59

عدم اعتماد اسپیکر نے ٹال دیا، مرحومین کی فاتحہ خوانی کے بعد اجلاس پیر تک ملتوی، اپوزیشن کے 3 کے سوا تمام 159 ارکان شریک

اسلام آباد (نمائندہ ،نیوز ایجنسیاں ) قومی اسمبلی کا انتہائی اہم اجلاس تحریک عدم اعتماد پیش ہوئے بغیر ملتوی ہوگیا، اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس مرحوم اراکین کیلئے فاتحہ خوانی کے بعد پیر 28مارچ تک ملتوی کردیا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کسی رکن پارلیمنٹ کے انتقال پر اجلاس کا ایک روز کیلئے التوا روایت ہے، آئین، قانون اور اسمبلی قواعد و ضوابط کےمطابق کام کروں گا، جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسد قیصر اسپیکر نہیں پی ٹی آئی کے ورکر ہیں، پیر کو غیر آئینی عمل دہرانے نہیں دینگے، اگرکوئی غیر آئینی عمل دہرایا تو پھر ہر حربہ استعمال کرینگے اور دما دم مست قلندر ہوگا جبکہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہےکہ وزیراعظم مقا بلے سے بھاگ رہے ہیں، عمران خان اگلے ہفتے سابق وزیراعظم ہوجائینگے۔قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کےتین کے سوا تمام 159ارکان شریک ہوئے، حکومت کے 81ارکان نے شرکت ہوئے، پیپلزپارٹی کا ایک رکن بیرون ملک ہونے کی وجہ سے جبکہ علی وزیر زیرحراست ہونے کی سے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اور جماعت اسلامی کے عبد الاکبر چترالی شریک نہیں ہوئے، اکثر اتحادی غیر حاضر رہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کے روز وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک زیر بحث نہیں آئی اور اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس مرحوم اراکین کیلئے دعائے مغفرت کے بعد پیر 28مارچ تک ملتوی کردیا۔ اسپیکر نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی خیال زمان انتقال کرگئے ہیں۔ اسکے علاوہ سابق صدر رفیق تارڑ، سینیٹر رحمان ملک، بشری رحمٰن ‘ غلام عباس قریشی ‘ پشاور مسجد دھماکے میں شہید ہونے والوں اور وفات پانے والے دیگر اراکین کیلئے دعائے مغفرت کی جائے۔ وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری نے دعائے مغفرت کرائی۔ اسپیکر اسدقیصر نے اس موقع پر کہا کہ اس ایوان کی روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی رکن وفات پا جاتا ہے تو پہلے دن اجلاس بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردیا جاتا ہے اور ایجنڈ اگلے روز کیلئے ملتوی کردیاجا تا ہے۔ یہ روایت اب سے نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ اب تک 24 ارکان کی وفات پر اس ایوان کی کارروائی ملتوی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر میں آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کروں گا۔اس دوران اپو زیشن لیڈر شہبا زشریف بات کرنے کیلئے اپنی نشست پر کھڑے ہوئے لیکن اسپیکر نے انہیں بات کرنے کی اجا زت نہیں دی بلکہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسمبلی اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا گیا تھا جس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی شا مل تھی۔ قومی اسمبلی اجلاس کیلئے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے اور ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ کر کے حساس علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔ اسلام آباد پولیس، رینجرز اور ایف سی کی نفری کو جگہ جگہ تعینات کیا گیا، کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم ریڈ زون جانے والے ملازمین اپنے دفتر کا کارڈ دکھا کر جانے کی اجازت دی گئی۔ قومی اسمبلی اجلاس کیلئے ایم این ایز کو ہدایت نامے بھی جاری کیے گئے جس میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی اجلاس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی ہو گی۔ اس کے علاوہ ایم این ایز، وزرا کے سکیورٹی گارڈز اور ذاتی عملہ ساتھ لانے پر بھی پابندی تھی۔ ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنےکی اجازت صرف مارگلہ روڈ سے تھی ، سرینا چوک، نادرا چوک، ایکسپریس چوک اور ایوب چوک ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے بند رہے ۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے ناراض ارکان نے شرکت نہیں کی۔ اکثر اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ق لیگ کے کسی ارکان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔ اجلاس میں ایم کیو ایم کا ایک جبکہ جی ڈی اے کے دو ارکان موجود تھے۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر نے آج پھر پی ٹی آئی کے ورکر کی طرح قانون اور روایات کو پاؤں تلے روند دیا، 8 مارچ کو قرارداد جمع کرائی گئی جس کےبعد 14 دن میں اسپیکر اجلاس بلانے کا پابند تھا، 22 مارچ کو تاریخ ختم ہونا تھی، او آئی سی کا اجلاس 22 اور 23 کو تھا، ہم نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ ان دنوں میں لانگ مارچ کرینگے نہ احتجاج، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کو کیا مشکل تھی وہ 21 مارچ سے پہلے اجلاس بلا سکتے تھے، یہ قانونی معاملہ تھا لیکن اسپیکر نے عمران نیازی سے مل کر سازش کی، وہ آرٹیکل 6کے مرتکب ہوئے ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں فاتحہ خوانی کے بعد پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑا ہوا، بات تو دور کی بات، اسپیکر نے دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا، وہ اٹھ کر چلے گئے، اسپیکر کا یہ کردارتاریخ میں سیاہ الفاظ میں قائم رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ممبران کی فاتحہ روایت ہے لیکن قانون اور آئین روایت سے بالاتر ہے، آج بہت اہم موضوع تھا، عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھا،روایات اپنی جگہ لیکن قانون کی پابندی کرتے ہوئے تحریک کو ٹیک اپ کرتے اور ووٹنگ کراتے، انہوں نے ہماری ایک نہ سنی، اسپیکر نے پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا گھناؤنا کردار ادا کیا جس کو پوری قوم ہمیشہ برے الفاظ میں یاد رکھے گی۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ پاکستان تاریخ کےاہم موڑ پر ہے، قوم کی نظر پارلیمان پر لگی ہے مگر آپ دھاندلی دھونس کے ذریعے آئین کو مجروح کریں اور اپنی من مانی کریں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اب پیر کے روز اجلا س دوبارہ بلایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں