34

عمران خان پوڈ کاسٹ: فیض حمید کی تبدیلی سے حکومت کی تبدیلی کے منصوبے تک، عمران خان کی پوڈکاسٹ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث

گذشتہ مہینے ایک ٹویٹر سپیس کو جلسے میں تبدیل کرنے کے بعد پاکستان کے سابق وزیراعظم نے اب ڈیجیٹل میڈیا کے ایک اور نئے میڈیم ’پوڈ کاسٹ‘ کے ذریعے لوگوں تک اپنا بیانیہ پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
گذشتہ روز انھوں نے چند یوٹیوبرز کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ کی جو بظاہر کامیاب رہی۔
اس وقت بھی پاکستان میں سوشل میڈیا پر #PodcastWithIK ٹاپ ٹرینڈ ہے اور دورانِ پوڈ کاسٹ سابق وزیراعظم کی کہی گئی باتیں اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا پر زیرِبحث ہیں۔
’نہیں چاہتا تھا فیض حمید تبدیل ہوں‘
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے پوڈ کاسٹ میں مختلف موضوعات پر گفتگو کی جن میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور موجودہ کورکمانڈر پشاور جنرل فیض حمید کا ذکر بھی شامل تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ملک مضبوط اداروں سے چلتے ہیں اس لیے میرا کبھی بھی خیال نہیں تھا کہ میں فوج کے اندر مداخلت کروں۔ مجھے ایک تو معلوم تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خدشہ تھا، اور مجھے ڈر تھا کہ جب امریکی جائیں گے تو اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان کو پہنچنے تھے۔‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’اثرات پھر بھی ہوئے، جب افغانستان آزاد ہوا تو ہمارے کتنے فوجی شہید ہوئے۔ میں چاہتا تھا کہ جو سردیوں میں ہمارا سب سے مشکل وقت ہے اس دوران انٹیلیجنس چیف (جنرل فیض حمید) کو ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں گذشتہ جولائی سے پتا چلنا شروع ہو گیا تھا کہ ن لیگ والوں نے ان کی حکومت کے خلاف منصوبہ بنایا ہوا ہے ’یہ جو انھوں نے ابھی کیا ہے یہ تو بہت پہلے سے منصوبہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اس لیے میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارا انٹیلیجنس چیف تبدیل ہو جب تک یہ سردیاں نہ گزر جائیں کیونکہ انٹیلیجنس چیف حکومت کی آنکھیں اور کان ہوتا ہے۔‘
’جہانگیر ترین اور علیم خان کا مقصد اقتدار میں آکر فائدہ اٹھانا تھا‘
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اس پوڈکاسٹ میں علیم خان اور جہانگیر ترین کے بارے میں پہلی مرتبہ کھل کر بات کی۔
انھوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علیم خان کا مقصد اقتدار میں آ کر فائدہ اٹھانا تھا۔ قوم تب تباہ ہوتی ہے جب چھوٹے چور پکڑ لیں اور بڑے کو چھوڑ دیں۔
عمران خان کا پوڈ کاسٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’علیم خان مجھ سے توقع کرتے تھے کہ میں ان کی زمین قانونی کروا دوں، علیم خان راوی پر 300 ایکڑ زمین خرید کر قانونی کروانا چاہتے تھے، وہاں سے علیم خان اور میرے درمیان دوریاں پیدا ہوئیں۔‘
’اس کے علاوہ ان پر نیب کے کیسز بھی تھے اور پینڈورا پیپرز میں بھی ان کا نام آ گیا۔‘
انھوں نے جہانگیر ترین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کا مسئلہ چینی بحران تھا جس پر کمیشن بھی بنایا، جہانگیر ترین ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے جو ملک کے سب سے بڑے ڈاکو ہیں، شوگر مافیا پر انکوائری بٹھائی تو جہانگیر ترین سے اختلافات ہو گئے۔‘
’اگلی بار پلاننگ کرکے آئیں گے، پتا ہو گا اہم عہدوں پر کسے بٹھانا ہے‘
عمران خان نے گذشتہ حکومت میں آنے وال چیلینجز پر بھی بات کی اور اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ انھیں کچھ تبدیلیاں حکومت میں آتے ہی کر لینی چاہیے تھیں کیونکہ بعد میں وہ بہت مشکل ہو جاتی ہیں۔۔۔ انھوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد پہلے سے پتا ہونا چاہیے کہ اہم عہدوں پر کس نے آ کر بیٹھنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’نیب اور عدلیہ تو ہمارے ہاتھ میں نہیں تھی لیکن باقی اداروں کی بھی آخری سال میں سمجھ آئی۔‘
انھوں نے کہا اگلی بار وہ پہلے سے پلاننگ کرکے آئیں گے، پتا ہو گا کہ کرنا کیا ہے اور اہم عہدوں پر کسے بٹھانا ہے۔
انھوں نے فارن پالیسی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ میں 26 سال سے کہتا آ رہا ہوں کہ میں نہ کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں نہ قوم کو جھکنے دوں گا۔
’میں نے وار آن ٹیرر کی بھی مخالفت کی، میں ہمیشہ سے چاہتا تھا پاکستان ایک آزاد اور خوددار ملک ہو جس کی اپنی آزاد خارجہ پالیسی ہو اور ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔۔۔ اور میں نے اپنی فارن پالیسی اس کے مطابق رکھی۔‘
سوشل میڈیا پر ردِعمل: ’عمران خان کو پتا ہے کہ نوجوان کیا دیکھتے ہیں اور ان تک کیسے پہنچنا ہے‘
پاکستان میں ٹویٹر پر #PodcastWithIK ٹاپ ٹرینڈ ہے اور اس پوڈ کاسٹ کے دوران سابق وزیراعظم کی کہی گئی باتیں سوشل میڈیا پر زیرِبحث ہیں۔
بیشتر افراد سابق وزیراعظم عمران خان کی اس حوالے سے بھی تعریف کر رہے ہیں ہیں کہ انھوں نے نوجوانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کے ایک اور نئے میڈیم کا استعمال کیا جس کے متعلق باقی سیاستدان شاید سوچ بھی نہیں سکتے۔
ایک صارف نے لکھا ’اگر بات نوجوانوں تک بات پہنچانے کی ہو تو اس معاملے میں خان صاحب باقی تمام لیڈروں سے بہت آگے ہیں۔ ٹوئٹر سپیس سے لے کر پوڈکاسٹ تک، عمران خان کو پتا ہے کہ نوجوان کیا دیکھتے ہیں اور ان تک کیسے پہنچنا ہے۔ وہ جینئس ہیں۔‘
اس حوالے سے واشنگٹن ڈی سی میں مقیم جنوبی ایشیائی امور کے ماہر، عزیر یونس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میں پوڈ کاسٹنگ ایک نئی چیز ہے اور ایک سابق وزیر اعظم کا پوڈ کاسٹ انٹرویو دینا ایک تاریخی واقعہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ گفتگو اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ خان صاحب کو سیاسی طور پر کیا مسائل ہیں۔
تاہم وہ یوٹیوبر جنید اکرم کے عمران خان سے بچوں اور اگلی نسل کے لیے مواد کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب سے خاصے مایوس ہوئے ہیں۔۔۔ عزید کہتے نہیں کہ عمران خان نے رحمت العالمین اتھارٹی پر توجہ مرکوز کی اور وہاں سے پھر خطبہ شروع ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں