aqeeda ahle sunnat 149

عقیدہ اہل سنت کانفرنس . تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی۔

عقیدہ اہل سنت کانفرنس

تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی۔

گزشتہ کل لاہور میں ہمارے نوجوان ساتھی جناب حافظ محمد حسین گولڑوی نے حسن بینکویٹ ہال میں ” عقیدہ اہل سنت کانفرنس” کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی جس میں اہل سنت کی چند معروف شخصیات کو انہوں نے اظہار خیال کے لیے مدعو کیا ہوا تھا۔انکی محبت ہے کہ راقم کو بھی انہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔جناب گولڑوی صاحب نے اس کانفرنس کا عنوان بہت خوب رکھا تھا جو مجھے کھینچ کر لاہور لے گیا۔اس کانفرنس کو عقیدہ اہل سنت کے ساتھ منسوب کر نے کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ اہل سنت اپنے معروف روایات اور عقائد سے آہستہ آہستہ انحراف کررہے ہیں۔گولڑوی صاحب کا بھی یہی خیال ہے اس لیے انہوں نے اس کانفرنس کانام عقیدہ اہل سنت کانفرنس رکھا۔اسی صورت حال کا تقریبا ہر مقرر نے اظہار کیاکہ ہم اپنے اسلاف کے عقائد کو چھوڑ کر ناصبیت کی طرف جارہے ہیں۔ہم خلفاء راشدین کی سیاست وسیادت کو ماننے والے تھےلیکن اب ہمارے کچھ لوگ ملوکیت اور یزیدیت کی حمایت مین میدان عمل میں آچکے ہیں۔سب دوستوں نے اپنی اپنی باری پر کم و بیش اسی غم کا اظہار کیا۔میں نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے حاضرین کی خدمت میں عرض کیا کہ جب اوائل اسلام میں مسلمان فکری انحطاط کا شکار ہوئے تو اس وقت ایسے فرق سامنے آئے جن کے نظریات افراط وتفریط پر مبنی تھے اس وقت یہ اہل سنت ہی تھے جنہوں نے امت کو اعتدال پر رکھنے کے لیے اپنی کامیاب کاوشیں کیں۔میں نے اپنی گفتگو میں سامعین و قائدین کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ ہمیں غور و فکر کرنا چاہیے کہ پاکستان میں فسادات بپا کرنے کی سازش کے وقت کا انتخاب بڑا سوچ سمجھ کر کیا گیا۔استعمار نے عین اس وقت مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کی جب عرب ریاستیں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کی شکل میں اسرائیل کی حاکمیت کو ایک ایک کر کے تسلیم کررہی ہیں۔اگر ایسے موقع پر پاکستان کے حالات پر امن ہوتے تو ظاہر ہے اہل مذہب نے اسی طرح عربوں کی مخالفت میں ریلیاں اور کانفرنسز منعقد کرنی تھیں جیسے وہ ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے کے لیےاب ریلیاں نکال رہے ہیں۔صیہونیت اور استعمار نےبڑی گہری منصوبہ بندی کرکے پاکستان کے مذہبی طبقہ کو باہم اختلاف میں الجھا دیا ہے۔ایسے نفرت انگیز نعرے لگوائے جارہے ہیں جو کبھی سننے کو نہیں ملے تھے۔یزید کو امام عالی مقام کے برابر لا کھڑا کردیا گیا ہے۔خلافت راشدہ کے نظام سیاست کے امین ملوکی سیاست کو زندہ باد کہہ رہے ہیں۔وہ علی جو نبی کی دعوت اسلام پر پہلا لبیک کہنے والا سید العرب تھا،جس کی رفعت آسمانوں کی بلندی سے بھی پرے ہے اسکی شان عالیہ کو کم کرنے کے لیے حیلے بہانے تلاش کیے جارہے ہیں۔موجودہ عربوں کی ملوکیت کو چونکہ بنوامیہ کی ملوکیت ہی جواز فراہم کرتی ہے اس لیے وہ ملوکی سیاست زندہ باد کے نعرے لگوا رہے ہیں۔خلافت راشدہ کی سیاست چونکہ طہارت اور پاکیزگی کی سیاست تھی اس لیے خلافت کا نام ان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔اس تناظر میں جو بھی احیائے خلافت کا نام لیتا ہے یا اسکی بات کرتا ہے وہ انہیں اچھا نہیں لگتا۔پاکستان میں ارطغرل ڈرامہ سیریز کو رکوانے کی اسی لیے کوشش کی گئی کہ اس کو دیکھنے سےخلافت عثمانیہ کے حوالہ سے جذبات زندہ ہوتے ہیں۔گفتگو کے اختتام پرمیں نے گزارش کی کہ ہمیں اپنے ملک کے امن و امان کی حفاظت کرنی چاہیے اور کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہیے جس سے ملک مذہبی فسادات کا شکار ہو۔

کانفرنس سے خواجہ سید محمدحبیب عرفانی سجادہ نشین دربار عالیہ سندر شریف، پیر جی حضرت غلام رسول اویسی سجادہ نشین دربار عالیہ اویسیہ علی پور چٹھہ ، جناب میر آصف اکبر تحریک منہاج القرآن علماء کونسل، برادرم پیرزادہ ضیاء المصطفے حقانی، سید عاشق حسین شاہ، ڈاکٹر طارق شریف پیرزادہ، پیرزادہ برہان الدین عثمانی، پیرزادہ عاصم مصطفے سہروردی، مفتی شبیر انجم مدنی۔علامہ وقاص علی خالد قادری، علامہ محمد اشفاق گولڑوی اور علامہ اصغر چشتی گولڑوی نے بھی خطاب کیا۔اس کانفرنس کے معزز مہمانوں نے راقم کے ساتھ بہت محبت کا اظہار فرمایا۔تمام دوستوں نے فرمایا کہ ہم آپکے تجزیات پڑھتے ہیں جو بہت اچھے اور دردمندانہ ہوتے ہیں۔میں نے اس حوصلہ افزائی پر تمام دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔باردگر اپنے تمام محبت کرنے والے قابل قدر علماء کا تہہ دل سے ممنون و متشکر یوں۔

کانفرنس میں شرکت کرنے والا ہر شخص اور مقرر اہل سنت کی موجودہ صورت حال سے سخت پریشان تھا کہ ہم ایسی لڑائی کا حصہ بن گئے ہیں جو ہماری نہیں تھی۔ملک میں چند شر پسند عناصر نے فرقہ وارانہ منافرت کا آغاز کردیا ہے۔ سید حبیب عرفانی اور جناب پیر غلام رسول اویسی نے اہل سنت کے تمام علماء ومشائخ اور عوام الناس سے بہت دردمندانہ اپیل کی کہ ہم سب کو اپنے اکابرین کی تعلیمات کا خیال رکھنا چاہیے اور موجودہ صورت حال میں ہمیشہ کی طرح اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔یہی حق اور کامیابی کا راستہ ہے۔

اس کانفرنس سے ہٹ کر میں اپنےدوستوں کی خدمت میں عرض کرونگا کہ برائے کرم ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں اسکے امن و امان کا ہم خیال رکھیں۔امن وامان ہی ترقی کی ضمانت ہے اور یہی زندگی کو پرسکون گزارنے کی صمانت دیتاہے۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ وہ ممالک جو یہاں فرقہ واریت کی آگ لگانا چاہتے ہیں کیا ان میں بھی اس قسم کے تکفیری نعروں کی گنجائش ہے؟تمام خلیجی ریاستوں میں شیعہ اور سنی بستے ہیں کیا وہ ریاستیں ایسے نعروں اجازت دیتی ہیں؟۔ سعودی عرب میں دمام کا پورا علاقہ شیعہ آبادی پر مشتمل ہے۔کیاسعودی شیعہ کے بارے میں سعودی علماء نے کفر کے فتاوی جاری کیے ہیں؟۔کیا وہاں ایسی ریلیاں نکالنے کی اجازت ہے؟میرے یہ سوالات ان لوگوں کے لیے ہیں جو وطن عزیز سے محبت کرتے ہیں۔جو اسکو امن کا گہوارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
ہمیں اپنے ملک کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ہمیں اجرتی نعرہ بازوں اور فسادی ذاکروں سے جان چھڑانا ہوگی۔ہمارے لیے سب عبادت گاہیں مقدس ہیں جہاں اللہ اور اسکے رسول کانام لیا جاتا ہے۔چاہے وہ سنی کی عبادت گاہ ہو یا شیعہ کی۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں