عظیم روحانی پیشوا میاں محمد شفیع جھاگوی کا سانحہ ارتحال 121

عظیم روحانی پیشوا میاں محمد شفیع جھاگوی کا سانحہ ارتحال.سردار محمد طاہر تبسم

عظیم روحانی پیشوا میاں محمد شفیع جھاگوی کا سانحہ ارتحال

سردار محمد طاہر تبسم

نامور روحانی پیشوا آمیر طریقت حضرت میاں پیر محمد شفیع جھاگوی زیب نشین جھاگ شریف وادی نیلم کو آج ہزاروں عقیدتمندوں کی موجودگی میں مظفر آباد میں سپردخاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ یونیورسٹی گراونڈ میں ادا کی گئی جس میں آزادکشمیر، پاکستان، گلگت بلتستان سے ہزاروں افراد، مریدین، عقیدت مندوں اور اعلی سرکاری، فوجی حکام اور سیاسی، دینی اور روحانی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
حضرت میاں محمد شفیع جھاگوی اس دور کی عظیم روحانی اور مذہبی شخصیت اور صاحب نظر و کمال بزرگ تھے اللہ کریم نے ان کی زبان میں ایسی تاثیر دے رکھی تھی کہ جو بات زبان سے نکلتی اللہ کریم پوری کر دیتے وہ کشف و کرامات رکھنے والے ولی کامل اور مرد قلندر تھے۔ انکے آستانہ اور حلقہ ارادت میں کئی ممتاز و معروف سیاسی اور علمی شخصیات جن میں وزیر اعلی گلگت بلتستان پیرسٹر خالد خورشید خان، وزیر اوقاف آزاد کشمیر راجہ عبدالقیوم، سابق جج سپریم کورٹ جسٹس غلام مصطفی مغل، اور کئی بیوروکریٹس اور اہم سیاسی و سماجی افراد شامل ہیں نماز جنازہ میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان، وفاقی وزیر مذہبی امور پیرنور الق قادری، سینیٹر سیف اللہ خان نیازی، سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی، سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر، وزیر حکومت راجہ عبدالقیوم،صدرپیپلزپارٹی آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر ، سربراہ متحدہ علماء مشائخ کونسل پاکستان ملک صفدر علی اعوان، وزیر حکومت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر سابق وزیر اعظم سردار عتیق خان، سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین، ممبر قانون ساز اسمبلی پیر علی رضا بخاری، سابق وزیر دیوان علی چغتائی، سابق ممبر کشمیر کونسل رفاقت اعوان، سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور، سابق ممبر کشمیر کونسل راجہ افتخار ایوب، سابق مشیر انسانی حقوق اور تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انسپاڈ کے صدر سردار محمد طاہر تبسم جمیعت علماء اسلام کے مرکزی رہنما حافظ عتیق الرحمن اعوان، سنیئر قانون دان زاہد اکرم ایڈووکیٹ، مشتاق جنجوعہ ایڈووکیٹ، ڈائریکٹر لیبرشن سیل سرور خان گلگتی، سجادہ نشین چورہ شریف پیر سید سعادت علی شاہ، صاحبزادہ اشفاق ظفر ، پیر اختیار علی عباسی،آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر سردار زاہد تبسم،چیف ایڈیٹر جموں وکشمیر عامر محبوب چیف ایڈیٹر روزنامہ نیل فری نثار کیانی، عابد ہاشمی ، سیکرٹری اطلاعات کشمیر جرنلسٹس فورم محمد اقبال اعوان، سمیت ممتاز سیاسی وسماجی مذہبی شخصیات نے حضرت میاں شفیع جاگوی رحمہ اللہ علیہ کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے انکی تبلیغی اور دینی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے اور انکے درجات کی بلندی کی دعا اور انکے اہل خاندان اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی
میاں شفیع باجی کی ساری زندگی تبلیغ و اشاعت اسلام، پیغام توحید و رسالت، اصلاح معاشرہ عشق مصطفے اور تطہیر قلب کے لئے وقف رہی انکے عظیم والد بزرگوار اور برصغیر کے عظیم عالم دین و روحانی پیشوا حضرت مولانا میاں برکت اللہ جھاگوی رح نے قیام پاکستان سے قبل وادی نیلم میں شرعی عدالتیں قائم کر کے اسلامی نظام کے نفاز کی عملی کوشش فرمائی اور مدارس و مساجد کی تعمیر میں پوری توجہ دی ان کا قائم کیا ہوا مدرسہ اب بھی جھاگ شریف میں موجود ہے۔
میاں شفیع جھاگوی رح نے اپنے والد محترم کے مشن کو آگے بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نیلم، لیپہ اور مظفرآباد میں مساجد اور دینی مدارس کے قیام و انصرام کے لئے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے انجمن محبان مصطفے قائم کر کے ہر گاوں اور قصبے میں محافل میلاد النبی کا انعقاد کیا اور کئی سالوں سے مظفر آباد میں قومی سطح کی میلاد مصطفی کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں جس میں ممتاز علمائے کرام اور نعت خوان حضرات مدعو کئے جاتے ہیں نیز پورے ڈویژن میں ایسی تقاریب ماہ ربیع الاول میں باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہیں۔ انکے فرزندگان بھی اس مشن میں انکے ہم رکاب رہتے ہیں۔
میاں محمد شفیع کے پاس ہر وقت زائرین اور عقیدت مندوں کا بڑا ہجوم رہتا ہے وہ جدھر بھی جاتے ہزاروں افراد جمع ہو جاتے اور انکی دعاوں سے فیض یاب ہوتے۔ انکی شخصیت اور کردار پورے خطے اور ملک بھر میں بڑے احترام اور تقدیس کا مظہر تھا۔ وہ بے حد شفیق، خوش مزاج، ہمدرد اور اعلی ظرفی کا نمونہ اور اس نفس و نفسی کے دور میں اپنے اسلاف کی چلتی پھرتی تصویر تھے انکے وصال سے ایسا خلاُ پیدا ہو گیا ہے جس کی کمی مدتوں پوری نہیں ہو سکے گی۔
میں سمجھتا ہوں کہ ریاست جوں و کشمیر اور پاکستان ایک ایسے ولی کامل سے محروم ہو گیا ہے جسے دیکھتے ہی اللہ یاد آتا تھا جو بلاشبہ موجودہ وقت کے غوث اور قطب کے درجے پر فائز تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں