74

عدم اعتماد، اتحادیوں کا سو فیصد جھکاؤ اپوزیشن کی طرف، پرویز الٰہی

کراچی (ٹی وی رپورٹ)رہنما مسلم لیگ ق ، چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں اتحادیوں کا سوفیصد جھکائو اپوزیشن کی طرف ہے ،اسے بدلنا عمران خان کی ڈیوٹی ہے،آئی ایس پی آر نے کہا ہم نیوٹرل تو انہوں نے بولا یہ تو صرف جانور ہوتا ہے،اس لئے پہلے سوچو پھر بولو، وزیراعظم نے ہمارے ایم این اے سے کہا اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری کی ڈیلیور نہیں کرپائے،پشاور سے مدد کی کوشش کی جارہی ہےمگر اللہ نے ہی کام کردیا، اپوزیشن کے پاس زیادہ ارکان ہیں،ن لیگ ،پی پی اور مولانا کا اتحاد دیرپا ہے، وزیراعظم میں سمجھداری کا فقدان ہے،نا تجربہ کاری بہت ،نیچے اتریں گے تو سیکھیں گے، حکومت نے دیر کردی شگاف پڑگیا، انہیں بدلہ لینے کا بڑا شوق ہے،سب کو نیب میں ڈالا۔ بڑی حیرانگی ہوئی ہے کہ دونوں اطراف سے اس طرح کا بیان آجانا کہ ایک ہی جگہ پر جلسہ کرنا ہے یہ تو ٹکراؤ کی شکل بن گئی ۔جب ٹکراؤ ہوگا تو دونوں طرف سے نقصان ہوگا تو پوری قوم کا پاکستان کا نقصان ہوگا۔انہیں ہمارے عام لوگوں کا خیال کرنا چاہئے کہ ہم سب کو کس طرف لے کر جارہے ہیں یہ تو صرف تباہی کا راستہ ہے۔چوہدری شجاعت نے دونوں جماعتوں سے درخواست کی ہے میری بھی یہ درخواست ہے کہ خدا کے لئے یہ ختم کردیں ۔ابھی تواسمبلیوں کے اندر گیم ہے دونوں جماعتوں کو ادھر توجہ لگانی چاہئے۔پاکستان کے امن کو نہ برباد کریں اور کچھ تو خیال کرلیں ۔حکومت کو پہل کرنی چاہئے حکومت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے نقصان ہوگا تو ذمہ داری ان کی بڑھے گی جنہوں نے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنا تھا۔صرف یہ نہیں ہوتا کہ ڈنڈے سے صورتحال کنٹرول ہوتی ہے یہ عقل سے سمجھ سے دور اندیشی سے یہ چیزیں حل ہوتی ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ حکومت میں عقل و دانش اور سمجھ داری کا100 فیصد فقدان نظر آرہا ہے۔چاہتے ہیں ملک کا امن خراب نہ ہو حکومت کے گھبراہٹ اور غصے کے فیصلے سامنے آرہے ہیں۔بس ایک ہی شخص گھبرایا ہوا پھر رہا ہے بغیر وجہ کے پھر رہا ابھی تو ہوا ہی کچھ نہیں ہے۔بہت سارے لوگوں کو آن بورڈ لایا جارہا ہے وقت تو لگتا ہے اور پھر مشکلات بھی حکومت کی پیدا کردہ ہیں ۔ہم نے ہر مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا حکومت نے تعلقات بنائے نہیں بگاڑے ہیں حتیٰ کہ اپنے لوگوں سے بگاڑ کیا ہے ان کے اپنے لوگ ہی ہیں جس کی وجہ سے یہ گھبرائے پھر رہے ہیں۔زبان ایک ایسی چیز ہے جو جوڑ بھی دیتی ہے اور ہمیشہ کے لئے توڑ بھی دیتی ہے۔جب جماعتیں آپس میں ملتی ہیں تو کچھ لین دین ہوتا ہے اس کے بغیرتو آپس میں نہیں بیٹھتیں بغیر مقصد کے کوئی تھوڑی بیٹھتا ہے۔مختلف پیشکش ہیں زرداری نے سب سے پہلے وزیراعلیٰ کی پیشکش کی تھی اس کے علاوہ ن لیگ کے بھی بہت مثبت بیانات آئے ہیں تمام جماعتوں نے ہمیں پیش کش کی ہے ۔ مگر حکومت کی پیشکش کا انتظار ہے کہ حکومت کیا کرتی ہے ہوسکتا ہے حکومت خود ہی یہ آفر کردے ۔ایم کیو ایم اور باپ پارٹی کے کچھ تحفظات ہیں اکیلے نہیں سب اکٹھے فیصلے کریں گے۔ ایم کیو ایم کے آصف زرداری کے ساتھ کچھ مسائل ہیں۔ ملاقات میں ایم کیو ایم کے70فیصد مسائل حل ہوگئے۔ فیصلے کے تقریباً قریب پہنچ چکے ہیں ہمارا فیصلہ ایم کیو ایم کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت ہوئی ہے اس پر کام ہورہا ہے ۔ تحریک انصاف کے ساتھ بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر پہلے بات چیت ہوئی تھی مگر انہیں اپنی زبان پر قائم رہنا چاہئے انہیں اپنا ٹریک ریکارڈ درست کرنا چاہئے۔اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی فوری انتخابات نہیں ہوں گے ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے پر متفق ہیں۔اگر ن لیگ کے ساتھ ہماری کوئی بات بنتی ہے تو اس کے ضامن آصف علی زرداری ہوں گے۔شہباز شریف سے بھی عنقریب میری ملاقات متوقع ہے۔ عمران خان سے دو دفعہ پہلے ملاقات ہوچکی ہے مگر انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ ایم کیو ایم والے بھی گلہ کررہے تھے کہ ان سے بھی ملاقات میں کوئی گفتگو نہیں کی۔یہاں تک نوبت ان کے مشیروں کی وجہ سے آئی ہے ۔ وزیراعظم خود ایماندار ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے خود ان کی نیت ہوتی ہے مگر کیوں نہیں ہورہا۔ ان کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ان کو یہ نہیں پتہ چل رہا ہے میں نے یہ کام کیسے ٹھیک کرنا ہے۔آئی ایس پی آر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہماراکوئی تعلق واسطہ نہیں ہے ہم نیوٹرل ہیں۔ آگے چل کر انہوں نے نیوٹرل کا جو حشر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ”نیوٹرل جانور ہوتا ہے “ وہ کس کو کہہ رہے تھے ۔میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ پہلے سوچوپھر تولو پھر بولو کم از کم اتنا تو کرلیں۔ وزیراعظم کو بدلہ لینے کا بڑا شوق ہے سب کو نیب میں ڈال دیا جائے حکمرانی کے یہ طور طریقے نہیں ہوتے۔ آپ لوگوں کے دل جیتیں آپ کو اتنی بھاگ دوڑ کی ضرورت ہی نہیں پڑے۔کیوں ہر بندہ ان کی سپورٹ کھینچ رہا ہے اور سوچنے پر مجبور ہورہا ہے 100 دفعہ سوچتا ہے کہ میں نے اپنے پاؤں پر تو کلہاڑی نہیں چلا دی یہ ان کا اپنا کیا دھرا ہے۔ہم اس لئے سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہماری طرف سے وفاداری جا رہی ہے وہاں سے دشمنی آرہی ہے۔کبھی کیسوں کی شکل میں آرہی ہے جھلکیاں آرہی ہیں ابھی بھی کیسوں کی دھمکیاں آرہی ہیں نیب والوں کو انہوں نے کہا کہ مونس کو پکڑو۔نیب والوں نے کہا ہے کہ ہم تو تحریری طو رپر دے چکے ہیں یہ فل بنچ کا فیصلہ ہے سارے مقدمات ختم ہوگئے ہیں تو ان کی طرف سے فرمان گیاہے کہ آپ کوشش کریں گے کوئی چیز نکل آئے گی۔ ان کی ناتجربہ کاری بہت ہے انہیں پہلے سیکھنا چاہئے تھا نیچے اتریں گے تو سیکھیں گے ۔پشاور سے بھی مدد کرنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے ہی کام کردیا ہے کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔آپ کو تو ووٹ لینا ہے آپ کو تو عاجز ہونا چاہئے اگر تڑی لگائیں گے تو کوئی ووٹ دے گا۔ہر چیز میں کرکٹ نہیں کرکٹ سیاست سے الگ ہوتی ہے۔ سارے لوگوں کو انہوں نے مجبور کردیا ہے کہ ان کو پڑ جائیں اب سارے مل کر ان کو پڑ جائیں گے تو ان کی روکنے کی جرأت ہوگی۔آصف زرداری ٹھیک کہہ رہے ہیں ان کے پاس نمبرز پورے ہیں بلکہ زیادہ ہیں بڑے سرپرائز آنے ہیں ۔عمران خان نے بہت دیر کردی ہے شگاف پڑ گیا ہے ۔ اتحادیوں کے فون آتے ہیں باقی سب نیوٹرل ہیں ۔ باپ پارٹی کے بھی مسائل ہیں ان کے لیز کے فیصلے نہیں ہورہے کچھ گیس کی رائلٹی کے مسائل ہیں بہت ساری چیزیں زیر التوا ہیں اب وہ بھی تنگ پڑ گئے ہیں۔جی ڈی اے میں ابھی پیر پگارا کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ مسلم لیگ ن اسٹیلشمنٹ کے لئے قابل قبول ہوئی ہے یا نہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ عمران خان نے خود ہمارے ایم این اے کو کہا ہے کہ میں ان کی مان رہا تھا تو مار کھا رہا ہوں مجھے چاہئے تھا میں پہلے دن سے ہی اپنی مرضی کرتا ۔24 گھنٹے بھی گزر چکے ہیں حکومت کے لئے کوئی خوشخبری نہیں آرہی۔جہانگیر ترین گروپ عثمان بزدار کو ہٹا کر دم لے گا۔ عمران خان نے چار دن پہلے مونس الٰہی کو کہا تھا کہ آپ تحریک انصا ف میں ضم ہوجائیں تو انہوں نے کہا کہ ہم ضم نہیں ہوسکتے ہمارا اپنا ووٹ ہے ۔ انہوں نے یہ آفر باپ پارٹی اور لوگوں کو بھی کی ہیں۔ساڑھے تین سال میں انہوں نے سب کو احساس پروگرام پر لگایا ہوا ہے۔کہتے ہیں کہ ہیلتھ کارڈ کرے گا ہیلتھ کارڈ کیا کرے گاان کو چاہئے تھا کہ اسپتالوں کو ٹھیک کرتے۔ سارے اتحادیوں کا100 فیصد رجحان اپوزیشن کی طرف ہے۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی، مولانا کا اتحاد پکا اور دیر پا ہے۔مخالفین ایک شخص کے خلاف ہوں تو تلخیاں بھلا دیتے ہیں۔عمران خان100 فیصد مشکل میں ہیں۔ اگر عمران خان کو ہٹا دیا جاتا ہے تو صوبائی اسمبلیاں اسی طرح کام کرتی رہیں گی ۔ن لیگ میں کوئی چپقلش نہیں ہے سارے معاملات نواز شریف دیکھ رہے ہیں جو نواز شریف کہتے ہیں۔ سب مانتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں