28

عمران حکومت کے خلاف بیرونی سازش کا ثبوت نہیں، اداروں نے قومی سلامتی کمیٹی کو واضح بتایا کہ انہیں اپوزیشن سے ملکر کسی قسم کی سازش، اندرونی معاملات میں مداخلت یا دھمکی کے شواہد نہیں ملے، متعلقہ حکام کا تحریری جواب

اسلام آباد(نمائندہ نیوز)عمران حکومت کیخلاف بیرونی سازش کے ثبوت نہیں ملے، متعلقہ حکام کا تحریری جواب میں کہناہےکہ اداروں نے قومی سلامتی کمیٹی کو واضح بتایا کہ انہیں اپوزیشن سے ملکر کسی قسم کی سازش، اندرونی معاملات میں مداخلت یا دھمکی کے شواہد نہیں ملے ۔اینکر نے تحریری جواب پڑھتے ہوئے کہاکہ یہ تحریری جواب سپریم کورٹ کیسے جاسکتا ہے؟ اس سے پہلے میمو گیٹ اسکینڈل میں اس کی نظیر موجود ہے ، اس وقت کے آرمی چیف اور ڈی جی ISIنے حلفیہ بیان میں میمو کو حقیقت قرار دیا تھا۔گزشتہ روز ایک پروگرام میںاینکر نے کہاکہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے خبر شائع کی ہے اور ہم نے اس کے اوپر جو اعلیٰ سرکاری حلقے ہیں ان سے تفصیل مانگی ہےکہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس کے اندر جو تفصیلات رکھی گئی تھیں کیااس میں یہ بتایا گیا تھا کہ اپوزیشن رہنمائوں نے امریکا کی ایما پر عمران خان کی حکومت کو گرانے کی سازش کی؟ امریکا نے اس میں پیسہ اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا ؟کیا ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف نے ایسے منٹس کے اوپر دستخط کئے ؟کیا ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز آئی ایس آئی، ایم آئی،آئی بی نے اس کی توثیق کی؟ میرے پاس جو جواب ہے یہ تحریری ہے، میں اس کو پڑھ کے سنارہا ہوں ،اینکر ندیم ملک نے کہاکہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہیں بیرونی سازش، دھمکی یا کسی بھی قسم کی اندرونی معاونت کا ذکر نہیں ہے، وزیراعظم عمران خان،انٹیلی جنس سربراہان اور آرمی چیف وہاں بیٹھے ہوئے تھے ،ذمے دار اداروں نے قومی سلامتی کمیٹی کو واضح بتایا کہ انہیں کسی بیرونی سازش، دھمکی یا پھر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ثبوت نہیں ملے یہ تحریری جواب میں پڑھ رہا ہوں، مجھے تحریری جواب موصول ہوا ہے، قومی سلامتی کمیٹی نے یہ بھی واضح کردیا کہ کسی قسم کے روابط اور نہ ہی پاکستان کے خلاف کسی سازش کے شواہد ملے ہیں ،اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ میرے پاس تو تحریری جواب آگیا ہے سپریم کورٹ کو اب یہ جواب کون بتائے گا؟ اب ایک ہمارے پاس بڑا مشہور زمانہ میمو کمیشن میموگیٹ اسکینڈل ہے جس میں نوازشریف سپریم کورٹ میں چلے گئے تھے الزام یہ تھا کہ حسین حقانی نے وہاں سے امریکی کوئی وزارت دفاع سے مل کے کوئی ایسی سازش تیار کی تھی جب سپریم کورٹ میں کیس چلا تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی ا ور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ریٹرن ایفے ڈیوڈ لے کر سپریم کورٹ گئے تھے تحریری طورپر انہوںنے جواب جمع کرایا تھاکہ میمو ایک حقیقت ہے تو قوی امکان ہےکہ سپریم کورٹ کل ڈی جی آئی ایس آئی کو طلب کر لے اور ان سے یہ رپورٹ مانگے کہ کیا آپ کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ پاکستان میں کسی ایک یا ایک سے زائد اپوزیشن لیڈرز نے امریکی حکومت کی ایما پر حکومت گرانے اور رجیم چینج کرنےکی کوشش کی ہے تو اس کے ثبوت پیش کریں اگر ثبوٹ دیے جاتے ہیںتو پھر سزا ہے پھر ڈی چوک پر آرٹیکل 6کے تحت پھانسی لگ جائیں گی اور اگر وہ آئی ایس آئی چیف یہ جواب دیتے ہیں کہ نہیں، کچھ نہیں ملا تو پھر ہوسکتا ہے کہ کلین چٹ بھی مل جائے یہ کل کی ایک متوقع ڈیولپمنٹ ہے جس کے اوپر میں آپ کے سامنے گوش گزار کررہا ہوں ۔ ا س پر شبلی فراز نے کہاہےکہ یہ ریاضی نہیں کہ آپ کہیں ٹو پلس ٹو 4ہوتا ہے آپ پہلے مجھے یہ بتادیں یہ جو آپ نے پڑھااس کی سورس کیا ہے جس کے جواب میں صحافی نے کہاکہ بہت اعلیٰ پائےکے کھلاڑی ہیں جن کا نام نہیں بتاسکتا اس پر شبلی فرازنے کہاکہ جبآپ نام نہیں لے سکتے تو آپ بریکنگ نیوز کیسے دے رہے ہیں ؟اس پر صحافی نے کہاکہ میں دے سکتا ہوںاس پر شبلی فراز نے کہاکہ صحافی یہ بھولیں کہ وہ ایک چینل پر بیٹھے ہیں اوریہ 22کروڑ عوام کا شو ہے،اس پر صحافی نے کہاکہ آپ کےپاس خط ہے، دھمکی کا کہاگیا کیا آپ لوگوں نے نام بتایاتھاکہ خط کس کاہے؟صحافی اپنے کام کے دوران فیکٹس چیک کرتاہے یہ کوئی غلطی نہیں ہے یہ خبر ہے، میں نے خبر رپورٹ کی ہے اور آفیشل سورسز سے رپورٹ کی ہےاور آپکو کوئی حق نہیں کہ آپ مجھ سے میرے ذرائع کے بارے میں پوچھیں جس کے جواب میں شبلی فراز نے کہاکہ میں ایک ذمہ دار رکن کابینہ کی حیثیت سے یہ پوچھنے کا حق رکھتا ہو بلکہ اسی طرح جیسے آپ یہ کہہ رہے ہیںکہ جی بریکنگ نیوز میں بتاتا ہوں ۔صحافی نے شبلی فراز سے سوال کیاکہ آپ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں تھے ؟ اس کے جواب میںشبلی فرازنے کہاکہ ایک سیکنڈجب یہ لیٹر آیا اور یہ کون بھیجتا ہے ہمارا سفیرر بھیجتا ہے۔ اس پرصحافی نےسوال کیاکہ یہ وزیراعظم نے بولا تھا یہ لیٹر آیا ہے اسد مجید کا ؟اس پر شبلی فراز نے کہاکہ آپ بال کی کھال نہ اتاریں، میں آپ کو بتارہا ہوں آپ کے ملک کی ساری چیزیں سفیر ہینڈل کرتا ہے،امریکی یا بائیڈن کوئی وزیراعظم عمران خان یا آپکو یا شبلی فراز کو نہیں بلائیں گے، جو ان کے ہائی لیول تھے انہوں نے رپورٹ کیا ہے کہ جی یہ باتیں ہوئی ہیں یہ فنکشنری کا نام بھی دیا ہے اور بتایا بھی ہے کہ کیا کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان میں عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی تو کیا ہوگااور اگر کامیاب ہوگئی تو کیا ہوگا ،وہ پوری قوم کو اب پتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں