32

عمران خان آج عدالت جائیں گےضمانت نہ ملی توگرفتاری یقینی

عمران خان آج عدالت جائیں گےضمانت نہ ملی توگرفتاری یقینی
تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان جمعرات کی صبح اسلام آباد میں پولیس کے اعلیٰ افسران کو دھمکیاں دینے کے الزام میں درج کیے گئے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔
20 اگست کو اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں اپنی جماعت کے رہنما شہباز گل کی رہائی کے لیے نکالی جانے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سمیت اعلٰی افسران کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی تھیں جس پر ان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس مقدمے کے اندراج کے بعد یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت عمران خان کو بنی گالہ سے گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ خبریں سن کر تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد بنی گالہ پہنچی تھی۔
22 اگست کو عمران خان کے وکلا نے ان کی حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے عمران خان کے پیش نہ ہونے کے باوجود انھیں تین دن کی راہداری ضمانت دیتے ہوئے 25 اگست تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کو کہا تھا۔

بدھ کو تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ قانون بابر اعوان نے کہا تھا کہ عمران خان جمعرات کی صبح خود عدالت میں پیش ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بنی گالہ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی زیر صدارت قانونی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں عمران خان نے انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں بابر اعوان، فواد چودھری کے علاوہ دیگر قانونی ماہرین نے شرکت کی۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر عمران خان کو ضمانت نہ ملی تو اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ عمران خان کو کمرۂ عدالت سے ہی گرفتار کیا جائے۔ عمران خان کی پیشی کے حوالے سے اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے اردگرد سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں