75

عمران خان نے ذوالفقار بھٹو کے خلاف کس ’بیرونی سازش‘ کا حوالہ دیا؟

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جیب سے ایک خط نکال کر لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیرونِ ملک سے ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے اور انھیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔‘
عمران خان نے اپنی تقریر میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا بھی حوالہ دیا جنھوں نے 45 برس قبل پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کی جانے والی ایک انتہائی جذباتی تقریر میں الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے پیچھے امریکہ ہے جو انھیں اقتدار سے نکالنا چاہتا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو نے جب ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی، ان کی خود داری ہمیشہ پسند تھی، تو فضل الرحمٰن اور نواز شریف کی اس وقت کی پارٹیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنا دیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔‘
ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ’یہ ایک بہت بڑی عالمی سازش ہے جسے امریکہ کی مالی مدد حاصل ہے تاکہ میرے سیاسی حریفوں کے ذریعے مجھے نکال دیا جائے۔‘
اس کی وجہ بتاتے ہوئے بھٹو نے کہا کہ ’ویتنام میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے اور اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کا ساتھ دینے پر امریکہ انھیں معاف نہیں کرے گا۔‘
ایک گھنٹے اور 45 منٹ تک جاری رہنے والی اس تقریر میں انھوں نے امریکہ کو ایک ہاتھی قرار دیا جو بھولتا ہے نہ معاف کرتا ہے۔
بقول بھٹو امریکہ کی سازش کامیاب ہوئی اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی این اے کی تحریک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ضیاالحق نے پانچ جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔
اس کے بعد بھٹو پر نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت میں اپنے بیان میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ان کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ انھوں نے پاکستان کو ایک جوہری طاقت بنانے کا عزم کر لیا تھا اور امریکہ کے وزیرِ خارجہ ہنری کیسنجر کے خبردار کرنے کے باوجود جب انھوں نے جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا تو ہنری کیسنجر نے انھیں دھمکی دی ‘ تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیا جائے گا۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ مبینہ جملہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج بھی گونج رہا ہے اور پاکستان آج جن حالات کا سامنا کر رہا ہے اس میں اس دھمکی اور اس کے نتائج کا بہت بڑا کردار ہے۔ تاہم اس کے گواہ صرف ذوالفقار علی بھٹو ہی ہیں جو اپنے اقتدار کے آخری دنوں اور گرفتاری کے بعد بھی مسلسل چیخ چیخ کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے خلاف امریکہ سازش کر رہا ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں اور پاکستان کے مقامی صنعتکار جن کی صنعتیں قومی تحویل میں لی گئی تھیں اس سازش میں شامل ہیں۔
بھٹو اسی نکتے پر پاکستان کے عوام کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن دیر ہو چکی تھی۔ اس دوران انھوں نے کئی مقامات پر ہنری کیسنجر کی اس دھمکی کے اپنے دعوی کو دہرایا۔ بھٹو نے اپنے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے سامنے، جس کی سربراہی مولوی مشتاق کر رہے تھے، یہ بات کہی کہ انھیں امریکی وزیرِ خارجہ ہینری کیسنجر نے دھمکی دی تھی۔
ہنری کیسنجر کے اس جملے ‘تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیں گے’ کی کسی آزادانہ ذرائع سے تصدیق تو نہیں ہو سکی ہے لیکن اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف مشن جیرالڈ فیورسٹین نے اپریل 2010 میں پاکستانی میڈیا کو اپنے انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ وہ ایک پروٹوکول آفیسر کی حیثیت سے 10 اگست 1976 کو لاہور میں ہونے والی اس میٹنگ کے عینی شاہد ہیں جس میں بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے بارے میں ہینری کیسنجر کی وارننگ کو مسترد کر دیا تھا۔
انھوں نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی منصوبے پر تشویش تھی جو انڈیا کی ایٹمی صلاحیت کی برابری کرنے کے لیے تھا اور اسی لیے ہینری کیسنجر کو بھیجا گیا تھا کہ وہ بھٹو کو خبردار کر دیں۔
‘یہ درست ہے کہ بھٹو نے اس وارننگ کو مسترد کر دیا اور ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا۔ میں اس وقت ایک پروٹوکول آفیسر تھا جب اگست 1976 میں کیسنجر پاکستان آئے تھے اور لاہور میں بھٹو سے ملے تھے۔
جیرالڈ فیورسٹین نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت امریکہ میں انتخابات قریب تھے اور ڈیموکریٹس کے جیتنے کے بہت زیادہ امکانات تھے اور وہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں پاکستان کو ایک مثال بنانا چاہتے تھے۔ کیسنجر نے بھٹو کو ایٹمی پروگارم ترک کرنے کی صورت میں اے سیون اٹیک بمبار طیارے دینے کی پیشکش بھی کی تھی اور بصورتِ دیگر اقتصادی اور فوجی پابندیوں کے بارے میں بتایا تھا۔
اپنے انٹرویو میں جیرالڈ فیورسٹین نے بھٹو کو اپنی کمزوریوں کے باوجود پاکستان کا سب سے باصلاحیت، ذہین اور قابل سیاستدان قرار دیا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو اور امریکی صدر فورڈ، وزیرِ خارجہ ہینری کیسنجر اور دیگر امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کی حرف بہ حرف تفصیلات امریکی محکمہ خارجہ کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اس ریکارڈ میں یہ جملہ تو نہیں ملتا کہ ‘ہم تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیں گے’ لیکن اس میں دلچسپ مکالمات ہیں جن سے بھٹو کی مختلف معاملات پر گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر 183 میمورینڈم آف کنورسیشن میں 31 اکتوبر سنہ 1974 میں اسلام آباد میں امریکی اور پاکستانی سفارتکاروں کی موجودگی میں بھٹو اور کیسنجر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیسنجر امریکی کاشتکاروں کا ذکر کرتے ہیں جن سے معاملات طے کرنے میں خود ان کو اور امریکی حکومت کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
کیسنجر کہتے ہیں کہ امریکی کاشتکاروں کو ملک میں اضافی پیداوار کے ماحول میں اپنی اشیاء ایک فری مارکیٹ میں بیچنے کی عادت ہے جبکہ اس وقت حالات مختلف ہیں اور ملک میں وسائل کو مختص کرنے کا مسئلہ ہے۔ تو بھٹو کہتے ہیں کہ ‘مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ قبل غالباً ہارورڈ یونیورسٹی کے کچھ ماہرین نے مجھے یہ مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کو گندم کی پیداوار میں اضافے کو چھوڑ کر صرف صنعتی پیداوار پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ امریکہ میں ہمیشہ گندم کی اضافی پیداوار ہو گی اور پاکستان کی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی۔’
جیرالڈ فیورسٹین کے علاوہ امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل رامسے کلارک نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ‘میں سازشی تھیوریز پر تو یقین نہیں رکھتا لیکن چلی اور پاکستان میں ہونے والے فسادات میں بڑی مماثلت ہے۔ چلی میں بھی سی آئی اے نے مبینہ طور پر وہاں صدر سیلواڈور الاندے کا تختہ الٹنے میں مدد کی۔‘
رامسے کلارک، جنھوں نے بھٹو پر چلنے والے مقدمے کو خود دیکھا تھا، لکھا کہ ایک مذاق مقدمہ جو ایک کینگرو کورٹ میں لڑا گیا۔
رامسے کلارک ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ لڑنا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں پاکستان گئے تھے لیکن انھیں جنرل ضیاالحق نے اس کی اجازت نہیں دی۔ انھوں نے بھٹو کی پھانسی کو ‘قانونی سیاسی قتل’ قرار دیا تھا۔ رامسے کلارک کا اس سال 9 اپریل کو 93 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔
علی جعفر زیدی پاکستان پیپلز پارٹی کے ابتدائی کارکنوں میں سے ایک ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کے قریب رہے۔ وہ مارچ 1968 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ہفت روزہ نظریاتی جریدے نصرت کے پہلے مدیر مقرر کیے گئے جبکہ حنیف رامے اس کے مدیر اعلیٰ تھے۔ علی جعفر زیدی اس جریدے کے پانچ سال تک مدیر رہے۔ وہ ایک کتاب ‘ اندر جنگل باہر آگ’ نامی ایک کتاب کے بھی مصنف ہیں۔
انھوں نے ان واقعات کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ ان دنوں امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن اور بھٹو صاحب کی تو بہت اچھی دوستی تھی۔ اس کے بعد جب صدر فورڈ آئے تو ہینری کیسنجر ان کے سکیورٹی ایڈوائزر اور وزیرِ خارجہ تھے۔ یہ بات ہے سنہ 1976 کی جب امریکہ میں صدارتی انتخاب کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور جمی کارٹر بھی صدارت کی دوڑ میں شامل تھے۔
‘جمی کارٹر دو باتوں پر پاکستان کے خلاف تھے۔ ایک ایٹمی پروگرام پر اور دوسرے انسانی حقوق کی صورتحال پر۔’
علی جعفر زیدی کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب نے عدالت میں اپنے بیان میں بتایا کہ ہینری کیسجنر نے کہا کہ اگر آپ نے ری پروسیسنگ پلانٹ کے معاہدے کو منسوخ، تبدیل یا معطل نہیں کیا تو ہم آپ کو ایک ‘خوفناک مثال’ بنا دیں گے۔
‘جس کے جواب میں بھٹو صاحب نے کہا کہ اپنے ملک کی خاطر، پاکستان کے عوام کی خاطر میں اس بلیک میلنگ اور دھمکی کو نہیں مانوں گا۔’
اس سے پہلے سنہ 1974 میں جب انڈیا نے ‘سمائلنگ بدھا’ کے نام سے ایٹم بم کا تجربہ کیا تو بھٹو نے ہینری کیسنجر سے اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی سالمیت اور بقا کو خطرہ ہے۔ جس کے جواب میں کیسنجر نے کہا کہ جو ہونا تھا ہو چکا اب پاکستان کو اس حقیقت کے ساتھ گزارا کرنا ہو گا۔
علی جعفر زیدی کہتے ہیں کہ بھٹو اس کے بعد پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں مزید سنجیدہ ہو گئے جس پر وہ پہلے سے کام کر رہے تھے۔
‘سنہ 1965 کی جنگ کے بعد بھٹو صاحب کے ایوب خان سے اختلافات ہو گئے تھے۔ سنہ 1965 ہی میں وہ ویانا گئے تو وہاں ڈاکٹر منیر احمد خان انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں سینیئر پوزیشن میں تھے۔ انھوں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ انڈیا نے اپنے جوہری پروگرام کے ذریعے ایٹم بم بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔’
علی جعفر زیدی کے مطابق بھٹو نے اس وقت سے ہی جوہری منصوبے پر اپنا ذہن تیار کر لیا تھا۔
‘بھٹو بنیادی طور پر ایک پاکستانی قوم پرست تھے۔ وہ پاکستان پر انڈیا کے تسلط کو کسی بھی طرح قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ چنانچہ سنہ 1965 سے ہی جوہری پروگرام سے متعلق وہ ذہنی طور پر تیار ہو چکے تھے۔’
علی جعفر زیدی کے مطابق سنہ 1972 میں بھٹو نے ڈاکٹر منیر احمد خان کو قائل کیا اور انھیں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا چیئرمین بنا دیا اور ڈاکٹر عبدالسلام کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا مشیر مقرر کیا۔
‘اس طرح ملک کے جوہری پروگرام پر تیزی سے کام شروع ہوا۔ جب میں نے قائد اعظم یونیورسٹی کے لیے کام کرنا شروع کیا تو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے منسلک ایک ادارہ تھا۔ کیونکہ یونیورسٹی کی پلاننگ اور ڈویلپمنٹ میری ذمہ داری تھی اس لیے اس انسٹیٹیوٹ کی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بھی میری ذمہ داری تھی، انسٹیٹیوٹ کی ساری ڈولپمنٹ گرانٹ اور فائیو ایئر پلان وغیرہ میرے ذریعے ہی حکومت تک جاتے تھے۔ اس میں کیونکہ سکیورٹی اور حساس معاملات کافی زیادہ تھے اس لیے بھٹو صاحب نے بعد میں وہ انسٹیٹیوٹ براہ راست اپنے ماتحت کر لیا تھا یعنی قائدِ اعظم یونیورسٹی جو اس وقت اسلام آباد یونیورسٹی ہوا کرتی تھی اس سے علیحدہ کر کے ایک آزاد ادارہ بنا کر اپنے ماتحت کر لیا تھا۔’
‘میں جب ہفت روزہ جریدے نصرت کا ایڈیٹر تھا تو بھٹو صاحب کی بہت سے تحریروں کا اردو ترجمہ خود کیا کرتا تھا۔ انھوں نے ‘مِتھ آف انڈیپینڈینس’ نامی کتاب سنہ 1970 میں لکھی جس کا اردو ترجمہ میں نے کیا۔ اس کتاب میں بھٹو صاحب نے لکھا کہ اگر ہم نے اپنا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے جاری رکھا اور انڈیا نے ایٹمی ہتھیاروں میں برتری حاصل کر لی تو وہ ہمیں بلیک میل کرتا رہے گا۔ انڈیا کو پاکستان کی ایئر فورس پر برتری حاصل ہو جائے گی اور پاکستان شمالی علاقہ جات اور کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جبکہ باقی پاکستان کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کر کے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ کر ختم کر دیا جائے گا۔’
علی جعفر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک ادارہ اٹامک انرجی کمیشن تو سنہ 1957 سے بنا ہوا تھا لیکن اس کا مقصد توانائی کا حصول تھا جبکہ بھٹو صاحب تو بھارت کے مقابلے میں ایٹم بم حاصل کرنا چاہتے تھے۔
‘یہ سب امریکہ اور یورپ کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بھی معلوم تھا۔ اس لیے پاکستان کا ایٹمی پروگرام ان ممالک کی نظر میں ایک خطرہ تھا اور خطرے کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔’
سنہ 1976 اور 1977 میں جب بھٹو کی حکومت کے خلاف پی این اے کی تحریک چل رہی تھی تو امریکہ میں جمی کارٹر صدر بن چکے تھے اور ہینری کیسنجر کی جگہ سائرس وینس وزیرِ خارجہ تھے۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حزبِ اختلاف کی تحریک کو امریکی حمایت حاصل تھی۔
‘امریکی صدر جمی کارٹر پی این اے کی تحریک کو انسانی حقوق کی تحریک قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ بھٹو اس تحریک کو کچلنا چاہتے ہیں۔ اس تحریک کو امریکہ کی مالی مدد حاصل تھی اور اصل میں سارا معاملہ پاکستان کے جوہری پروگرام سے ہی متعلق تھا۔’
‘بھٹو بنیادی طور پر ایک پاکستانی قوم پرست تھے۔ وہ پاکستان پر انڈیا کے تسلط کو کسی بھی طرح قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ چنانچہ سنہ 1965 سے ہی جوہری پروگرام سے متعلق وہ ذہنی طور پر تیار ہو چکے تھے۔’
علی جعفر زیدی کے مطابق سنہ 1972 میں بھٹو نے ڈاکٹر منیر احمد خان کو قائل کیا اور انھیں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا چیئرمین بنا دیا اور ڈاکٹر عبدالسلام کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا مشیر مقرر کیا۔
‘اس طرح ملک کے جوہری پروگرام پر تیزی سے کام شروع ہوا۔ جب میں نے قائد اعظم یونیورسٹی کے لیے کام کرنا شروع کیا تو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے منسلک ایک ادارہ تھا۔ کیونکہ یونیورسٹی کی پلاننگ اور ڈویلپمنٹ میری ذمہ داری تھی اس لیے اس انسٹیٹیوٹ کی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بھی میری ذمہ داری تھی، انسٹیٹیوٹ کی ساری ڈولپمنٹ گرانٹ اور فائیو ایئر پلان وغیرہ میرے ذریعے ہی حکومت تک جاتے تھے۔ اس میں کیونکہ سکیورٹی اور حساس معاملات کافی زیادہ تھے اس لیے بھٹو صاحب نے بعد میں وہ انسٹیٹیوٹ براہ راست اپنے ماتحت کر لیا تھا یعنی قائدِ اعظم یونیورسٹی جو اس وقت اسلام آباد یونیورسٹی ہوا کرتی تھی اس سے علیحدہ کر کے ایک آزاد ادارہ بنا کر اپنے ماتحت کر لیا تھا۔’
‘میں جب ہفت روزہ جریدے نصرت کا ایڈیٹر تھا تو بھٹو صاحب کی بہت سے تحریروں کا اردو ترجمہ خود کیا کرتا تھا۔ انھوں نے ‘مِتھ آف انڈیپینڈینس’ نامی کتاب سنہ 1970 میں لکھی جس کا اردو ترجمہ میں نے کیا۔ اس کتاب میں بھٹو صاحب نے لکھا کہ اگر ہم نے اپنا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے جاری رکھا اور انڈیا نے ایٹمی ہتھیاروں میں برتری حاصل کر لی تو وہ ہمیں بلیک میل کرتا رہے گا۔ انڈیا کو پاکستان کی ایئر فورس پر برتری حاصل ہو جائے گی اور پاکستان شمالی علاقہ جات اور کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جبکہ باقی پاکستان کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کر کے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ کر ختم کر دیا جائے گا۔’
علی جعفر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک ادارہ اٹامک انرجی کمیشن تو سنہ 1957 سے بنا ہوا تھا لیکن اس کا مقصد توانائی کا حصول تھا جبکہ بھٹو صاحب تو بھارت کے مقابلے میں ایٹم بم حاصل کرنا چاہتے تھے۔
‘یہ سب امریکہ اور یورپ کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بھی معلوم تھا۔ اس لیے پاکستان کا ایٹمی پروگرام ان ممالک کی نظر میں ایک خطرہ تھا اور خطرے کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔’
سنہ 1976 اور 1977 میں جب بھٹو کی حکومت کے خلاف پی این اے کی تحریک چل رہی تھی تو امریکہ میں جمی کارٹر صدر بن چکے تھے اور ہینری کیسنجر کی جگہ سائرس وینس وزیرِ خارجہ تھے۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حزبِ اختلاف کی تحریک کو امریکی حمایت حاصل تھی۔
‘امریکی صدر جمی کارٹر پی این اے کی تحریک کو انسانی حقوق کی تحریک قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ بھٹو اس تحریک کو کچلنا چاہتے ہیں۔ اس تحریک کو امریکہ کی مالی مدد حاصل تھی اور اصل میں سارا معاملہ پاکستان کے جوہری پروگرام سے ہی متعلق تھا۔
بھٹو کی سیاسی غلطیاں
لیکن سوال یہ ہے کہ ایک عوامی لیڈر بھٹو عوام کو متحرک کیوں نہیں کر سکے۔
علی جعفر زیدی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے انتخابات جیتنے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں کنوینشنل لیگ اور دوسری لیگوں کے لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے تھے۔
‘سنہ 1973 میں میرا اسی بات پر بھٹو صاحب سے اختلاف ہوا تھا کیونکہ میرا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمارے کارکنوں کے گھروں سے لڑکیوں کو اغوا کیا تھا، پیپلز پارٹی کا جھنڈا لگانے پر گھروں کو جلایا تھا۔ یہ لوگ اگر پارٹی میں آتے چلے گئے تو ہماری اصل طاقت ہمارے کارکن اور عوام ہم سے دور ہوتے جائیں گے اور جب مشکل وقت آئے گا تو یہ نئے آنے والے بھاگ جائیں گے اور جب ہم زمین پر گریں گے تو وہاں عوام نہیں ہوں گے۔’
علی جعفر زیدی کا کہنا ہے کہ بھٹو صاحب نے اس اندرونی طاقت کو نظر انداز کیا، ان فورسز کو نظر انداز کیا جو اصل میں ان کی طاقت تھیں یعنی پارٹی کے کارکن اور عوام جن کے سہارے وہ بڑی لڑائی لڑی جا سکتی تھی جو وہ لڑنا چاہتے تھے۔
علی جعفر زیدی بتاتے ہیں کہ جب لاہور میں بھٹو پر مقدمہ چل رہا تھا تو اس موقع پر بھی تیس چالیس لوگوں سے زیادہ کوئی نہیں آتا تھا۔بھٹو صاحب کو ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا کہ لوگ اُن کے ساتھ ہیں اور وہ جب چاہے انھیں متحرک کر لیں گے۔ وہ تو خارجہ پالیسی پر توجہ دینا اور عالمی طاقتوں سے لڑنا چاہتے تھے۔
مورخ اور پاکستان کی سیاسی تاریخ پر کئی کتابوں کی مصنف عائشہ جلال اپنی کتاب ‘دی سٹرگل فار پاکستان’ میں لکھتی ہیں کہ بھٹو نے اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ سے سبق سیکھا ہوتا تو شاید وہ پانچ جولائی 1977 کی فوجی بغاوت کو ٹال سکتے تھے۔
‘وہ اپنے آرمی چیف (جنرل ضیاالحق) کے بارے میں ضرورت سے زیادہ پراعتماد اور پر امید تھے۔ انھوں نے اس توقع پر پی این اے سے مذاکرات کا آغاز کیا کہ وہ اسے گھیر لیں گے۔ وقتی سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے انھوں نے اپنے استعفی کے علاوہ پی این اے کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے۔‘
’لیکن انھیں فیصلہ کرنے میں دیر ہو چکی تھی اور مذاکرات میں ہونے والی تاخیر نے پی این اے کی قیادت کو فوج سے رابطوں کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ مطالبات کی فہرست میں نو اضافی مطالبات کا اضافہ کر دیا گیا۔ اب اپوزیشن صرف نئے انتخابات ہی نہیں بلکہ ان آئینی ترامیم کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کر رہی تھی جو شہری آزادیوں اور جوڈیشیل اتھارٹی پر پابندیوں سے متعلق تھیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان سے فوج کی واپسی اور حیدرآباد سازش کیس سے متعلق قائم ٹرائبیونل کا خاتمہ بھی مطالبات میں شامل ہو چکا تھا۔’
عائشہ جلال لکھتی ہیں کہ جنرل ضیاالحق نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد آخری دو کے علاوہ تمام مطالبات تسلیم کر لیے۔ جس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ وہ شروع ہی سے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور اسی لیے مذاکرات کی ناکامی چاہتے تھے۔ جولائی 1977 کے ابتدائی دنوں میں فوجی بغاوت کے تمام انتظامات کر لیے گئے تھے۔
بھٹو نے پانچ جولائی کی درمیانی شب پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی نئی شرائط لے کر آ سکتے تھے لیکن وہ پی این اے کی مذاکراتی ٹیم کی طرح بے بس نہیں ہیں اور صبح ہوتے ہی معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ لیکن اس کی نوبت نہیں آئی اور جنرل ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔
علی جعفر زیدی بھٹو کے اقتدار کے آخری دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے مایوسی کے عالم میں کئی کوششیں کیں۔ روس کی جانب ہاتھ بڑھایا تو کبھی مولانا مودودی کی حمایت حاصل کرنے ان سے ملنے پہنچ گئے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ انھیں خود بھی محسوس ہو رہا تھا کہ اب معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔
عائشہ جلال کے مطابق بھٹو نے اس امید پر ایک ایسے شخص کو فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا جو ان کے خیال میں ان سے بہت دب کر رہے گا اور اس طرح وہ ایک ایسے ادارے کو قابو میں رکھ سکیں گے جو بغیر کسی جواب دہی کے پاکستان میں منتخب حکومتوں کو ختم کرتا رہا ہے۔ ‘صورتحال کو سمجھنے میں یہ بھٹو کی ناقابلِ تلافی غلطی تھی۔’
‘اگر جنرل ضیاالحق نے امریکہ کی ہدایت کے مطابق عمل نہ بھی کیا ہو، جیسا کہ بھٹو نے جیل سے الزام لگایا تھا، آنے والے دنوں میں جنرل ضیاالحق کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا ایک طے شدہ منصوبہ تھا جسے فوج کی اعلیٰ قیادت کی حمایت حاصل تھی۔’
عائشہ جلال لکھتی ہیں کہ ایک طرف امریکہ میں صدر جمی کارٹر کی قیادت میں نئی انتظامیہ کا آنا اور دوسری طرف بھٹو کی مقامی مشکلات میں اضافہ دو ایسے واقعات تھے جو تقریباً ایک ہی وقت میں شروع ہوئے۔
‘امریکہ کی نئی حکومت جوہری عدم پھیلاؤ کے اصول پر سختی سے عمل کرنا چاہتی تھی اور پاکستان پر اس کے دباؤ کی بڑی وجہ یہی تھی۔ اس دباؤ کی وجہ جنوبی ایشا کے جیو پولیٹیکل حالات نہیں تھے اور نہ ہی یہ وجہ تھی کہ امریکہ انتظامیہ اِن حالات پر بہت گہری نظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہی تھی۔’
عائشہ جلال لکھتی ہیں کہ اس کے مقابلے میں صدر جمی کارٹر سے پہلے صدر نکسن اور صدر فورڈ کی ریپبلیکن انتظامیہ پاکستان کے بارے میں ہمدردانہ رویہ رکھتی تھیں اور انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی مشکلات اور کمزوریوں کو سمجھتی تھی۔
نکسن اور فورڈ انتظامیہ میں امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کیسنجر نے پاکستانی وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر زور دیا تھا کہ وہ جوہری طاقت بننے کا خیال ذہن سے نکال دیں۔ جب وہ پاکستان کو فرانس سے نیوکلیئر ری پروسیسینگ پلانٹ کا معاہدہ مسنوخ کروانے پر قائل نہ کر سکے تو انھوں نے خبردار کیا اور کہا کہ نئی انتظامیہ اس معاہدے کو ختم کروانے کی بھرپور کوشش کرے گی اور اس سلسلے میں پاکستان کو ایک مثال بنا دیا جائے گا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے کئی تجزیہ کاروں کے خیال میں ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی سیاسی غلطیوں میں بلوچستان میں قبائلی تحریک کو کچلنے کے لیے فوج کو بلانا، نیشنل عوامی پارٹی کی مخلوط صوبائی حکومت کو ختم کرنا اور خود اپنی پارٹی کو نچلی سطح پر منظم نہ کرنا وہ اقدامات تھے جن کی وجہ سے جب ان پر مشکل وقت آیا تو وہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی حمایت حاصل نہ کر سکے۔
بھٹو صاحب کے دعویٰ کے مطابق ہنری کیسنجر نے انھیں جو دھمکی دی تھی کہ ‘ تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیں گے’ پاکستان کے اس سب سے مقبول اور متنازع سیاستدان کی شاید اپنی غلطیوں کی وجہ سے بھی امریکہ کو اس مبینہ دھمکی پر عمل درآمد میں آسانی ہوئی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں