47

عمران حکومت، خاتمے کا آغاز، مخالف 199، 177 اپوزیشن ارکان کے ساتھ تحریک انصاف کے 22 منحرف ارکان بھی شامل، وزیراعظم اکثریت کھوچکے، استعفیٰ دیکر گھر جائیں، حزب اختلاف

اسلام آباد، کراچی (نیوز ایجنسیاں ) عمران خان حکومت کے خاتمے کا آغاز ہوگیا، تحریک عدم اعتماد کیلئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا اسکور 199ہوگیا، ایم کیوایم پاکستان بھی حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن آملی، وفاقی کابینہ میں شامل ایم کیو ایم کے دو وفاقی وزرا فروغ نسیم اور امین الحق نے اپنے استعفے وزیراعظم آفس میں جمع کرادیئے، سندھ ہائوس کے اجلاس میں اپوزیشن کے 177 ارکان جبکہ عامرلیاقت سمیت پی ٹی آئی کے 22 منحرف ارکان نے شرکت کی، جسکے بعد اپوزیشن ارکان کی تعداد 199تک جا پہنچی، حزب اختلاف نے اکثریت کھونے پر وزیراعظم کو استعفیٰ دیکر گھر جانے کا مطالبہ کردیا، ایم کیوایم پاکستان کے کنوینرخالدمقبول صدیقی نےکہا تبدیلی میں اپوزیشن کے ساتھ ہیں، فیصلہ ملکی مفاد میں کیا، بلاول بھٹو زرداری نے کہا بہت پہلے سےخواہش تھی ایم کیوایم پاکستان اورپیپلزپارٹی ملکر چلیں، شہبازشریف نے پریس کانفرنس میں کہا امید تو نہیں لیکن عمران خان استعفیٰ دیکر روایت قائم کریں، مولانافضل الرحمٰن نےکہا ساڑھے3سال پہلےشروع ہونے والے ڈرامےکاڈراپ سین ہوگیا، ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کی اپوزیشن کی حمایت کےبعدایک اورحکومتی اتحادی جی ڈی اے نےبھی اپوزیشن سے رابطہ کرلیا۔ تفصیلات کےمطابق سندھ ہاؤس میں اپوزیشن قائدین کا اجلاس ہوا جس میں مولانا فضل الرحمٰن، آصف زرداری اورشہبازشریف نے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے22منحرف ارکان سمیت 199ارکان نےشرکت کی،پی ٹی آئی کے عامر لیاقت حسین اوروزیراطلاعات فوادچوہدری کےکزن فرخ الطاف بھی سندھ ہائوس پہنچے۔قبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نے اسلام آباد میں متحدہ اپوزیشن کے ساتھ پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سے باقاعدہ علیحدگی کا اعلان کردیا جبکہ اپوزیشن سے معاہدے پر دستخط کیے۔ اسلام آباد میں متحدہ اپوزیشن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کوئی شق ہمارے سیاسی فائدے کیلئے نہیں بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے سیاسی مفادات پر ہم نے پاکستان کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے، آج کے دن ہم ایسی سیاست کا آغاز کرنا چاہتے ہیں جہاں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے، آج کامیابی سے زیادہ امتحان کا دن ہے، چاہتے ہیں سیاسی اختلافات ختم کرکے آگے بڑھیں، آج قوم کو ایک امتحان کا سامنا ہے جس سے گزرنا ہے۔خالد مقبول نے کہا کہ تبدیلی کے اس سفر میں اب متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہیں، امید ہے آنے والی تبدیلی ملک کیلئے اچھی ثابت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ اسمبلی میں ہماری 26 نشستیں تھیں جن کو 7 کردیا گیا، اسکے باوجود نہ ہماری 7 نشستوں کے بغیر حکومت بن سکتی ہے اور نہ ہی جاسکتی ہے۔شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی جرگہ جو اپوزیشن کا ہے، اس کی طرف سے کی گئی کاوشوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے، ایم کیو ایم کے دوستوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے 22 کروڑ عوام کی خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔خصوصی شکریہ آصف علی زرداری اور بلاول کا جنھوں نے تمام مذاکرات میں کھلے دل کے ساتھ اور کھلے ذہن کے ساتھ ماضی کو ایک طرف رکھتے ہوئے نئے سفر کا آغاز کیا ہے جو پاکستان، سندھ اور کراچی کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہے۔انھوں نے کہا کہ جب ہم سب اکٹھے ہوئے تو آخری لمحات پر ایم کیو ایم کی طرف سے کہا گیا کہ بات بہت حد تک طے ہو چکی ہے اور ایک دو پوائنٹس باقی ہیں وہ بھی حل ہو جائینگے۔ اسکے بعد آصف زرداری نے کہا کہ آئیں دوسرے کمرے میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں اسکے بعد 20 منٹ پر معاملات طے ہو گئے۔ یہ حقیقی معاہدہ ہے، یہ کوئی جعلی خط نہیں ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعظم چاہے سلیکٹڈ ہی کیوں نہ ہو، جمہوریت کا طریقہ اور روایت ہے کہ اگر وہ عددی اکثریت کھو بیٹے ہیں تو ایک نئی ریت اور روایت قائم کریں اور استعفیٰ دیں۔ انکا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد معاملات پر بات چیت بہت حد تک مکمل ہوگئی، ایک دو نکات پر بات جاری ہے، وہ بھی جلد حل ہوجائینگے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کا معاہدہ قائم رہے گا اور اس پر عمل بھی ہوگا، 22 کروڑ عوام کا مقدمہ متحدہ اپوزیشن، بی اے پی اور ایم کیو ایم لڑنے جارہی ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انتقام ہماری ڈکشنری میں نہیں ہے۔ ہم سب ملکر مشاورت کے ساتھ چھوٹے صوبوں کے حقوق کیلئے بات کرینگے، اقدامات اٹھائینگے، بلوچستان کی ترقی کیلئے حکومت جو بھی کر سکے گی کریگی۔ اسی طرح سندھ میں، کراچی میں وفاق پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ ملکر کام کریگا میں سمجھتا ہوں کہ آج یہاں سب کا بیٹھنا چارٹر آف ڈیموکریسی کا تسلسل ہے۔ اگر بیچ میں تعطل آیا ہے تو یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم اکثریت کھو چکے ہیں اور ایم کیو ایم اپوزیشن کی صفوں میں شامل ہو چکی ہے۔ بلاول نے کہا شہباز شریف صاحب نے بالکل ٹھیک کہا کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں، عمران خان کے پاس اب کوئی آپشن نہیں رہا، وہ وزیراعظم نہیں رہے، کل ہی سیشن ہے، کل ہی ووٹنگ رکھیں تاکہ آگے بڑھیں اور الیکشن اصلاحات، جمہوریت کی بحالی، معاشی بحران سے نکلنے کا راستہ نکلے۔شہباز شریف جلد ہی وزیر اعظم منتخب ہونگے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انھوں نے مل کر محنت کی اور اس تاریخ کا حصہ بنے کہ ایک غیر جمہوری حکومت کے خاتمے کیلئے جمہوری ہتھیار اپنا کر پارلیمان کے ذریعے اسکے خاتمے کا بندو بست کیا اور اب پاکستان کی عوام کیلئے جلد مزید خوش خبری ملے گی۔ ایم کیو ایم کاحکومت سےعلیحدگی اورمتحدہ اپوزیشن کاساتھ دینےکافیصلہ تاریخی ہے،پیپلزپارٹی اورایم کیو ایم نے ہرحال اورہرصورت میں ملکر کام کرنا ہے۔ بلاول بھٹو کا مزیدکہنا تھاکہ میری بہت پہلے سےخواہش تھی کہ سندھ میں ہم مل کے کام کریں،ہم ناصرف کراچی بلکہ پاکستان کی ترقی کیلئےمل کےقدم اٹھائینگے، ایم کیوایم نےکراچی اورصوبے کامفاددیکھ کرفیصلہ کیا ہے۔ سربراہ پی ڈی ایم مولانافضل الرحمٰن نے کہاکہ پوری پی ڈی ایم اورحزب اختلاف ایم کیوایم کےفیصلے کاخیرمقدم کرتی ہے، یہ فیصلہ نہ صرف کراچی اور سندھ بلکہ پورے پاکستان کیلئے ایک سیاسی یکجہتی کا اظہار ہے، آج ایم کیو ایم اوربی اے پی کی وجہ سےہماری تعداد175ہے، ساڑھےتین سال پہلے جس ڈرامے کا آغاز ہوا آج اسکا ڈراپ سین ہوگیاہے، تمام جماعتوں کے کارکنوں کا کامیاب جدوجہد کے نتائج پر شکریہ اور خراج تحسین ادا کرتا ہوں۔ انہوں نےکہا اب سب کچھ ان کےہاتھ سےنکل چکا، آپ میں کچھ بھی اخلاقیات باقی ہیں آج استعفادےدیناچاہیے۔ فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ بدزبانی، نمائش اور جھوٹ پر مبنی سیاست کا آج خاتمہ ہو رہا ہے،ان کا کہنا تھا کہ ڈراؤ مت، تمہیں کسی نے کوئی دھمکی نہیں دی، تمہاری حیثیت کیا ہے جو تمہیں کوئی دھمکی دے یا تمہارے خلاف سازش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ ان کیخلاف عالمی سازش ہورہی ہے، سازش ان کے خلاف نہیں، بلکہ انکو اقتدار میں لانا ملک کیخلاف سازش تھی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں اپنے دوستوں کی اجازت سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ابھی بھی وقت ہے کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہوں، حزبِ اختلاف کا ساتھ دیں، یقیناً ہمارے سامنے چیلنجز ہیں۔ان کا کہنا تھا حکومت کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے اور پانی پلوں پر سے گزر چکا ہے، وزیر اعظم عمران خان مستعفی ہوں۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر مینگل نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کھیل کے میدان میں آپکا تجربہ ہو گا، لیکن سیاست میں ہمارا تجربہ زیادہ ہے۔ ایک پرانے اتحادی کی حیثیت سے درخواست کرینگے کہ مستعفی ہوں جائیں۔ بین الاقوامی سازش کا چورن پرانا ہو چکا ہے۔ یہ بکنے والا نہیں، کوئی نیا چورن لائیں، کوئی نئی دکان کھولیں۔ اختر مینگل نے کہا کہ ہمیں مختلف پاکستان چاہیے جس میں جینے کا حق ہو، ہر صوبے کے پاس اسکے وسائل کا اختیار ہو، لوگوں کے ساتھ انسان کے طور پر برتاؤ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں میرے بچے لاپتا نہ ہوں، والدین رو رو کر نابینا نہ ہوجائیں، ایسے پاکستان کا کیا فائدہ جہاں والدین اپنے بچے دیکھ نہ سکیں۔بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی نے کہا کہ نہ نیا، نہ پرانا بلکہ عوامی پاکستان ہونا چاہیے، کل رات جو معاہدہ ہوا وہ ایم کیو ایم کا حق تھا، پیپلزپارٹی نے معاہدہ کرکے تسلیم کیا کہ ہم سب ایک ہیں۔ قبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گزشتہ رات ہونے والے معاہدے کی توثیق کردی تھی۔ ایم کیو ایم پاکستان کی رہنما نسرین جلیل نے کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان معاہدے کے تحت ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب آئندہ ایک دو روز میں عہدہ چھوڑ دینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں