1,693

علامہ اقبال اور حُبِ اہلِ بیت. پروفیسر ڈاکٹر غلام محی الدین

علامہ اقبال اور حُبِ اہلِ بیت

پروفیسر ڈاکٹر غلام محی الدین

علامہ اقبال کے نثری و شعری آثار کا مطالعہ کریں تو اُن کی شخصیت میں محبتِ قرآن ،وفاداریِ اسلام، عشقِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اھلِ بیت ِاطہار سے سچی عقیدت وارادت کی فراوانی نظر آتی ہے اھل ِبیتِ اطہارکا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے ہے اور حضرت اقبال کے ہاں ذاتِ نبوی کی ہر نسبت سے عقیدت و احترام کا رشتہ موجود ہے حُب ِاھل ِبیت حُب ِنبوی ہی کا تقاضا ء ِاولیںہے اس لیے حضرت اقبال جابجا اس نسبت ِکمال کا ذکرِ جمال کرتے نظر آتے ہیں ،وہ جہاں مدینہ طیبہ کا ذکر کرتے ہیں وہیں نجف و کربلا کی مٹی کی تاثیر بھی بیان کرتے ہیں ،مثلاًوہ عرب کی سرزمین کا تصور کرتے ہوئے اپنے خطوط میں لکھتے ہیں
’’اب ساحل قریب آتا جاتا ہے اور چند گھنٹوں میں ہمارا جہاز عدن جا پہنچے گا۔
ساحل ِعرب کے تصور نے جو ذوق شوق اس وقت دل میں پیدا کر دیا ہے ،اس کی داستان کیا عرض کروں ۔بس دل یہی چاہتا ہے کہ زیارت سے اپنی آنکھوں کو منور کروں :
اللہ رے خاک پاک مدینہ کی آبرو
خورشید بھی گیا ،تو اُدھر سر کے بل گیا
اے عرب کی مقدس سرزمین!تجھ کو مبارک ہو۔تو ایک پتھر تھی ،جس کو دنیا کے معماروں نے رد کر دیا تھا ،مگر ایک یتیم بچے نے خدا جانے تجھ پر کیا افسوں پڑھ دیا کہ موجودہ دنیا کی تہذیب و تمدن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئی ۔تیرے ریگستانوں نے ہزار مقدس نقش ِقدم دیکھے ہیں اور تیری کھجوروں کے سائے نے ہزاروں ولیوں اور سلیمانو ں کو تمازت ِآفتاب سے محفوظ رکھا ۔کاش میرے بدکردارجسم کی خاک تیرے بیابانوں میں اڑتی پھرے اوریہی آوارگی میرے تمام سامانوں سے آزاد ہو کر تیری تیز دھوپ میں جلتا ہوا اورپائو ں کے آبلوں کی پروا ہ نہ کرتا تاکہ تاریک دنوں کا کفارہ ہو۔کاش ،میں تیرے صحرائو ں میں لٹ جائو ں اور تیرا ذکر کرتا ہوا اس پا ک سرزمین میں جا پہنچوں ،جہاں کی گلیوں میں اذان ِبلال کی عاشقانہ آواز گونجتی تھی (1)
اور دوسرے مقام پہ لکھتے ہیں ،
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف(2)
حضرت اقبال اور ذکر سیدنا مولیٰ علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم :
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں آپ سیدہ فاطمہ زھراسلام اللہ علیھاکے شوہر اور حسنین کریمین کے والد ہیں ،حضرت اقبال نے اپنی شاعری میں جابجا آپ کی شجاعت ،فقر،شان بے نیازی ،زہد ،علم ،سخاوت اور حکمت کا تذکرہ کیا ہے ،تذکرہ ِحیدرِ کرار کرتے ہوئے دعائیہ جملے یو ں کہتے ہیں ،
دلوں کو مرکز ِمہر و وفا کر
حریم ِکبریا سے آشنا کر
جسے نان ِجویں بخشی ہے تونے
اُ سے بازوئے حیدر بھی عطا کر(3)
دوسرے مقام پہ بندہِ مومن کو توکل علی اللہ اور زہد وورع کی طرف راغب کرنے کے لئے یو ں کہا ،
تیری خاک میں ہے اگر شرر تو خیال فقروغنانہ کر
کہ جہاں میں نان شعیر پر ہے مدارِ قوت ِحیدری(4)
یعنی اگر تیری خاک میں عشق کی کوئی چنگاری باقی ہے تو غربت وامیری کا تصور چھوڑ دے یاد رکھو اس دنیا میں قوت حیدری کی بنیاد جوکی روٹی یعنی کھٹن طرززندگی پرہے ،فارسی میں حضرت اقبال کی تین کتب ہیں جن میں اسرار خودی ،رموزِ بے خودی اور پیام مشرق سے زیادہ سہل ،سادہ اورعام فہم ہے اس میں بھی وہ جابجا حضرت مولیٰ علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کے خصائص و کمالات بیان کرتے نظر آتے ہیں
اسرار خودی میں آپ ’’در شرح اسرار اسمائے علی المرتضیٰ ‘‘کے تحت کہتے ہیں ،
مسلم اول شہ مرداں علی
عشق راسرمایہ ایماں علی
حضرت علی مردان باکمال کے بادشاہ ہیں اور مسلم اول ہیں ،ایمان کے سرمایہ و دولت کا عشق آپ کی ذات ہے ،اس شعر میں اشارہ ہے کہ آپ نوجوانوں میں سب سے پہلے ایماں لائے اور آپ کی محبت ایمان کا حصہ ہے ۔
ازولائے دود مانش زندہ ام
در جہاں مثل گہر تا بندہ ام
اقبال کہتے ہیں میں آپ اھل بیت اطہار کی محبت کے تصدق سے زندہ ہوں اور میری چمک دمک جو مثل گوہر و دریگانہ ہے وہ بھی آپ اھل ِبیت کے پیار کی وجہ سے ہی ہے ،
نرگسیم وار فتہ ِ نظارہ ام
در خیابانش چو بو آوارہ ام
میں نرگس کے پھول کی طرح ہمہ وقت آنکھیں کھولے بیٹھا ہوں آپ پھولوں کے خیابان (پھولوں کی وادی )میں خوشبو کی طرح چہار اطراف میں سیر کر رہا ہوں دوسرے الفاظ میں حُب اھل بیت کی خوشبو ہر طرف پھیلا رہا ہوں ۔
زم زم از جوشد زخاک من، ازوست
مے اگر ریزد زتاک من،ازوست
اگر میری زمین سے علم وحکمت کا زمزم جوش مارتا ہے تو در حقیقت یہ فیضان ِمولی علی شیر خدا ہے اور اگر میرے انگوروں کی بیل سے شراب (محبت)ٹپکتی ہے تو وہ بھی انہی کی عطا کی بدولت ہے ،مراد یہ ہے کہ مجھ سے خیروبرکت ،حکمت ،دانائی ،عروج ِاسلام کی باتیں اور شاعری معرض وجود میں آتی ہے وہ در اصل فیضانِ اھل ِبیتِ اطہار ہی تو ہے۔
خاکم واز مہر او آ ئینہ ام
مے تواں دینِ نوا در سینہ ام
میں تو مٹی ہوں لیکن آپ کی محبت کی بدولت ایسا شفاف آئینہ بن چکا ہوں جس شیشہ میں آوازِ عشق کی شورش صاف دکھائی دیتی ہے ،یعنی عشق علی المرتضیٰ نے میرے قلب و جگر کو متاثر کر دیا ہے اور میری رگ رگ آپ کی محبت میں وارفتہ ہو چکی ہے ۔
ازرُخ او فال پیغمبر گرفت
ملتِ حق از شکوہش فر گرفت
آپ کے چہرہ ِمبارک سے مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فال لی ،ملت اسلامیہ نے آپ کی شجاعت و شکوہ سے طاقت و قوت لی ہے ،اس فال سے مراد وہ حدیث پاک ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل جھنڈا اُس ہستی کو دوں گا ،جو اللہ اور اسکا رسول اُس سے پیار کرتا ہے ’’لا عطین الرایۃ غداًرجلاًیحب اللہ ورسولہ ویحبہ اللہ ورسولہ یفتح اللہ علی یدیہ ‘‘۵
اس فال سے مراد دوسری روایت بھی ہو سکتی ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی تھی ،حضرت ام عطیہ روایت کرتی ہیں ایک مرتبہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر روانہ کیا جس میں حضرت مولیٰ علی بھی تھے میں نے سُنا آپ یہ دعا فرما رہے تھے ’’اللھم لا تمتنی حتی ترینی علیاً‘‘اے اللہ !علی المرتضیٰ کا چہرہ دیکھنے سے پہلے مجھ پہ موت طاری نہ کرنا(6)
محترم عبدالستا ر نجم صاحب نے لکھا ہے کہ علامہ نے اس شعر میں فال والی تلمیح درست نہیں لی نہ صحاح ستہ میں اس کا ذکر ہے اور فال قرآن و حدیث کے خلاف ہے 7
یہ کہنا درست نہیں ہے غالباًمولف کی نگاہ ان درج بالا احادیث کی طرف نہیں گئی جن میں مولیٰ علی کی ذات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فال لے رہے ہیں اور دوسری بات یہ کہنا کہ فال درست عمل نہیں ۔تو یاد رہے ایسی فال جو بتوں اور شرک سے موسوم تیروں سے لی جائے وہ درست نہیں باقی رہی اچھی اور مثبت فال تو اس کا تذکرہ قرآن پاک میں بھی موجود ہے اور احادیث صحیحہ میں بھی انکا تفصیلاََ تذکرہ ملتا ہے
قوت دین متیں فرمودہ اش
کائنات آئیں پزیر از دو دہ اش
دین مبین کی قوت و طاقت آپ کو قرار دیا گیا ہے یہ کائنات آپ کے خاندان سے قانونی حیثیت کی حامل ہوئی ہے ۔
مرسل حق کرد نامشِ بو تراب
حق ید اللہ خواند درام الکتاب
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ کو ابو تراب کا نام عطا فرمایا جب کے اللہ پاک نے اپنی کتاب میں ید اللہ کہا ہے اس شعر میں اس واقعہ کا ذکر ہے جب حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کے کونے میں زمین پہ آرام فرما تھے آپ علیہ الصلو ۃ والسلام گئے اور ان کے لباس سے لگی مٹی جھاڑی او فرمایا ’’قم یا اباتراب ‘‘(اے مٹی والے! اٹھ)(8)
دوسرے مصرع میں ید اللہ کہا گیا قرآن پاک میںید اللہ کی نسبت نبی پاک کے دستِ مبارک کی طرف سے یا حضرت عثمان غنی ذوالنورین کی طرف ہے یا پھر اس سے مراد یہ ہے کہ جن صحابہ کر ام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دست مبارک پہ بیعت کی ان پہ اللہ پاک کا ہاتھ ہے اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شرف حاصل ہے
ہرکہ دانا ئے رموز زند گیست
سرِ اسمائے ِ علی داند کہ چیست
وہ شخص جو زندگی کے رازوں سے واقف ہے وہ حضرت علی المرتضی کے اسمائے گرامی اسرارو رموز جانتا ہے۔
اس کے بعد حضرت اقبال نفس ِامارہ کی تسخیرپہ امت کو راہنمائی کرتے ہوئے حضرت مولا علی کی عز یمت و قناعت کا تذکرہ یوں کرتے ہیں۔
شیر حق ایں خاکِ را تسخر کرد
ایں گلِ تاریک را اکسیر کر د
حق کے اس شیر حضرت علی نے اس وجود خاکی کو مسخر کر لیا اور اس سیاہ مٹی کو خاک کی بجائے اسیر بناڈالا یعنی نفسانی خواہشات پہ قابو پا کر تن میں روشنی پیدا کر لی،
مرتضی ٰ کز تیغ او حق روشن است
بو تراب از فتح اقلیم تن است
حضرت علی المرتضیٰ کی شمشیر بے نیام سے راہِ حق روشن ہوگئی۔ وجود کی شہنشاہی کو فتح کرنے کی وجہ سے آپ ابوتراب کہلائے تن کو فتح کرنے کی مثال اقبال نے اس لیے دی کہ حالت جنگ میں دشمن پر قابو پاکر تلوار چلانے لگے تو اس نے تھوک دیا آپ نے چھوڑ دیا اس نے جان بخشی کی وجہ پوچھی تو فرمایا علی کی تلوار نفس کے خلاف چلی ہے جب تک تیری لڑائی اللہ اور رسول کے لیے تھی تب تک تجھ سے لڑائی تھی اب اپنی ذات شامل ہوں گئی ہے تو اس لیے تلوار روک دی
ہرکہ در آفاق گردو بو تراب
باز گرداند ز مغرب آفتاب( 9 )
حضرت علی وہ ذات ہیں جن کے گرد سارا جہاں ہے جن کی وجہ سے ڈوبا ہوا سورج واپس آجاتا ہے ۔
حضرت اقبال اور تذکار سیدہ فاطمہ الزھرا ء:
چونکہ سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کو بہت سی بابرکت نسبتیں حاصل ہیں اوررہتی کائنات تک آپ کی سیرت طیبہ کی روشنی خواتینِ اسلام کے لیے نورو خیر کی طرح ہے اس لیے حضرت اقبال نے آپ کی عظمتوں اور اسوہ حمیدہ کو خصوصی انداز میں بیان کیا ہے، آپ فرماتے ہیں
مزرع ِتسلیم را حاصل بتول
مادر اںرااسوہ ِکامل بتول
تسلیم و رضا کی کھیتی کا حاصل ونتیجہ حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا ہیںاور کائنات کی تمام ماؤں کے لئے اسوہِ کامل آپ کی ذات ہے آپ نے حضرت سیدۃفاطمہ الزہراء کے اسوہ ِکمال کو رموز خودی میں اس عنوان سے بیان کیا ہے
’’در معنی ایںکہ سیدۃالنساء فاطمہ الزہراء اُسوہ کاملہ ایست برائے نساء اسلام‘‘
اس عنوان کے تحت یہ شعر کہتے ہیں۔
مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز
ازسہ نسبت حضرتِ زہراء عزیز
حضرت مریم صرف ایک نسبت کی بنیاد پر عظیم ہیں وہ نسبت حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ ہونے کا شرف ہے جبکہ سیدہ فاطمۃالزہراء کو یہ شرف وعظمت تین نسبتوں سے حاصل ہے وہ تین نسبتیں تین اشعارمیں بیان فرماتے ہیں۔
نور چشمِ رحمت للعالمین
آں امامِ اولین و آخرین
بانوئے آں تاجدار ھل آتیٰ
مرتضیٰ ،مشکل کشا، شیر خدا
مادر آں مرکزِ پرکارِ عشق
مادر آں کارواںسالار عشِق
ترجمہ :۱۔سب سے پہلی نسبت تو سیدہ کو یہ حاصل ہے کہ آپ سارے جہانوں کی رحمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کا نور ہیںیعنی آپ کی لختِ جگر ہیں وہ رحمت ِکُل جہاں جو اولین و آخرین سب کے امام ہیں
(۲) دوسری نسبت یہ حاصل ہے کہ وہ تاجدار ہل اتیٰ یعنی حضرت مولا علی شیر خدا کی زوجہ ہیں وہ علی المرتضیٰ جو مشکل کشا بھی ہیں اور شیر خدا بھی ہیں۔
(۳) تیسری نسبت آپ کو یہ حاصل ہے کہ آپ عشق کی پرکار کے مرکزحضرت امام حسین و حسن رضی اللہ تعالی عنہما کی والدہ محترمہ ہیں آپ سپہ سالار ِعشق حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی مادرہ مشفقہ ہیں۔
آں یکے شمع ِشبستانِ حرم
حافظِ جمعیت ِخیر الامم۔
یہ وہ ہستیاںہیں جو حرم پاک کے شبستاں کی روشن شمع ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی وحدت کے محافظ ہیں۔
تا نشیند آتش پیکار و کس
پشت یا زد بر سرِ تاج و نگین
تاج و تخت دولت و نگیں کو ٹھوکر مار کر امتِ محمدیہ میں افتراق اور انتشار کی آگ کے شعلوں کو بجھا دیا اس شعر کے مِصداق سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ ہیں جنہوں نے خلافت سے دستبردار ہوکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کو پورا فرمایا’’ان ابنی ھذاسیدافلعل اللہ ان یصلح بہ بین فئتین من المسلمین(10)
اس کے بعد سیدہ زہرا کے خصائص بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
سیرت فرزند ھا از ا امھات
جوہر صدق وصفا ازا مھات(11)
در حقیقت بچوں کی سیرت و خصلت انکی مائوں کی بدولت ہوا کرتی ہے بچوں میں سچائی و تزکیہ نفس کے جوہر ان کی مائوں سے ہی عطا ہوتے ہیں ،دوسرے الفاظ میں اقبال یہ کہتے ہیں کہ حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ عنھما کے جمیع خصائل و شمائل سیدہ فاطمہ کی تربیت و تعلم کا فیضان ہے ،
اس کے بعد سیدہ کے وصف سخاوت کو بیان کرتے ہوئے یوں کہتے ہیں ،
بہر محتاج دلش آں گونہ سوخت
بایہودے چادر خودرا فروخت
ہر محتاج و ضرورت مند کے لیے آپ کا قلب ِ نازک یوں جلتا رہتا ہے کہ غریبوں فقیروں کی پریشانی دور کرنے کے لیے آپ نے اپنی چادر ایک یہودی کے ہاں بیچنے کے لیے بھیج دی اس شعر میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب ایک سا ئل آیا تو گھر میں کچھ نہ تھا سیدہ پاک نے اس کو عطا کرنے کے لیے اپنی چادر حضرت سلمان فارسی کے ہاتھوں ایک یہودی کو بھیج دی کہ اس چادر کے بدلے کچھ در ہم اسے دے دو تاکہ سائل کو خالی نہ لوٹایا جائے اسی طرح قرآن پاک کی آیت’’ و یطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا ‘‘آپ ہی کی شان میں ہے خواتین کی تربیت کے لئے حضرت اقبال نے یوں خراج تحسین پیش کیا ہے ۔
نوری وہم آتشی فرماں برش
گم رضا یش در رضائے شو ہرش
نوری فرشتے اور جنّات آپ کے مطیع وفرمانبردار تھے لیکن آپ اپنے شوہر نامدار کی فرمانبرداری میں لگی رہتی تھی شوہر کی رضا میں راضی تھیں آزادی نسواں کے نام پر امت محمدیہ میں فحاشی و انارکی پیدا کرنے والی این جی اوز کاش سیدہ فاطمہ پاک کے اس عمل مبارک کو دیکھیں اور سکون قلب حاصل کریں
آں ادب پروردئہ صبر و رضا
آسیا گردان و لب قرآں سرا(12)
وہ سیدہ زاھرا ء جو پروردہ آغوش صبرورضا ہیں ایک طرف اپنے ہاتھوں سے چکی پیس رہی ہیں دوسری طرف ان کی زبان مبارک پہ قرآن پاک بھی جاری ہے
اشک اوبر چید جبریل از زمیں
ہمچوشبنم ریخت بر عرش بریں
یادالہی میں بہنے والے آپ کے آنسو جبریل امین زمین سے چن لیتے تھے اور ان آنسوؤں کو تبرک بنا کر شبنم کی مانند عرش بریں پہ سجا دیتے تھے اتنا خوبصورت تخیل حضرت اقبال ہی کا خاصہ ہے حبِ اہلِ بیت اطہار میں اقبال اس قدر سرشار تھے کہ آخر میں یوں حقِ قلم ادا کیا ،
رشتہ ِ آئین ِحق زنجیر پاست
پاس فرمان ِجنابِ مصطفی است
حق کے آئین یعنی قرآن و حدیث کا تعلق میرے لیے زنجیر بن گیا ہے اور میرے لیے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان میرے جذبات کی عکاسی میں رکاوٹ بن گیا ہے اگرشرعی قدغنیں نہ ہوتیں تو میں کیا کرتا اس کا جواب اگلے شعر میں دیا ہے
ورنہ گردِ تربتش گر دیدمے
سجدھا برخاک او پاشید مے
اگر مجھے شریعت مطہرہ کا خوف نہ ہوتا تو اے سیدہ پاک !میں آپ کی تربتِ مقدسہ کے ارد گرد طواف کرتا اورآپ کے مزار مقدس سے لگی ہوئی مٹی کوسجدے کرتا، یعنی جذبات اس قدر ہیں لیکن شریعت کی پاسداری مقصود ہے یہی مقامِ ادب ہے ۔
برصغیر کے عظیم اسکالر امام احمد رضا خان صاحب( المعروف اعلیٰ حضرت )نے اپنے کلام میں روضہ رسول پاک کی نسبت یوں کہا تھا۔
پیش نظر وہ نو بہار
سجدے کو دل ہے بے قرار
روکیے سر کو روکیے
ہاں یہی امتحان ہے(13)
اس کے بعد حضرت اقبال خواتینِ اسلام کو مخاطب ہوکر فرماتے ہیں
فطرت تو جذبہ ہا دارد بلند
چشم ہوش از اسوہ زہرا مبند
ایک خاتون اسلام !تیری فطرت بہت پرواز و جذبہ کی حامل ہے اپنی عقلمندی و ہوش والی آنکھ سیدہ زہراء کے اسوہ پاک سے بند نہ کر، بلکہ آپ کے اسوہ پاک پہ نگاہ ڈال اور دارین کی سعادت حاصل کر ،
تاحسینے شاخ تو بار آورد
موسم ِپیشیں بہ گلزار آورد
تاکہ تیری شاخ پہ حضرت امام حسین جیسا پھل لگے تاکہ گلستانِ جہاں میں پہلے والی بہار آئے مراد یہ ہے کہ تیری نسل میں پاکیزگی وصالحیت جنم لے اور عالم اِسلام کو عروج ماِضی حاصل ہو ،
حضرت اقبال اور حُبِ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ :
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے کلام میں حریتِ فکر اور جذبہ ِعشق کے جمیع استعار ئے حضرت امام حسین کے ذکرِ پاک سے مزین ہیں،آپ تذکارِ امام حسین بیان کرتے ہوئے وجود ِعشق کو آپ کے جذبہِ کامل سے عبارت کرتے ہیں،مثلاً
صدق خلیل بھی ہے عشق ،
صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
عشق کے مضراب سے نغمہِ تارِ حیات
عشق سے نور ِحیات ،عشق سے نارِ حیات(14)
ُٓٓٓٓ آپ مثنوی رموز بے خود ی میں ایک نظم بعنوان در معنیٰ حریت اسلامیہ و سرِ حادثہ کربلامیں امام حسین کے خصائل پہ یوں کہتے ہیں
آں امام عاشقاں پو ِر بتول
سروے آزادے زبستانِ رسول
آپ عاشقوں کے امام اور سیدہ زہرا کے فرزند ارجمند ہیں اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلستان ِجمیل کا دراز قد سرو آزاد (پودہ )ہیں
اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنیٰ ذبح ِعظیم آمد پسر
اللہ اکبر آپ کے والد گرامی مولیٰ علی شیر خدا بسم اللہ کی با ہیں اور بیٹا یعنی امام حسین قرآن پاک کی آیت ’’وفدیناہُ بذبح عظیم ‘‘اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کے ساتھ ان کا فدیہ دیا یا ان پہ فداو قربان کر دیا ،یعنی امام حسین اپنے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی تکمیل ہیں ،
بہرآں شہزادہِ خیرالملل
دوش ِختم المرسلین نعم الجمل
آپ امام حسین کے لئے خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے بہترین اونٹ بن گئے اس شعر میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب آپ علیہ الصلوۃ السلام نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھوں پہ اُٹھایا ہوا تھا کسی نے کہا نعم الجمل یا نعم الراکب اونٹ یا سواری بہت خوب ہے تو آپ نے فرمایا نعم الراکب ،سوار بھی بہت پیارا ہے ۔
سرخرو عشق ِغیور از خون او
شوخی ِ ایں مصرع از مضمون او
غیرت مند عشق آپ کے خون مبارک سے سرخرو ہے اس مصرع کی شوخی اسی مضمون سے حاصل کردہ ہے
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آمد پدید
حضرت موسی کے بالمقابل فرعون اور حضرت امام حسین کے بالمقابل یزید آیا یہ دونوں قوتیں حق و باطل حیات سے پیدا ہوتی ہیں قیامت تک یہ مقابلہ حق وباطل جاری رہے گا
زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ ِحسرت میری است
حق کی زندگی قوت ِشبیری سے عبارت ہے اور باطل آخر کار حسرت ناکامی کا داغ ہے
بر زمین کربلا بارید و رفت
لالہ در ویرانہ ھا ِکارو رفت
امام حسین کربلا کی سرزمین پربرسے اور چلے گئے اس صحرا میں گل لالہ کی مانند مہکے اور پھر سوئے جنت روانہ ہو گئے اس شعر میں واقعہ کربلا کا بیان ہے
تا قیامت قطعِ استبداد کرد
موج ِخون ا و چمن ایجاد کر
قیامت تک کے لیے آپ کے جذبہ عشق نے استبدادو ظلم کی جڑ کاٹ دی آپ کے خون کی موج نے گویا چمن ایجاد کردیا
بہر حق در خاک و خوں غلطیدہ است
پس بنا ئے لا الہ گردیدہ است
امام حسین رضی اللہ عنہ حق کی خاطر خاک و خون میں لیٹ گئے لیکن اپنی استقامت سے لا الہ اللہ کی بنیادیں مضبوط کر گئے
مدعائش سلطنت بو دے اگر
خود نکرد با چنیں سامان ِسفر
اگر آپ کا مقصد حکومت لینا ہوتا تو اس مختصر سامان کے ساتھ کبھی سفر نہ کرتے
دشمناں چوں ریگ ِ صحرا لا تعد
دوستانِ او بہ یزداں ہم عدد
آ پ کے دشمنوں کی تعداد صحرا کی ریت کی طرح بے شمار تھی جبکہ آپ کے دوست اتنے تھے جتنے لفظ یزداں کے اعداد ہیں ۔یزداں کے اعداد ۷۲ہیں آپ کے ہمراہ قافلہ حسین کے افراد بھی بہتر تھے (15)
سر ِ ابراہیم واسماعیل بود
یعنی آں اجمال را تفصیل بود
آپ حضرت ابراہیم سیدنا اسماعیل علیہماالسلام کا راز ہیں ،وہ اختصار ہے جبکہ یہاں تفصیل ہے
اسی مضمون کو آپ نے ایک اور جگہ یوں بھی پیش کیا ہے
غریب و سادہ و رنگین ہے داستا ن ِ حرم
نہایت اسکی حسین ہے ابتداء ہے اسماعیل(16)
تیغ بہر عزت ِدین است وبس
مقصدا و حفظ آئین است وبس
آپکی تلوار اٹھانے کا مقصد دین کی عزت کرنا تھا آپ کا مقصد آئینِ اسلام کی حفاظت تھا ،اس کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ،
ماسوی اللہ رامسلماں بندہ نیست
بیش فرعونے سرش افگندہ نیست
بندہ مومن اللہ کے سوا کسی کا غلام نہیں بنتا اور کسی فرعون متکبر کے سامنے سر نہیں جھکاتا،
خون او تفسیر ِایں اسرار کرد
ملت خوابیدہ را بیدار کرد
آپ کے خون مبارک نے ان رازوں کی تفسیر کر دی ہے اور سوئی ہوئی ملت کو آپ کی قربانی نے بیدار کر دیا ہے ۔
رمز قرآن از حسین آمو ختیم
ز آتش او شعلہ ھا اند و ختیم
ہم نے قرآنِ مقدس کے راز و رموز امام حسین سے سیکھے اور آپ کے عشق کی آگ سے چند شعلے حاصل کیے ہیں اور آخر میں حضرت اقبال یوں فرماتے ہیں
تارما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیر او ایمان ہنوز
ہمارے قلوب کے تار آپ کے وجود کے مضراب سے کانپ رہے ہیں اور آپ کے نعرہ تکبیر سے ہمارے ایمان کا باغ ترو تازہ ہے
اے صبااے پیک دور افتاد گاں !
اشک ما برخاک ِپاک او رساں(17)
اے بادصبا کے ٹھنڈے جھونکو !اے دور بسنے والو کے قاصدو !ہمارے اشک آپ کے مزار پاک پہ لیجا کر نچھاور کردو ۔
خلاصہ کلام:
۱۔اس تما م تحریر کا خلاصہ ہے کہ حضرت اقبال سچے محب اہل بیت تھے
۲۔آپ نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر نسبت کا احترام کرتے اور اسے اپنی شاعری میں بیان کرتے تھے
۳۔آپ نے مولی علی شیر خدا کے خصائل پہ اردو اور فارسی میں کثیر اشعار کہے
۴۔آپ نے سیدہ فاطمہ زہرا کی عظمت و اسوہ پہ قصائد و نظمیں تحریر کیں
۵۔آپ نے حادثہ کربلا اور مقامِ امام حسن و حسین کو بھی بیان کیا
۶۔نبی پا ک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اھل بیت اطہار ،صحابہ کرام اور اولیاء وصوفیاکی محبت کو نجات کا ذریعہ مانتے ہیں ،آپ کی شاعری میں حریت فکر ،آدابِ اھل بیت ،ذکرِ کربلا و دیگر خاندانِ رسول کی نسبتوں کا تذکرہ موجود ہے ،
اللہ کریم ہمیں آپ کے کلام سے حظ ِوافر نصیب فرمائے۔
حوالہ جات و حواشی:
.1(خطوط اقبال،رفیع الدین ھاشمی،لاہور ،مکتبہ خیاباںادب،1976ء،ص92)۔ .2(کلیات اقبال ،بال جبریل ص،387،خزینہ علم وادب الکیریم مارکیٹ ،اردو بازار لاہور)۔ .3(کلیات اقبال ،بال جبریل ،خزینہ علم و ادب ،الکریم مارکیٹ اردوبازار لاہور صفحہ (359 ۔بقیہ صفحہ نمبر:۲۸