13

عازمین حج کی تعداد کا تعین!

40 / 100

لاکھوں فرزندانِ توحید گزشتہ برس کورونا کی عالمگیر وبا کے باعث حج پر نہ جا سکے تاہم اس سال سعودی حکومت کے اعلان کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر سے 60ہزار افراد کو حجاز مقدس جانے کی اجازت ہو گی۔ ان میں پاکستانی عازمین کی تعداد کتنی ہو گی، وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ علامہ طاہر محمود اشرفی کے مطابق اس بات کا فیصلہ سعودی حج انتظامیہ بعد میں کرے گی لیکن 60سال سے زیادہ اور 18سال سے کم عمر افراد ان میں شامل نہیں ہوں گے۔ حج پر جانے کی اجازت صرف ان لوگوں کو دی جائے گی جو کورونا سے بچائو کی مکمل ویکسی نیشن کرا چکے ہوں گے پھر بھی انہیں سعودی عرب پہنچنے کے بعد تین دن قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ عازمینِ حج کیلئے کورونا ویکسی نیشن کی شرط کے بعد پاکستانی وزارتِ خارجہ نے سعودی حکومت سے رابطہ کرکے چینی ویکسین بھی رجسٹرڈ کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا نے گزشتہ 18ماہ سے پوری دنیا کا نظام درہم برہم کر رکھا ہے۔ اس کے معاشی و سماجی اثرات تو ایک طرف اجتماعی عبادات اور مذہبی تہوار تک شدید متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث گزشتہ برس صرف سعودی عرب میں مقیم محض ایک ہزار افراد مناسکِ حج ادا کر سکے تھے۔ اس موقع پر وائرس سے بچنے کیلئے چہروں پر ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ قائم رکھنے کا سختی سے اہتمام کیا گیا تھا نیز نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے عازمین کی کلائیوں پر ڈیوائس لگائی گئی تھی جس کا التزام اس سال بھی یقینی ہے۔ تاہم کم ترین تعداد کے لحاظ سے گزشتہ برس کا حج تاریخ کا منفرد حج تھا جبکہ کورونا کی وبا سے پہلے 2019میں 25لاکھ اہلِ ایمان نے یہ فریضہ ادا کیا تھا۔ متذکر ہ اعلان کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان اپنی حج پالیسی وضع اور تمام ترجیحات کا تعین کرے گی۔ بہتر ہو گا کہ یہ کام جلد کیا جائے تاکہ عازمینِ حج کو تیاری کا حتیٰ الوسع زیادہ سے زیادہ موقع مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں