283

عراق میں ملین مارچ

عراق میں ملین مارچ ۔۔
عراق میں جمعہ کے دن ہونے والے ملینز مارچ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ موجودہ عراقی تاریخ کے اب تک کے سب سے بڑے مظاہرے تھے ،ان مظاہروں کو عشرین انقلاب کا نام بھی دیا جارہا ہے
عشرین انقلاب وہ دن ہے کہ جس وقت عراقی عوام نے سن انیس وبیس میں برطانوی سامراج کو نکال باہر کیا تھا
حالیہ احتجاج عراق کے عوامی و مذہبی رہنما سید مقتدی الصدر کی کال پرانجام پایا کہ جس کی حمایت عراقی عوامی رضاکار فورسز حشد الشعبی یا پاپولر موبلایزیشن فورس کے تمام یونٹس نے کی تھی اور اس احتجاج کو بہت سی سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کی بھی حمایت حاصل تھی جبکہ عراقی مرجعیات اور حوزہ کی جانب سے بھی خاموش تائید حاصل تھی۔
واضح رہے کہ عراقی پارلیمان نے نگران و عبور ی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی قیادت میں اس سے قبل ایک بھاری اکثریت کے ساتھ بل پاس کیا تھا کہ عراق میں موجود بیرونی افواج خاص کر امریکی افواج کو واپس چلے جانا چاہیے ۔
عراقی رہنما کی جانب سے مظاہرین کے لئے اس سے پہلے نو نکات پر مشتمل ایک گائیڈ لائن دی گئی تھی کہ جس کا بنیادی و مرکزی نکتہ پارلیمان کے پاس شدہ بل کی حمایت کرتے ہوئے عراق میں موجود امریکی فورسز کو واپسی کا رخ لینے کی تاکید کی گئی ہے
اس میں ذکر ہوا ہے کہ “عراق عوام صرف ملکی جھنڈے کو لیکر آئیں ،قابض افواج کے چلنے جانے کے لئے ہی نعرہ لگائیں اور احتجاج کے لئے مخصوص و تعین شدہ جگہ کے علاوہ کہیں اور احتجاج نہ کریں ،اپنے احتجاج کو پرامن رکھیں اور خود کو اگلی کال کے لئے تیار رکھیں جو ممکنہ طور پر دھرنوں اور بھوگ ہڑتال وغیرہ پر مشتمل ہوسکتی ہے ”
دارالحکومت بغداد کے احتجاج میں شریک لاکھوں افراد کے سامنے عراقی رہنما کی جانب سے پیش کردہ اہم نکات کچھ یوں تھے
الف:عراق میں موجود تمام امریکی اڈوں کو بند کردیا جائے
ب:عراق میں موجود امریکی سیکوریٹی ایجنسیوں کے دفاتر بند کردیے جائیں اور ہر قسم کی ایکٹی ویٹیز سے روکا جائے
ج:غاصبوں کے عسکری اور جاسوس طیاروں کے لئے عراقی فضائی حدود کو مکمل بند کردیا جائے
د:غاصب کے ساتھ ہونے والے تمام سیکوریٹی معاہدوں کو ختم کردیا جائے
ڈ: اگر غاصب عراق کو چھوڑنے سے انکار کرتا ہے تو ، ہمسائیہ ممالک عراق میں موجود غاصب فورسز کے ساتھ ہر قسم کا تعاون بند کردیں
ر:اگر مندرجہ بالا نکات پر عمل ہوتا ہے تو پھر ہمارا برتاو ان کے ساتھ ایک نارمل تعلقات کی سطح کا ہوگا لیکن دوسری صورت میں ان کا ساتھ ہمارا برتاو ایک غاصب اور جارح قوت کے طور پر ہوگا
انہوں نے اس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ جیسا کہ دوسرے ممالک کی سرزمین عراق کیخلاف استعمال نہیں کی جاسکتی اسی طرح عراقی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہیں کی جاسکتی ”
اسی اثنا میں آج کربلا میں بیان ہونے والے جمعہ کے خطبے میں عراقی مرجع اعلی کی جانب سے ایک بیان میں عراق کی سالمیت اور خود مختاری پر زور دینے کے ساتھ ساتھ عراق میں جاری سیاسی عمل کی سست رفتاری پر تنقید کی گئی ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج عراقی عوام نے کھلے اور وشگاف انداز سے اپنا فیصلہ سنادیا ہے کہ جس کے بعد اس بات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ غیر ملکی افواج عراق میں رہ سکیں ۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ٹرمپ کا یہ خیال کہ جرنیل سلیمانی کے قتل سے مشرق وسطی یا مغربی ایشیا میں اس کیخلاف مزاحمت ختم ہوگی ایک غیر منقطی سوچ ہے جو ہر گذرتا دن واضح ہوتی جارہی ہے
یہ جرنیل سلیمانی اور عراقی کمانڈر ابومہدی کا خون نہیں کہ جس نے عراقی پارلیمان کو بل پاس کرنے پر متفق کردیا ؟
کیا نارمل حالات میں ایسا ممکن بھی ہوتا ؟
کیا دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ پر اس کھلے انداز سے کسی ملک نے حملے اور جواب دینے کی جرات کی تھی ؟
جن چند ہزار عراقیوں کو سیاسی و معیشتی اصلاحات کے نام پر گذشتہ دو ماہ سے بغداد کی شاہراہوں پر جوکر بنائے رکھا ہوا ہے کیا اب وہ اپنے کھیل میں کامیاب بھی ہونگے ؟واضح رہے کہ عراقی تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے اہداف عراق میں سیاسی و امن وامان کا خلا پیدا کرنا ہے تاکہ اندرونی خلفشار باقی رہے
کیا بغداد کی سڑکوں پر آج موجود عوامی سونامی کافی نہیں کہ اب جوکروں کا کھیل ختم ہواور انہیں اندر باہر سے مزید آگسیجن فراہم نہ کیا جائے
بیرونی زارئع ابلاغ کا کہنا ہے کہ رات تک بغداد کی مین شاہراہیں اور دارالحکومت کو دوسروں شہروں سے ملانے والی تمام گذرگاہوں میں اس قدر رش تھا کہ بغداد کی حالیہ تاریخ نے کبھی ایسا رش نہیں دیکھا تھا
عراقی کہتے ہیں اگر ٹرمپ کو سمجھ میں آئے تو یہ دوسرا طمانچہ ہے جو ا سکی پالیسی پر مارا گیا ہے لہذا انہیں فوری طور پر عراق چھوڑنا چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں