52

عثمان بزدار ایسے وزیر اعلیٰ جن کا آخر وقت تک وزیر اعظم نے دفاع کیا

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پیر کو تحریک عدم اعتماد کے پس منظر میں صوبہ پنجاب کے وزیراعلٰی عثمان بزدار سے استعفی لیا اور اس کے ساتھ ہی صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الٰہی کو پنجاب کا نیا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا۔
اس سے پہلے پیر کو ہی وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف بھی متحدہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی۔
پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی کی تحصیل تونسہ سے تعلق رکھنے والے عثمان احمد خان بزدار کو سنہ 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے وزیرِ اعلٰی پنجاب کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے کے فیصلے نے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔
انھوں نے سنہ 2018 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 286 ڈیرہ غازی خان سے پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور کامیاب ہو کر پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔
یاد رہے کہ عثمان بزدار نے پہلی مرتبہ سنہ 2013 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا تھا تاہم وہ کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔
اس سے قبل سردار عثمان خان بزدار بلدیات کی سطح پر تحصیل ناظم رہ چکے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ملک کے ایک بڑے اور اہم ترین صوبے میں نسبتاً ایک کم تجربہ کار شحض کو وزارت اعلیٰ کا منصب دینے پر پی ٹی آئی کے وفاقی و صوبائی اراکین نے بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔
ان کے بارے میں متنازع خبروں اور عتراضات پر وزیراعظم عمران خان کو مداخلت کرنا پڑی تھی اور انھوں نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں عثمان احمد خان بزدار کی نامزدگی کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے متعدد مرتبہ ان کے کام اور شخصیت کی برملا تعریف کی اور انھیں ایک دیانت دار اور باوقار شخص قرار دیا تاہم جلد ہی پی ٹی آئی کے اندر اور باہر سے عثمان بزدار کے طرزِ حکومت پر سوالات اٹھائے جانے لگے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے ان کا موازنہ مسلم لیگ ن کے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے کرتے ہوئے انھیں اپنا اہم کھلاڑی اور وسیم اکرم پلس کا خطاب بھی دیا۔
اگرچہ عثمان بزدار کے تقریباً ساڑھے تین سال کے دور حکومت کے دوران متعدد مرتبہ پی ٹی آئی کے صوبائی ارکان اسمبلی نے ان کے انتظامی امور، بیروکریسی اور صوبے کے دیگر معاملات پر کمزور گرفت کے متعلق عمران خان سے شکایات بھی کیں لیکن وزیر اعظم نے ہمیشہ ان کی حمایت کی۔
واضح رہے کہ ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کے اہم رکن اور وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین خان کے حامی ارکان اسمبلی پر مشتمل ایک گروپ نے بھی عثمان بزدار پر انھیں نظر انداز کرنے کے مختلف الزامات عائد کیے تھے جبکہ اس گروپ کی حکومت سے دوریاں بھی پیدا ہوئیں تھی۔
موجودہ صورتحال میں بھی پنجاب میں پی ٹی آئی کے ناراض اراکین میں سے علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کے ارکان نے انھیں وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔
مخالفت کے باوجود عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ کیوں؟
وزیر اعظم عمران خان نے عثمان بزدار کو پی ٹی آئی کے اندر اور باہر سے تمام تر مخالفت اور متنازع خبروں کے باوجود وزرات اعلیٰ کے عہدے پر کیوں بٹھائے رکھا؟
صحافی اور سینیئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے اس سوال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں نسبتاً ایک نئے اور کم تجربہ کار تصور کیے جانے والے شخص کو وزیر اعلی بنانے کے پیچھے چند اہم وجوہات تھیں۔
سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ ’عمران خان مرکز میں بیٹھ پر پنجاب کو چلانا چاہتے تھے اور انھیں ایک ایسا شخص چاہیے تھا جو خاموشی سے ان کے احکامات کی تعمیل کرتا رہے اور عثمان بزدار نے اس تمام عرصے کے دوران ایسا ہی کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عثمان بزادر کو وزیر اعلیٰ بنانے کی وجہ سے عمران خان کو پنجاب میں بہت سیاسی نقصان ہوا اور ان کی پارٹی پانچ حصوں میں بٹ گئی۔
سینیئر صحافی و تجزیہ کار حبیب اکرم نے بھی اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جو کوئی حکمران بھی مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوا اس نے ہمیشہ پنجاب میں اپنی گرفت کو مضبوط رکھنے کی کوشش کی۔ عمران خان کی جانب سے عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ دینا بھی ایسی ہی ایک کوشش تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے سیاسی طور پر ایک کمزور شخص کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ان کی حکومت کو صوبائی سطح سے کوئی مسئلہ یا خطرہ لاحق نہ ہو اور اس کا انھیں نقصان بھی ہوا۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بے شک عمران خان انھیں پنجاب کے لیے وسیم اکرم پلس قرار دیتے رہے ہیں مگر ’ہمیں پی ٹی آئی کے اندر اور دیگر جماعتوں میں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جنھوں نے عثمان بزدار کے طرز حکمرانی کی تعریف کی ہو۔‘
وہ کہتے ہیں کہ پنجاب میں حکومت کا سارا کنٹرول حکومت کی اتحادی جماعت کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کے پاس رہا۔
یاد رہے کہ پرویز الہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔
عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کا دور کیسا تھا؟
تجزیہ کار سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کے دور حکومت میں پنجاب کے لیے ان کا کوئی ایسا کام نہیں رہا جو قابل ذکر ہو۔ ان کی بری طرز حکمرانی پر اہوزیشن کے ساتھ ساتھ ان کی جماعت کے ارکان بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامی طور پر بھی وہ ناکام رہے اور صوبے میں بیورو کریسی کو مناسب انداز میں سنبھال نہیں سکے۔
انھوں نے کہا کہ اگر ترقیاتی منصوبے کے حوالے سے بھی جائزہ لیں تو وہ صوبے میں کوئی ایسا منصوبہ شروع نہیں کر سکے جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔
’اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے اکثر ان کی لنگر خانے اور پناہ گاہیں کھولنے پر تعریف کی لیکن یہ کوئی بڑے ترقیاتی منصوبے نہیں تھے۔ جو بھی میگا پراجیکٹ شروع کیے گئے ہیں وہ وفاقی منصوبے ہیں۔‘
حبیب اکرم نے عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کے دور پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے دور حکومت کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے ’ناکامی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اتنے بڑے اور اہم صوبے کا وزیر اعلیٰ ہر اعتبار سے، ہر محاذ پر ناکام ہوا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ سنہ 2018 میں انھیں اتنا بڑا موقع ملا کہ وہ اپنی حریف جماعت کا گڑھ سمجھے جانے والی صوبے میں اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر اپنی پارٹی اور شخصیت کی ایک ساکھ اور چھاپ قائم کر سکیں۔
’مگر بدقسمتی سے عثمان بزدار خود کو ایک تحصیل ناظم کی سطح سے اوپر نہیں اٹھا سکے۔ انھوں نے سب سے زیادہ ترقیاتی کام اپنے آبائی علاقے تونسہ میں کروائے۔‘
حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار نے صوبے میں کوئی ایسا منصوبہ نہیں شروع کیا جو ان کی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے یاد رکھا جائے۔
انتظامی امور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کی صوبے پر گرفت بہت کمزور رہی جس کی دو وجوہات ہیں۔
’ایک وجہ یہ تھی کہ عمران خان اسلام آباد میں بیٹھ کر تخت لاہور کو ریموٹ کنٹرول سے چلانا چاہتے تھے اور صوبائی انتظامیہ کو وزیر اعظم کے براہ راست احکامات بھی موصول ہوتے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ عثمان بزدار نے سیکھنے اور آگے بڑھنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ واقعی ایک بااثر وزیر اعلی لگنے لگیں۔
تاہم ان تجزیہ نگاروں کی رائے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عثمان بزدار کا مینڈیٹ صرف مرکزی طور پر طے شدہ ایجنڈے پر کام کرنا ہی تھا تو کیا اپنی ’ناکامی‘ کے ذمہ دار صرف وہ خود ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں