Raheeq ahmed abbasi articles 204

عالم مدہوشی ، نشہ عمل اور قبائلی طرز فکر.ڈاکٹر رحيق احمد عباسی

60 / 100

عالم مدہوشی ، نشہ عمل اور قبائلی طرز فکر
ڈاکٹر رحيق احمد عباسی
انسان خطا کا پتلا ہے۔ غلطی گناہ اور جرم کا ارتکاب کسی بھی انسان سے ہو سکتا ہے۔ ہمارے عقیدے کے مطابق پیغمبر معصوم عن الخطا ہوتے ہیں ۔لیکن تیرہويں پارے کی پہلی آیت میں زلیخا کے جال سے نکلنے کے بعد حضرت یوسف کے الفاظ “وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ” قیامت تک مذہب کے پیرو کاروں کے لئے ایک انتباہ بھی ہیں اور ایک کھلی ہدایت بھی کہ اس حوالے سے سوچ، فکر اور طرز عمل کیسے ہونا چاہئے ۔ یعنی آج کے دور میں کوئی بھی شخص خواہ وہ علم وعمل اور تقوی و طہارت کے چاہے کتنے ہی اعلی ترین مقام پر فائز ہو کو کبھی اپنے آپ کو اتنا مضبوط اور طاقتور نہیں سمجھنا چاھئے کہ وہ نفس اور شیطان کے حملوں سے بالکل محفوظ ہو چکا ہے، اور نہ تلامذہ، مریدوں، عقیدت مندوں اور پیرو کاروں کو اپنے کسی استاد، شیخ یا رہنما کےبارے ایسا عقيدہ رکھنا چاھیے ۔ اس حوالے سے دوسری بات اہم یہ ہے کہ کسی بڑے صاحب منصب کی طرف سے ارتکاب کی وجہ سے کسی گناہ یا جرم کی سنگینی کم نہیں ہوتی یا کوئی غلط کام کبھی بھی اس وجہ سے قابل دفاع نہیں بن سکتا کیونکہ اس کا ارتکاب کسی معزز موقر و محترم شخصیت سے ہوا ہے ۔ بلکہ ہم نے بزرگوں سے يہ قائدہ سنا ہے کہ بعض اوقات عام لوگوں کے لئے نیکی کا درجہ رکھنے والا عمل بھی اکابر کے لئے گناہ کا درجہ رکھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا معاشرتی رویہ یہ بن چکا ہے کہ ہم بقول شخصے ہم اپنے ہر غلط کام پر وکیل اور دوسروں کے مشکوک کام پر بھی جج بن جاتے ہیں ۔ یہ رویہ صرف ذات تک محدود نہیں بلکہ اس نے طبقات ذندگی کو بھی اپنے احاطے میں لے ليا ہے ۔ سیاست و صحافت کے میدان میں اس قبائلی طرز عمل کی ہزاروں مثالیں ہم آئے روز دیکھتے ہیں لیکن سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ جس کا فريضہ اصلاح احوال، خیر اور شر میں تمیز واضح کرنا اور برائی کی غیر مشروط مذمت ہونا چاھئے تھا بھی اسی طرز عمل کا شکار ہو چکا ہے ۔ لاہور کے ایک بزرگ مدرس صاحب کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ایک طرف تو دین سے بیزار طبقات نے اس طرح اس کی تشہیر کی جیسے ہر مذہبی شخصیت کا خلوت میں ایسا ہی کردار ہوتا ہے تو دوسری طرف ان کی اس مہم کی ایک طرح سے معاونت ان مذہبی شخصیات نے کی جنہوں نے ان کے اس مذموم عمل پر پیش کی گئی ان کی ڈھونڈی وضاحت کو قبول کرتے ہوئے ان کا دفاع شروع کر دیا ۔ یہ ہی عمل اگر کسی غیر مذہبی فرد کا سامنے آتا تو کیا مذکورہ احباب اس طرح کا دفاع کبھی قبول کرتے ؟ ہرگز نہیں ۔ کیا اس دفاع کو قبول کرنے والوں نے ذرا سوچا کہ اگر نشہ آور چائے کے بہانے سے لواطت جرم و گناہ نہیں تو شراب کے نشہ کی مدہوشی میں زنا کی سنگینی بھی کم ہو جائے گی ؟ آج حضرت مدرس کے اس عذر کو قبول کرنے والے کہ وہ اس وقت ہوش و حواس میں نہیں تھے(لیکن 70 سال کی عمر میں ان کے اعضاء رئیسی اس مدہوشی میں بھی فعال تھے ) کیا کل کسی آفتہ مزاج نوجوان جوڑے کے اس عذر کو بھی قبول کر لیں گے کہ باہم عشق و محبت میں وہ ہوش و حواس سے بے گانہ ہو گئے تھے ؟ کاش حضرت مدرس اس وضاحتی ویڈیو کو ریکارڈ کروانے سے قبل اور اس کو عام کرنے والے کچھ دیر ٹھہر کر اس بے ہودہ وضاحت کے مضمرات پر غور کر لیتے۔ پھر ایک محترم مفتی صاحب کی ویڈیو جس میں ان کے آس پاس درجنوں علماء بیٹھے ہیں بھی میری نظر سے گزری جس میں نہ صرف وہ حضرت صاحب کا دفاع کر رہے ہیں بلکہ یہ فرما رہے ہیں کہ کیا صحابہ سے غلطیاں نہیں ہوئی تھی ۔ اندازہ کر ليں ۔ اسی طرح کی بات اگر کوئی سیکولر یا کسی دوسرے مسلک کا فرد کہتا تو اس کو گستاخ صحابہ قرار دیکر واجب القتل قرار دیا جا چکا ہوتا۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ حضرت صاحب کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وہ اس کی بھونڈی وضاحت نہ دیتے بلکہ اس پر اظہار ندامت اور اعلان توبہ کرتے اور ان کے شاگرد و متعلقین بھی اس ويڈيو میں نظر آنے والےعمل کہ غیر مشروط مذمت کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو مذہب بیزار طبقے کی طرف سے اس ویڈیو کی آڑ میں جو مذہب مخالف مہم چلائی گئی وہ چلنے سے پہلے ہی ناکام ہو جاتی لیکن اس گھناونی اور قابل نفرت ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد مذہبی طبقہ کی اکثریت کی خامشی اور کچھ کی طرف سے ان کے دفاع کی بدولت مذہب بیزار لوگوں کا کام آسان ہوگیا ۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مدارس کے فارغ التحصیل علماء کی اکثریت اس لیے اس عمل کی کھل کر مذمت نہیں کر رہی کیونکہ یہ مدارس میں نعوذ باللہ ایک معمول کی بات ہے ۔میری ایک دیرینہ رائے ہے کہ ہمارے معاشرے میں جتنا مذہب موجود ہے وہ بلاشبہ مذہبی طبقے کی وجہ سے ہی ہے لیکن مذہب سے بڑھتی ہوئی بے زاری اور دوری کے پیچھے بھی اس مذہبی طبقے کے دوہرے معیار اور قول و فعل میں تضاد کا بہت عمل دخل ہے ۔ اس واقعے کے بعد سامنے آنے والی صورت حال نے کم از کم میری اس رائے کو تو مزید پختہ کر دیا۔ یہ ایک واقعہ ہے لیکن یہ ہمارے مذہبی طبقے کے لئے ایک موقع بھی ہے خود احتسابی کا، اپنا تنقیدی جائزہ لینے کا ۔ کرونا وبا کے تجربات نے ہمیں اتنا تو سکھا دیا ہے کہ کسی بیماری کا انکار اس بیماری کی ہلاکت کو کم نہیں ذیادہ ہی کرتا ہے ۔ ہمارے مدارس اور ان میں پڑھانے والے مدرسین عام انسان ہی ہیں ۔ مدرسوں سے اس طرح کے واقعات گاہے بگاہے سامنے آتے رہتے ہیں جس کا واضح مطلب ہے کہ یہ بیماری موجود ہے۔ مسئلہ کا حل اس کا انکار نہیں اس کے وجود کو تسلیم کر کے اس کے تدارک اور روک تھام کے لئے موثر لائحہ عمل بنانے اور اس کو لاگو کر نے ميں ہے ۔ بہتر ہے کہ ہمارے مدارس کے منتظمین خود ہی اس پر لائحہ عمل بنا لیں اس سے قبل کہ جدید سوشل میڈیا کے اس دور ميں یہ ناسور ایسی شکل میں سامنے آنا شروع ہو جائے کہ مدارس اور مدرسین کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوجائے۔ حضرت مدرس تو نے تو اپنی مدہوشی کو اقرار کر لیا، کیا ہمارے مذہبی اکابرین بھی اس معاملے پر اجتماعی عالم مدہوشی کے تدارک کے لئے کچھ کریں گے یا ہر کوئی اپنے نشہ عمل میں ہی گرفتار رہے گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں