56

عمران خان کے ٹوئٹر سپیس میں ریکارڈ شرکا: سوشل میڈیا پر دوسری سیاسی پارٹیاں پی ٹی آئی سے اتنی پیچھے کیوں ہیں؟

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مختلف عوامی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں لیکن گذشتہ رات انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹر سپیس کو ڈیجیٹل ’جلسے‘ میں بدل دیا۔
اس سپیس کو ٹوئٹر سپیسز کی تاریخ میں اب تک کا ’سب سے بڑا سپیس‘ کہا جا رہا ہے اور یوں اس جماعت نے گھر بیٹھے ایک لاکھ 65 ہزار افراد کا ’آن لائن جلسہ‘ منعقد کر لیا ہے۔
ٹوئٹر سپیس ایک گروپ کال کی طرح ہوتا ہے جسے ٹوئٹر اکاؤنٹ رکھنے والا کوئی بھی صارف لنک کے ذریعے جوائن کر سکتا ہے۔
کسی بھی سپیس میں مائیک کُل 13 افراد کے پاس ہوتا ہے جن میں ایک میزبان، زیادہ سے زیادہ دو شریک میزبان اور 10 دیگر سپیکر ہوتے ہیں۔ سپیس میں موجود باقی صارفین مقررین کو سن سکتے ہیں اور بولنے کے لیے میزبانوں سے مائیک کی درخواست کر سکتے ہیں۔
اگرچہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں سنہ 2013 کے انتخابات کے پہلے سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ملک کی وہ پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا بیانیہ ناصرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بسے ہزاروں پاکستانیوں تک پہنچانے کا کام شروع کیا اور اب بھی یہ اس کام میں دوسری جماعتوں سے کہیں آگے ہے۔
لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگرچہ تحریکِ انصاف سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والی پہلی جماعت تھی تو آج تقریباً ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی باقی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی سے اتنی پیچھے کیوں ہیں اور کیا پی ٹی آئی اس مرتبہ سوشل میڈیا پر کامیابی کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گی؟
کیا یہ تاریخ کا سب سے بڑا سپیس تھا؟
اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ٹوئٹر خود سپیسز کا ڈیٹا مرتب نہیں کرتا۔ تاہم میٹ نوارا اور دیگر سوشل میڈیا کے تجزیہ کار اسے اب تک کا سب سے بڑا سپیس قرار دے رہے ہیں جس میں ریکارڈ شرکا (ایک لاکھ 65 ہزار افراد) نے ان کی باتیں لائیو سنیں۔
سٹریمنگ گائیڈ لیٹوس گلوبل کے مطابق اس سے قبل یہ ریکارڈ 44 ہزار سامعین کا تھا جنھوں نے کوریا کے کے پاپ سٹار بام بام کی سپیس میں شرکت کی تھی۔
یاد رہے اس سپیس کے وقت عمران خان فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر بھی لائیو تھے جہاں ہزاروں صارفین نے ٹوئٹر سپیس میں عمران خان کی گفتگو کو ویڈیو فارمیٹ کے ساتھ دیکھا اور سنا۔ البتہ سب سے زیادہ تعداد ٹوئٹر پر انھیں سننے کو موجود تھی۔
عمران خان نے اس سپیس کے دوران کیا کہا؟
عمران خان نے فارن فنڈنگ سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی کے مخالف ہیں۔ یہ کیس فارن فنڈنگ کا نہیں ہے، یہ باہر سے پاکستانیوں کا بھیجا ہوا پیسہ ہے، اس طرح تو پورا پاکستان ہی فارن فنڈنگ پر چل رہا ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی زندگی بھر میں کبھی اس طرح کی قومی تحریک نہیں دیکھی جو اس وقت ان کی حکومت ختم کرنے کے بعد شروع ہوئی ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے بڑی مشکل سے ساڑھے تین سال حکومت کی، ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی۔ اتحادی تھے۔ ہمیں سارا وقت بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ اگلے انتخابات میں ہماری پارٹی کو واضح اکثریت دیں۔
نواز شریف کی واپسی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف واپس ائے اور اس بار اُنھیں ’این آر او ٹو‘ مل جاتا ہے تو اس سے پاکستان کا سارا نظامِ انصاف ساکھ گنوا بیٹھے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘فوج کے ادارے کے خلاف کبھی بات نہ کریں، ہمیشہ اس کی مضبوطی کے لیے بات کرنی چاہیے۔‘
صدارتی نظام سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام صرف تب چل سکتا ہے جب معاشرتی معیار ایسے ہوں کہ ہارس ٹریڈنگ کا کوئی تصور ہی نہ کر سکے۔
’سوشل میڈیا ایک ایکو چیمبر‘
جس طرح عمران خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹر سپیس کو ڈیجیٹل ’جلسے‘ میں بدل دیا، اس کے پاکستانی سیاست پر اثرات کے اس حوالے سے سینئیر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نےکہا کہ ’پاکستان کی اکثریت آبادی کی عمریں 18-45 سال کے درمیان ہیں اور تقریباً چھ کروڑ افراد موبائل صارفین ہیں جن میں سے نوجوان سوشل میڈیا پر کافی وقت گزارتے ہیں لہٰذا اثر تو یقیناً ہو گا۔‘
سوشل میڈیا کو ایک ’ایکو چیمبر‘ قرار دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک گنبد ہے جس میں آپ اپنی ہی بات کیے جا رہے ہوتے ہیں، دوسروں کو مخاطب نہیں کر رہے ہوتے اور کسی کی رائے تبدیل نہیں کر رہے ہوتے۔‘
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ یہ چیز آپ کی بنیاد کو تو مضبوط بناتی ہے لیکن اگر آپ اسے انتخابی کامیابی میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں تو ہمارے ہاں ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘ سسٹم ہے، یعنی جو سب سے پہلے پہنچے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک قومی اسمبلی ہے جس میں امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوتا ہے اور وہاں اگر ایک جماعت اپنی بنیاد بنا لیتی ہے تو اس سے 10-15 فیصد ووٹوں پر فرق پڑتا ہے ’لیکن الیکٹیبلز کی اپنی برادری، ڈیرہ اور دھڑا بندی والی حکمتِ عملی ہوتی ہے‘ اور ان کے خیال میں ہمارے ملک میں ابھی سوشل میڈیا انتخابی سیاست پر اتنا اثر انداز نہیں ہوتا۔
’پاکستان کے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی اجارہ داری ہے‘
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو سوشل میڈیا کو انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کرتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی اجارہ داری ہے اور دوسری جماعتوں کا پی ٹی آئی سے مقابلہ تو دور کوئی موازنہ تک نہیں بنتا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی واحد جماعت ہے جو 2011 سے کمال مہارت کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہے اور اس ضمن میں فی الوقت ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا حکمتِ عملی ہے کیا؟
حجا کامران، میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے ساتھ بطور ڈیجیٹل رائٹس لیڈ منسلک ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں سوشل میڈیا بہت دیر سے آیا مگر وہ آیا ہی پی ٹی آئی کی وجہ سے تھا۔ اُن کے مطابق یہ وہ پہلی جماعت تھی جس نے سوشل میڈیا کا استعمال شروع کیا۔
سنہ 2013 کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ اس وقت ٹوئٹر کے بجائے فیس بک زیادہ مقبول تھی اور پی ٹی آئی نے یونیورسٹیوں میں اپنے ایمبیسیڈر بنائے جو نوجوانوں سے فیس بک کے ذریعے بات کرتے جس کی تشہیر پی ٹی آئی باقی پلیٹ فارمز سے کرتی تھی۔ اور نوجوانوں نے دیکھا کہ کوئی ہمارے پاس آ کر ہمارے مسائل پر بات کر رہا ہے، اسی طرح ان کے سپورٹر بڑھے ہیں۔
حجا کے مطابق باقی پارٹیوں نے ان کو دیکھ کر سوچا کہ ’اچھا سیاست میں سوشل میڈیا بھی استعمال ہو سکتا ہے‘ اور اب تو زیادہ تر سیاستدانوں کے بیانات سوشل میڈیا خاص کر ٹوئٹر سے جاری ہو رہے ہوتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا حکمتِ عملی کے حوالے سے حجا کا کہنا ہے اس جماعت نے سنہ 2013 اور 2018 دونوں انتخابات میں نوجوانوں پر توجہ دی جو اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر گزارتے ہیں، حتیٰ کہ اس عمر کے نوجوانوں پر جن کی ابھی ووٹنگ کی عمر تک نہیں تھی کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آگے چل کر یہی لوگ ان کے لیے ووٹ ڈال رہے ہوں گے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ان کے سارے سپورٹر وہ لوگ ہیں جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرکے بڑے ہوئے ہیں جنھیں سوشل میڈیا کے کردار اور اس کی اہمیت کا اندازہ ہے اور یہ ان نوجوانوں کے لیے پرکشش اس لیے تھا کہ کوئی ان سے ان کی مرضی کے میڈیم پر، ان مسائل پر بات کر رہا تھا جو ان کے لیے اہم تھے۔ روٹی کپڑا مکان کے ساتھ ساتھ انھوں نے ڈیجیٹل پر توجہ دیتے ہوئے ڈیجیٹل طریقے سے بات کی، ہر چیز کو ڈیجیٹائز کر دیا، ڈیجیٹل میڈیا ونگ بنایا، ای گورننس پر توجہ دی۔‘
وہ سرکاری اداروں سے متعلقہ شکایات کے لیے بنائے گئے آن لائن سٹیزن پورٹل کی مثال دیتی ہیں کہ ’اب میں سرکاری دفاتر میں جا کر دھکے کھانے اور رشوت دیے بنا کام نکلوانے کے بجائے بس اپنا فون اٹھا کر آن لائن شکایت کر سکتی ہوں جس کا مجھے جواب بھی ملے گا۔‘
حجا کا کہنا ہے ایسی سہولیات سے انٹرنیٹ استعمال کرنے والا نوجوان طبقہ کیسے نہ متاثر ہوتا۔
پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا حکمتِ عملی کے حوالے سے پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کی ماہر اور ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی بانی نگہت داد کا ماننا ہے کہ نا صرف پی ٹی آئی کے لوگ سوشل میڈیا کے ٹرینڈز اور پروڈکٹس پر نظر رکھتے ہیں بلکہ انھیں ان سب ٹولز پر اجارہ داری بنائے رکھنی بھی آتی ہے۔
کیا پی ٹی آئی اس حمایت کو ووٹوں میں تبدیل کر پائے گی؟
تو کیا پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اجارہ داری سپیسز میں ریکارڈ تعداد سے لے کر کروڑوں ٹویٹس والے ہیش ٹیگز اور جلسوں میں شرکا کی تعداد کے مقابلے تک ہی رہ جائے یا پی ٹی آئی اسے ووٹوں میں بھی تبدیل کرنے میں کامیاب ہو پائے گی؟
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ’ہو سکتا ہے کہ اس مرتبہ نوجوان زیادہ تعداد میں تحریکِ انصاف کو ووٹ ڈالیں مگر شہروں اور دیہاتوں کے مقامی حقائق اس سے مختلف ہوتے ہیں۔‘
وہ اس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ فرض کریں لاڑکانہ یا سکھر میں ایک شخص تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہا ہے تو شاید وہ جیت جائے۔ ’شہروں کی حد تک تو سوشل میڈیا اثرانداز ہو گا مگر بہت بڑے پیمانے پر نہیں۔‘
دوسری جانب حجا کامران کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی سپیسز والی حکمتِ عملی اسی صورت کامیاب ہو سکتی ہے اگر وہ ان سیشنز میں پرانی باتیں اور الزامات دہرانے کے بجائے احساس پروگرام اور ہیلتھ کارڈ جیسے منصوبوں کا ذکر کریں جن میں انھیں کامیابی ہوئی۔
’کل کے سپیس میں صرف عمران خان کے حمایتی نہیں تھے بلکہ بے شمار لوگ صرف انھیں سننے آئے تھے۔‘ حجا کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی نے انھیں اپنی جانب راغب کرنے کا موقع گنوا دیا ہے۔
تاہم وہ مانتی ہیں کہ بہت سے لوگ خصوصاً خواتین اور بیرونِ ملک پاکستانی جو جلسوں میں نہیں جا سکتے، انھیں راغب کرنے کے لیے یہ سپیسز بہترین ذریعہ ہیں۔
باقی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی سے اتنا پیچھے کیوں ہیں؟
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ وہ ’پرانی وضع کے سیاستدان ہیں اور وہ اپنے حلقوں اور اپنے اپنے اعتبار سے (اگرچہ انھیں نہیں کرنا چاہیے) سوشل میڈیا کے استعمال میں بے چینی محسوس کرتے ہیں، ان کا اپنا ایک روایتی انداز ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی ہمارا معاشرہ اتنا تبدیل نہیں ہوا اور ہم اپنے طور پر مقابلہ کر لیں گے۔‘
وہ فرانس کے ایکرک زیمور کی مثال دیتے ہیں کہ ٹی وی پروگرام میں یا سپیس میں تو وہ رونق لگا دیتا ہے لیکن ابھی صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں انھیں صرف سات فیصد ووٹ ملے ہیں۔
تاہم حجا کامران کے مطابق دوسری جماعتیں مقابلے کی کوشش تو کر رہی ہیں مگر ان کی حکمتِ عملی یہ رہی ہے کہ وہ ہمارے ماں باپ کی عمر کے لوگوں کو اپروچ کرتے رہے ہیں جنھیں موبائل یا کمپوٹر چلانے کے لیے بھی ٹریننگ کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ عمران خان نے نوجوانوں سے ان کے مفاد کی بات ان کے پلیٹ فارمز پر آ کر کی ہے۔
دوسری جانب نگہت داد کا ماننا ہے کہ باقی جماعتوں کی روایتی سیاست کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بہت زیادہ توجہ اور وسائل صرف کیے ہیں جبکہ دوسری جماعتوں نے سوشل میڈیا پر نہ توجہ دی نہ ان کے پاس اتنے وسائل ہیں۔
اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’صحافیوں کو بھی نہیں پتا کہ ڈیجیٹل میڈیا کا فوکل پرسن کون ہے، حکومت میں سے کس سے بات کرنی ہے۔‘
عمران خان کی خواتین میں مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟
گذشتہ روز کئی فیس بک گروپس میں متعدد خواتین ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بنانے کے طریقے پوچھتی نظر آئیں تاکہ وہ عمران خان کو سن سکیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بظاہر عمران خان کی خواتین حامیوں کی تعداد بھی دوسری جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ نظر آتی ہے۔ حجا کامران اس کی وجہ عمران خان کی جماعت کی جانب سے نوجوانوں پر توجہ اور معلومات تک آسان رسائی کو قرار دیتی ہیں۔
وہ سوشل میڈیا سے پہلے کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’خواتین کو گھر کے کاموں میں لگا کر سیاست سے دور رکھا جاتا، ان سے متعصبانہ رویہ رکھا جاتا کہ صرف مرد ہی سیاست پر بات کر سکتے ہیں۔ اور انتخابات کے وقت انھیں کہا جاتا ہے کہ سارا گھر اس پارٹی کو ووٹ دے گا اور وہ اسی پارٹی کو ووٹ دیتی تھیں۔‘
’مگر اب آگاہی بہت زیادہ ہے اور خواتین ووٹر سیاسی جماعتوں کے منشور سے لے کر ان کے دعووں کی حقیقت آن لائن جا کر پرکھ سکتی ہیں۔ اسی لیے اب ہر پلیٹ فارم پر یہ خواتین نہ صرف سیاسی بحث و مباحثے کا حصہ ہیں بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی کر سکتی ہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں