کیخلاف بلاوجہ کارروائیوں پرہر ممکن تحفظ دیا جائیگا، پیکا آرڈیننس کا جائزہ لینے کا کام پہلے ہی وزارت قانون کو سونپ دیا گیا ہے، حکومت صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور ملک میں ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کیلئے سی پی این ای سمیت صحافیوں کے دیگر نمائندہ اداروں کے ساتھ ملکر تعمیری کام کرنے کی خواہاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں