YouTube Prime Minister Imran Khan takes live public calls 127

عمران خان کی عوام سے براہِ راست گفتگو

وزیر اعظم عمران خان نے ٹیلی فون پر عوام سے براہ راست گفتگو اور سوالوں کے جواب میں کہا کہ کرونا کی پہلی اور دوسری لہر میں پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ نقصان سے بچایا مگر اب کرونا زیادہ پھیلا تو ہم مکمل لاک ڈائون پر مجبور ہوں گے۔ بلاشبہ کرونا تاریخ انسانی کی ایک ایسی بدترین وبا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا، پاکستان میں بھی کرونا کے حملے جاری ہیں ۔ احتیاط بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس عذاب سے پناہ دے ،اس کے ساتھ حکومت کو بھی ویکسین کی فراہمی کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں کہ اس وقت پاکستان کرونا ویکسین کی فراہمی میں بہت پیچھے ہے ۔ وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف کو باہر بھیجنے کے حق میں نہیں تھا ۔ عدلیہ نے بھیج دیا ۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ ساتھ نہ دے تو کرپشن کے خلاف نہیں لڑسکتا۔ عمران خان کی مرضی ہے جو بات کریں مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی مرضی کے بغیر نواز شریف ملک سے باہر نہیں جا سکتے تھے ۔ مہنگائی کے مسئلے پر عمران خان نے کہا کہ مہنگائی کو زیادہ نہ سمجھیں ۔ وینزویلا کا حال دیکھیں ۔ وزیر اعظم کی طرف سے مثال دینے کا مطلب ایک یہ بھی نکلتا ہے کہ دنیا کے دوسو سے زائد ممالک وینزویلا اور پاکستان سے غربت بیروزگاری اور مہنگائی کے حوالے سے بہتر ہیں ، بہرحال اچھی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے کہا کہ عوام تھوڑا صبر کریں، آنے والے وقتوں میں بہتری آئے گی ، قبضہ مافیا سے جان چھوٹے گی اور عوام کے لوٹے گئے 7ہزار ارب واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں ، عوام مجھ پر اعتماد کریں ،پاکستان کے کروڑوں عوام نے تبدیلی کے نعرے اور بہتر مستقبل کی اُمید پر عمران خان کو ووٹ دیا اب عمران خان کو بھی صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی طور پر بہتری کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں ، لوگ تنگ ہیںیہ بھی حقیقت ہے کہ سابقہ ادوار کی لوٹ مار اور کرپشن سے بڑھ کر نقصان موجودہ کابینہ کے نا تجربہ کار وزراء کی نا اہلی سے ہوا۔کرپشن یا نا اہلی ، ملک کو جو بھی نقصان ہوتا ہے اُس کا خمیازہ ملک کے غریب عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے ۔ یہ اچھی بات ہے کہ وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ اقتدار کا پہلا سال خوفناک تھا ، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ غلط فیصلوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور آگے کے لئے بہتری کا سوچا جائے ۔ کہا جاتا ہے ان کو اچھی ٹیم نہیں ملی ابتدا ہی میں غلط فیصلوں سے ملکی معیشت کو بہت نقصان ہوا۔ اوپر سے کورونا کا عذاب آ گیا ہے ۔ درمیان میں صرف ایک سال رہ گیا ہے کہ چوتھے سال سیاستدان پھر سے الیکشن کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں اور اپنے اپنے حلقوں میں رابطے بڑھا دیتے ہیںجب لوگ اپنے اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تو ووٹرز پوچھتے ہیں کہ آپ نے اپنے علاقے کے ساتھ ملک و قوم کے لیے کیا کیا؟ پاکستان کی نئی نسل نے عمران خان پر جو اعتماد کیا ہے اُسے مجروح نہیں ہونا چاہیے ، نوجوانوں کے سامنے کامیاب ترین کرکٹر کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی تھی کہ عمران خان میں کینسر کے ہسپتال جیسے عظیم پراجیکٹ کو مکمل کیا ، عمران خان کرکٹ سے سبک دوش ہو کر شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی تعمیر اور ترقی کے کام میں منہمک ہو گئے جو انہوں نے اپنی والدہ شوکت خانم مرحوم کی یادگار کے طور پر لاہور میں قائم کیا ہے۔یہ ہسپتال پاکستان کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا اب تک اس ہسپتال سے لاکھوں لوگ استفادہ کر چکے ہیں۔ یہ ہسپتال عمران خان نے اندرون و بیرون ملک مخیر حضرات کی فنڈنگ سے قائم کیا۔ اسی بنا پر عمران خان نے بجا طور پر کہا کہ مجھے فنڈنگ کا بہت تجربہ ہے اور ہم فنڈنگ سے کورونا لاک ڈائون سے متاثر ہونے والے دیہاڑی دار طبقے کی مدد کرینگے ۔اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کو ملک کے بڑے اور بنیادی کاموں کی طرف بھی توجہ دینا ہو گی ورنہ نہ صرف یہ کہ ملک و قوم کا نقصان ہو گا اور آنے والے الیکشن میں تحریک انصاف کو بھی کامیابی حاصل نہ ہو سکے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ ہم بڑی مشکل صورتحال میں کام کررہے ہیں ، یہ ٹھیک ہے کہ عوام کی ہم سے بڑی امیدیں تھیں کہ خان کے آنے کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا مگر یہ سب کچھ کہانیوں میں ہوتا ہے ۔ الیکشن کے ذریعے تبدیلی لانا بہت مشکل ہوتا ہے خونی انقلاب کے نتیجہ میں ایسا ہو سکتا ہے۔دراصل دیکھا جائے تو عمران خان اقتدار سے پہلے جو باتیں کرتے آئے آج اُن کی و ہ خود ہی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔عمران خان کے حامی ان کو قول کا پکا قرار دیتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ بہت ضدی ہیں جو بات اپنی زبان سے نکال دیں اسے پورا کر کے بھی دکھاتے ہیں۔ بہرحال ہماری دعائیں عمران خان کے ساتھ ہیں کہ وہ کامیاب ہوں کہ اُن کی ناکامی صورت میں پاکستانی نوجوانوں کے پاس اور کوئی آپشن نہیں۔ بہت سے نوجوانوں نے مجھے بتایا کہ ہم نے وزیر اعظم سے فون پر بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر نمبر نہیں ملا ، حکومت اور وزیر اعظم کو اس شکایت کا ازالہ کرنا چاہیے ، یہ نوجوان اپنی پریشانی کا اظہار وزیر اعظم سے کرنا چاہتے تھے کہ 100دن میں صوبہ بنانے کا وعدہ کب پورا ہو گا ؟یہ ٹھیک ہے کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ملتان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف صوبے کا وعدہ پورا کرے گی اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو غیر فعال کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے اور سیکرٹریٹ کو غیر فعال کرنے کی سازش کرنے والوں کیخلاف تحقیقات ہو رہی ہے ، یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست ،مگر اس مسئلے پر وزیر اعظم خود لوگوں کو اعتماد میں لیں کہ وسیب کے لوگ حکومتی وزراء کے جھوٹے بیانات سے سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں