29

عمران خان کی کال پر پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کال پر آج رات اسلام آباد سمیت ملک بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں پرجوش کارکن شریک ہوئے۔
اتوار کی صبح اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کامیاب سے قبل جمعے کو عمران خان نے عوام کو ملک پر میں پرامن احتجاجی مظاہرے کی کال دی تھی۔
اتوار کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے ان کی اس کال کا جواب تھے۔
عمران خان کا اظہار تشکر
عمران خان نے ایک ٹویٹ میں اپنے جذبات کے اظہار پر پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں نے اس کو پُرزور طریقے سے مسترد کیا۔‘
عمران خان نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’تاریخ میں کبھی لوگوں کو اتنی بڑی تعداد میں بے ساختہ نکلتے نہیں دیکھا جنہوں نے چوروں کی امپورٹڈ حکومت کو رد کیا ہے۔‘
کراچی میں مظاہرہ
کراچی سے نامہ نگارو کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی کال پر پی ٹی آئی کارکنان دیگر صوبوں کی طرح سندھ کے مختلف شہروں میں بھی احتجاج کررہے تھے۔
پی ٹی آئی سندھ کے ایک اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکن صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت صوبے کے مختلف شہروں بشمول حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ، عمرکوٹ اور سانگھڑ سمیت صوبے کے 21 شہروں میں عمران خان کے حق اور نئی بننے والی حکومت کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے کررہے تھے۔
کراچی میں گلستان جوہر کے قریب ملینیم مال سے متعصل راشد منہاس روڈ پر احتجاج کیا گیا۔ جہاں پی ٹی آئی سندھ کی قیادت، خواتین سمیت کارکناں کی بڑی تعداد نے رات ساڑھے 10 بجے سے جلسہ گاہ میں آمد شروع ہوگئی تھی۔
مظاہرے سے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سمیت تنظیمی ذمہ دار وں نے خطاب کیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے پرچموں اور عمران خان کی تصاویر کے ہمراہ کارکنان راشد منہاس روڈ پر جمع ہوئے۔ مرکزی سٹیج جوہر موڑ کے قریب لگایا گیا تھا۔
پشاور میں احتجاجی مظاہرہ
صوبہ خیبر پختونخوا جو کہ پاکستان تحریک انصاف کا گڑھ ہے، نامہ نگار کے مطابق رات ساڑھے نو بجے سے ہی لوگ پشاور پریس کلب کے پاس جمع ہونا شروع ہوگئے۔ اس ہجوم میں وقتاً فوقتاً اس قدر اضافہ ہوا کہ میلوں تک شمالاً جنوباً سڑکیں بھر گئیں۔ احتجاج کے لیے نکلنے والوں میں شہری اور دیہاتی علاقوں سے خصوصاً نوجوان نکلے تھے۔ خواتین اپنے کمسن اور شیرخوار بچوں کو گود میں اٹھائے آئی تھیں، جن کا کہنا تھا کہ قائد عمران خان کی خاطر نکلنے والوں میں ان کے بچوں کو بھی یہ اعزاز ملنا چاہئے۔
شرکا میں خواتین اور مرد ارکان صوبائی اسمبلی بھی آئے تھےجو امریکہ اور اپوزیشن کے خلاف نعرے بلند کررہے تھے۔
اسی احتجاج میں ایک معذور نوجوان عزیزاللہ وہیل چئیر پر بلوچستان کوئٹہ سے آیا ہوا تھا جنہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ صرف آج کے احتجاج میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔
احتجاج میں شریک ایک خاتون گائناکالوجسٹ ڈاکٹر نزہت ضیا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ عمران خان کی لیڈرشپ سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ وہ آسٹریلیا کی زندگی کو خیرباد کہہ کر پاکستان آئیں، تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے وہ اس قدر دلبرداشتہ ہوگئی ہیں کہ ان کا دل چاہتا ہے کہ بوریا بستر گول کرکے واپس چلی جائیں۔
پشاور پریس کلب کے مقام پر ہونے والا دھرنے کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سحری تک جاری رہے گا کیونکہ عوام کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔اور ہر تھوڑے فاصلے پر شرکااپنے ٹولے بنا کر نعرے بلند کررہے ہیں۔
آج کے احتجاج میں نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ بعض اسلام آباد اور پنجاب سے آئے ہوئے نوجوان بھی تھے۔
اسلام آباد میں مظاہرہ
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی ریلی زیرو پوائنٹ سے ایف نائن پارک پہنچی جس میں سیکنڑوں گاڑیاں تھیں۔ ریلی میں کسی بڑے قائد کی عدم موجودگی کے باجود پرجوش کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اس جلسے میں انتظامات پارٹی تنظیموں کے بجائے عام لوگوں نے کر رکھے تھے۔کئی گاڑیاں خواتین ڈرائیو کر رہی تھیں۔
ایف نائن پارک میں عوام کی بڑی تعداد رات ساڑھے نو بجے ہی پہنچنا شروع ہو گئی تھی مگر پارٹی رہنما قدرے تاخیر سے پہنچے۔ سٹیج پر اسد عمر، مراد سعید، عامر کیانی اور شبلی فراز موجود تھے۔ مظاہرین ’کون بچائے گا پاکستان عمران خان عمران خان‘ اور ’امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
خواتین مختلف ٹولیوں کی شکل میں نعرے بازی کر رہی تھیں۔ کئی فیملیز اپنے ساتھ پوسٹرز بھی بنا کر لائی تھیں جن پر ’امپورٹڈ حکومت نامنظور‘ اور امریکہ کے خلاف نعرے درج تھے۔
لاہور میں مظاہرہ
لاہور مظاہرے میں کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور مظاہرہ لاہور کے مشہور لبرٹی چوک میں کیا گیا۔
تحریک انصاف کی جانب سے دی جانے والی کال کے مطابق تمام کارکنان کو رات نو بجے لبرٹی چوک میں اکٹھا ہونے کی ہدایات کی گئی تھی تاہم نو بجے سے پہلے ہی کارکنان لبرٹی گول چکر میں اکٹھے ہونا شروع ہو گئے۔
تحریک انصاف کی مرکزی قیادت میں سے صرف محمود الرشید اس مظاہرے میں موجود تھے۔
مظاہرے میں لوگوں نے طرح طرح کے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جب کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف غم و غصے کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا۔ جب کہ اس مظاہرے میں پارٹی ترانے بھی چلائے جا رہے تھے جن پر کارکنان رقص کر رہے تھے۔ اس مظاہرے میں سٹیج سے امریکہ کے خلاف بھی نعرے بلند بند کیے گئے۔
لبرٹی چوک میں ہونے والے اس مظاہرے کی وجہ سے لاہور کے مرکزی علاقوں میں شدید ٹریفک جام کی صورتحال رہی۔ مظاہرے کے شرکا میں خواتین، بزرگ اور بچے بھی تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں