16

عمران خان من پسند آرمی چیف تعینات کرنا چاہتے تھے، جنرل باجوہ مزید توسیع نہ لینے کا خود کہہ چکے :وزیر دفاع

لندن(نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ سیل) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ مزید توسیع نہ لینے کا خود کہہ چکے، فیض حمید کا نام سینیارٹی لسٹ میں ہوا تو ضرور زیر غور آئیگا، ہوسکتا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل انتخابات کروا دیئے جائیں، تب تک نگران حکومت ہوگی اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ نومبر سے پہلے ہی نگران حکومت چلی جائے اور نئی حکومت آجائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میںکیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی عدلیہ کی طرح ہونا چاہیے، عدلیہ میں چیف جسٹس کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی قیاس آرائی نہیں ہوتی، مجھے معلوم ہے کہ 2028 میں چیف جسٹس کون ہوگا، عمران خان من پسند آرمی چیف تعینات کرنا چاہتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ انکے سیاسی مفادات اور ان کی حکومت کا تسلسل برقرار رہے۔ وزیر دفاع نے من پسند آرمی چیف کی تعیناتی حکومت جانے کی وجہ ہونے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم فوج کے بھیجے ہوئے ناموں میں سے کسی ایک نام کو منتخب کرتے ہیں۔ ن لیگ کی حکومت میں 2013 اور 2016 میں دو آرمی چیفس کو تعینات کیا گیا تھا اس وقت کے وزیراعظم نے فوج کی تجویز کا احترام کرتے ہوئے آرمی چیف تعینات کیے تھے۔ نواز شریف جنرل راحیل شریف کو نہیں جانتے تھے جبکہ راولپنڈی کے کور کمانڈر ہونے کے سبب سابق وزیراعظم جنرل قمر جاوید باجوہ کو جانتے تھے لیکن دونوں مرتبہ ادارے کی تجویز کا ہی احترام کیا گیا۔ اب بھی میرٹ کی بنیاد پر ہی آرمی چیف کی تعیناتی عمل میں لائی جائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں