51

عدم اعتماد، اُلٹی گنتی شروع، ایمپائر بظاہر نیوٹرل، ہوم ورک مکمل، 2 دن میں خوشخبری دیں گے، فضل الرحمٰن، دیر کس بات کی جلدی کریں، وزراء

اسلام آباد، کراچی، لاہور، کوئٹہ (ایجنسیاں ، ٹی وی رپورٹ) تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کے حوالے سےحکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری بحث میں شدت آگئی ہے اپوزیشن کا دعویٰ ہے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ایمپائر بظاہر نیوٹرل ہیں، تحریک عدم اعتماد کےحوالے ہوم ورک مکمل ہے، 2دن میں خوشخبری دینگے، بہار آئے نہ آئے، خزاں کو جانا چاہیے، شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ق لیگ کے بغیر بھی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی، متحدہ اپوزیشن کی 9 رکنی کمیٹی نے بھی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی سفارش کرتے ہوئے ارکان قومی اسمبلی کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی ہے، رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کیلئے ن لیگ کا پنجاب میں کام مکمل ہے، اب آصف زرداری نے ڈیلیور کرنا ہے، جبکہ وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ اگر نمبر پورے ہیں تو دیر کس بات کی ہے اپوزیشن جلدی کریں، فواد چوہدری نے کہا مولانا ہر مہینے عدم اعتماد کی بات کرتے ہیں، شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے پاس نمبر پورے نہیں، ق لیگ نے اپوزیشن کو جواب دیدیا، جبکہ حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں جو پاکستان کے ساتھ ہوگا اسکا ساتھ دینگے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیاہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائیگی، عدم اعتماد کی تحریک کی 100فیصد کامیابی کا یقین ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔اگلے 2 سے 3 دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں ہی پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کسے کیا ملے گا؟اس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا آپ کو سب کچھ بتادیں؟ اتنا کافی ہے اب اپوزیشن میں کسی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی۔فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا، ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے، ہم عدم اعتماد سے پہلے کسی داخلی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے، اگلے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی اتحادیوں پر انحصار نہیں کر رہی۔ ہمارا انحصار انفرادی شخصیات پر ہے۔ ہمارے پاس تحریک کی کامیابی کیلئے نمبرز پورے ہیں، امپائر بظاہر نیوٹرل نظر آ رہے ہیں۔ ہم نے امپائر سے کوئی مدد نہیں لینی۔ ہم نے امپائر سے حکومت کی سپورٹ ختم کرانا تھی۔ اب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کر رہی ہیں کیونکہ اب اپوزیشن جماعتوں کی ضرورت کامن ہو گئی ہے۔ حکومتی اتحادیوں سے بھی اپوزیشن جماعتیں رابطے میں ہیں۔ دوسری جانب جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کو پتا ہے کہ اپوزیشن کے پاس نمبرز گیم پورا ہے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی چوہدری برادران سے ملاقات میں طارق بشیر چیمہ موجود نہیں تھے، ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملہ پر ن لیگ ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف کی الگ الگ ذمہ داریاں تھیں، پنجاب میں زیادہ معاملہ مسلم لیگ (ن) کا تھا ،ہم نے اپنا ہوم ورک مکمل کر کے پیش کردیا ہے،پیپلز پارٹی کے ذمہ جو کام تھا وہ انہیں ڈیلیور کرنا ہے، تحریک عدم اعتماد کب اور کس طرح پیش ہوگی یہ فیصلہ متحدہ اپوزیشن کی قیادت کریگی، پارٹی قائدین نے کوئی فیصلہ کیا ہے تو میرے علم میں نہیں ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے اجلاس طے شدہ اور روٹین کے مطابق ہیں، ق لیگ سے مثبت بات ہوئی ہے اسی کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں، ق لیگ کے پاس پانچ، باپ کے پانچ اور ایم کیو ایم کے پاس سات ووٹ ہیں، اپوزیشن قیادت نے تینوں جماعتوں سے متعدد میٹنگز کی ہیں جس میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کی باتوں میں بوکھلاہٹ نظر آرہی ہے،پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ پارٹی سے رابطے میں نہیں ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی چودھری برادران سے ملاقات میں طارق بشیر چیمہ موجود نہیں تھے، مونس الٰہی نے حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کی جو بات کی تھی وہی بات کل چودھری پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت نے بھی کی ہے، میں وہی بات کررہا ہوں جو کل ملاقات میں میرے سامنے ہوئی تھی، ہماری حکومت کے بعد سے کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرا کہ مولانا یا ن لیگ نے عدم اعتماد کی بات نہ کی ہو، لاہور فیصل آباد کا تھیٹر بند ہونے کے بعد سے ان باتوں میں تیزی آگئی ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جس کمپوزیشن سے چل رہی ہے اس سے کئی بہتر طریقے سے تھیٹر چلتا ہے، اپوزیشن کے پاس وزیراعظم کیلئے کوئی امیدوا نہیں ہے، ایک کہتا ہے کہ آٹھ گھنٹے کیلئے ایک وزیراعظم ہوگا جبکہ چار چار گھنٹے بلاول اور مریم کو دیدیں گے، یہ مخولیہ اور مضحکہ خیز قسم کی اپوزیشن ہے، اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لاتی ہے تو دیکھ لیں گے۔ ادھر مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد چوہدری برادران کے بغیربھی آجائیگی، آج یہ فیصلہ چوہدری برادران کوکرنا ہے کہ انہوں نے عوام میں رہنا ہے یا اقتدارمیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں