mehmood-sham 12

علاقائی قوم پرستیاں۔ پاکستانی قوم پرستی کی بنیاد

7 / 100

علاقائی قوم پرستیاں۔ پاکستانی قوم پرستی کی بنیاد
محمود شام
56برس پہلے6ستمبر 1965صبح 11بجے کے بعد میری نسل کے جو جذبات تھے۔ مغربی پاکستان میں مشرقی پاکستان میں پاکستانیوں کے کیا خیالات تھے۔ اب 6ستمبر 2021 کو کیا سوچ ہے۔ جذبات کی کیا رَو ہے؟ صدیوں کا فرق محسوس ہوتا ہے۔ ان 56برسوں میں بہت سی قیامتیں برپا ہوچکی ہیں۔ جب 1965 کی 6ستمبر آئی۔ اس سے پہلے بھی ہم بہت سے المیوں سے دوچار ہوچکے تھے۔ قائد اعظم کی رحلت۔ قائدِ ملت لیاقت علی خان کی شہادت۔ 1953 میں پنجاب میں فسادات۔ تحریکِ ختم نبوت۔ جزوی مارشل لا ۔ مادرِ پاکستان جماعت مسلم لیگ کی ناکامیاں۔ ون یونٹ کا جبر۔ بلوچستان میں فوجی کارروائی۔ سردار نوروز خان کا جیل میں انتقال۔ پنڈی سازش کیس میں گرفتاریاں۔ مشرقی پاکستان میں زبان کے حوالے سے جدوجہد۔1958کا مارشل لا۔ ان 18سال میں بھی بہت کچھ بیت چکا تھا مگر بھارت کی جارحیت پر قوم پھر بھی ایک سے جذبات رکھتی تھی۔

اب جب 50سال سے ہم اپنے اکثریتی بازو کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔1971 ایسے ایک عظیم المیے کے زخم اپنے سینوں میں لئے ہوئے ہیں۔ بھوک غربت میں مبتلا عوام بھی اپنے ہیں۔ منتخب، غیر منتخب حکمراں بھی ہمارے اپنے ہیں۔ سرحدوں پر جاں نثار کرنے والے۔ دہشت گردوں، انتہا پسندوں کے مقابلے میں جان دینے والے۔ اپنے نظریات کے لئے، جمہوریت کی بحالی کے لئے زندگی قربان کرنے والے شہداء۔ ریاست کی طرف سے جنگ میں زخمی ہونے والے معذور۔ حکومت کے جبر کے خلاف جدوجہد میں زخمی ہونے والے معذور۔ جنگوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے غازی یہ سب ہمارے اپنے ہیں۔ نشان حیدر پانے والے جرأت کے دوسرے تمغے حاصل کرنے والے سب عظیم پاکستانی ہیں۔ علاقائی قوم پرست بھی اپنے ہیں کیونکہ پاکستانی قوم پرستی علاقائی قوم پرستیوں کی بنیاد پہ ہی تعمیر ہوسکتی ہے۔

یہی احساس دل کو اذیت دیتا ہے کہ المیوں، ناکامیوں، شکستوں سے پوری قوم کو نقصان ایک سا ہوتا ہے لیکن اس پر قوم کا ردّ عمل ایک سا کیوں نہیں ہوتا؟ خود احتسابی اور خود پر تنقید بہت اچھا، حقیقت پسندانہ عمل ہے۔ لیکن اس سے قوم کو متحد ہونا چاہئے، منقسم نہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی، چاہے سیاسی قائد ہو یا فوجی قائد۔ وزیر اعظم، آرمی چیف، وزراء، اپوزیشن لیڈر، تجزیہ کار، کالم نویس بلکہ مضمون نگار (یہاں ایک وضاحت ضروری ہے ان دنوں کالم نویس صرف عطاء الحق قاسمی ہیں۔ باقی ہم سب مضمون لکھتے ہیں) جب بات کرتے ہیں یا لکھتے ہیں، ٹویٹ کرتے ہیں تو یہ احساسِ ذمہ داری ہونا چاہئے کہ کئی نسلیں اس گفتگو یا تحریر سے اپنا ذہن بنارہی ہیں اور کئی آنے والی نسلیں ان فرمودات پر اپنی سوچ، تنقید اور تبصرے کی بنیاد رکھیں گی۔

ان دنوں ریاست پاکستان کے بارے میں، ہمارے عساکر کے متعلق، ہمارے سیاسی قائدین کے حوالے سے بلوچستان ، سندھ، جنوبی پنجاب، پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے جو بھی تاثرات ہیں، خیالات ہیں اور جو سوشل میڈیا پر موجزن ہیں وہ اوپر سے نہیں اترے۔ ان کی بنیاد 1947 سے لے کر اب تک سیاسی اور فوجی حکمرانوں کے بیانات ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔ اخبارات کے اداریے ہیں۔ 2002 سے شروع ہونے والے پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کے ٹاک شوز کے تجزیے ہیں۔ ہمارے ہاں زبان بندیوں کے دَور میں بی بی سی اور غیر ملکی نشریات کے تبصرے بھی ذہن بناتے رہے ہیں۔1965 کی جنگ میں پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک کی فوجی طاقت کا مقابلہ کیا۔ جنگ میں فتح مند ہونے کا سوال نہیں تھا۔ ایک نوزائیدہ مملکت کو اپنی سا لمیت کا تحفظ کرنا تھا۔ اپنی بقا کے لئے سینہ سپر ہونا تھا۔ مشرقی پاکستان میں مشرقی پاکستان رائفلز نے زبردست مزاحمت کی۔ وہاں کے عوام سیاسی قائدین ،دانشور، طلبہ، اساتذہ سب نے اپنی اپنی جگہ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ مغربی پاکستان میں بھی واہگہ سے دالبندین تک یہی عالم رہا۔

اس کے بعد ہونے والی سیاسی کشمکش اور جنرلوں کی لکھی ہوئی کتابوں نے جذبۂ ستمبر کو کچل کر رکھ دیا۔ وہ گرد و غبار اڑایا گیا کہ 1965کی جنگ کے حقیقی فوجی معرکے دوارکا کے ریڈار اور قلعے کی تباہی۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی یلغار۔ 1971میں مشرقی پاکستان کے بالخصوص کمال پور کے معرکے سب اس سیاسی فوجی جھڑپوں کی دھول میں غائب ہوگئے۔ ملّی نغموں کا پیدا کردہ جذبہ سیاسی اور فوجی طالع آزمائوں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ گیا۔

میں بہت سنجیدگی سے اپنے پڑھنے والوں، اپنے تجزیہ نگاروں، اپنے سابق اور موجودہ حکمرانوں، اپنے موجودہ اور ریٹائرڈ جنرلوں کی توجہ اس طرف دلانا چاہوں گا کہ ہماری سوچ کے یہ جو انداز ہیں۔ ان سے کیا قوم کو آگے بڑھنے میں مدد ملتی ہے؟ فکر کے یہ زاویے، تجزیے، یہ سمتیں کہاں سے آئی ہیں اور یہ اس نہج پر کیوں استوار ہوئی ہیں کہ ہم دوسرے فریق کو کبھی ہم وطن اور ہم قوم نہیں سمجھتے۔ ہم فوراً نیام سے تلوار نکال لیتے ہیں۔ دوسرے کی حب الوطنی اور خلوص پر یلغار کردیتے ہیں۔ کیا یہ فکری انتہا پسندی نہیں ہے۔ کبھی اس پر تحقیق ہونی چاہئے کہ تنقید، احتساب، تقریر کا یہ طریق کہیں ہمارے اندر کسی دشمن کی باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تو نہیں ہے۔ ہماری فوج نے بھی سول امور میں مداخلت کی بار بار غلطی کی ہے۔ سیاستدانوں نے درست اقدامات نہیں کیے۔ اعلیٰ عدالتوں نے بہت سے درست فیصلے نہیں کیے۔ اب ان سب کی اصلاح ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ یہ سب ادارے ہمارے اپنے ہیں۔ ان سب اداروں کو ماضی کی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے ایک نئے سفر کا آغاز کرنا چاہئے۔ اب دشمن کی جارحیت سرحدپار کرکے نہیں ہوتی ۔ وائرلیس سے وائرل ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں