29

طوفان کے بعد کا منظر عامر خاکوانی

طوفان کے بعد کا منظر عامر خاکوانی
عمران خان کا طوفان کہیں ، سونامی یا کچھ اور،وہ گزر چکا ہے اور ن لیگ کی مصنوعی بنیاد پر استوار بظاہر خوش نما عمارت کے پرخچے بھی اڑا گیا۔ طوفان کے بعد کیا بچتا ہے؟تباہ شدہ ملبہ، دور دور تک بکھرا ساز وساماں،ٹکڑے ٹکڑے ہوئی چیزیں، مکینوںکے پریشان چہرے۔ یہی منظر آج پنجاب کا ہے۔ الیکشن گو بیس حلقوںمیں ہوا تھا، مگر اتفاق سے پنجاب کے تمام حصے (جنوبی، سنٹرل، اپر )اس میں شامل تھے۔ اس لئے یہ صرف بیس حلقے نہیں بلکہ بیس اضلاع کا نتیجہ ہے۔ لاہور جیسا اہم ترین شہر موجود ہے، پنڈی، ملتان، فیصل آباد، ساہی وال ، ڈی جی خان سے لے کر لیہ، بھکر، مظفر گڑھ، جھنگ ،خوشاب وغیرہ وغیرہ۔ یہ الیکشن پرو عمران اور اینٹی عمران بنیاد پر لڑے گئے۔ ایک طرف عمران خان اور ان کے حامی تھے ، دوسری جانب تیرہ جماعتی سیاسی اتحاد۔ ، جسے انتظامیہ اور سرکاری مشینری کی مکمل حمایت حاصل تھی، کسی حد تک الیکشن کمیشن کی ہمدردی بھی اسی سائیڈ پر جھلک رہی تھی۔حتیٰ کہ جو دو سیاسی جماعتیں اس اتحاد کا حصہ نہیں تھیں، جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی ، وہ بھی الیکشن میں کھڑی تھیں۔ یعنی عمران خان کے امیدواروں کو انہیں بھی ہرانا تھا۔ عمران خان بمقابلہ آل (Imran V All)کی یہ مساوات تھی۔ اس میں عمران خان کو شاندار کامیابی ملی ۔تکنیکی طور پر اس کی ابھی شائد پندرہ نشستیں ہیں، مگر پنڈی والی سیٹ بھی ان کی بنتی ہے۔ عمران خان نے اسی فیصد (80%)نشستیں جیتی ہیں، یہ دو تہائی اکثریت سے بھی خاصا آگے کی بات ہے۔ ان انتخابات نے ثابت کیا کہ پنجاب میں پرو عمران خان ووٹ بینک اینٹی عمران ووٹ سے زیادہ بڑا ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے جس پر زیادہ بات نہیں ہو رہی کہ بیشتر جگہوں پرن لیگی امیدوار زیادہ مضبوط اور تگڑے تھے ، انہیں علاقائی دھڑوں اور برادریوں کی سپورٹ حاصل تھی ۔ ان میں سے بہت سے اپنے حلقے کے نمبر ون امیدوار تھے ۔ ایسا نہیں کہ امیدوار کمزور تھے اور اسی وجہ سے ن کو نقصان پہنچا۔ ایک آدھ جگہ پر جیسے خوشاب میں ایسا ہوگیا ہوگا، باقی کئی حلقوں میں یہ مثالی(Dream) امیدوار تھے اور ن لیگ کو اگر آزادانہ چوائس ملتی تب بھی انہیں ہی منتخب کیا جاتا۔ جیسے بہاولنگر میں فداحسین کالوکا نے ن لیگ سے ٹکٹ لیا۔اس حلقے کا نمبرون امیدوار یہی بنتا ہے۔ اسی طرح بھکر سے نوانی ہیں۔ سعید اکبر نوانی سے زیادہ مضبوط امیدوار ن لیگ کو کیسے مل سکتا تھا؟ساہی وال میں نعمان لنگڑیال بہت مضبوط اور تگڑا امیدوار تھا، ن لیگ کی فرسٹ چوائس ہی یہی ہوتی۔وہاں پی ٹی آئی کے امیدوار شریف آدمی ہیں، ماضی میں جماعت سے بھی لڑ چکے، مگر وہ کسی بھی اعتبار سے مضبوط امیدوار نہیں تھے، انہیں عمران خان فیکٹر نے جتوایا۔ مظفر گڑھ سے دونوں امیدوار منحرف ارکان اسمبلی تھے، ن لیگ نے ٹکٹ دئیے، لیکن اگر ن لیگ کو آزادانہ چوائس کرنا پڑتا تو یہی سلیکشن ہوتی۔ باسط سلطان ہار گیا، مگر اس کا دھڑا مضبوط ہے ،اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں، جبکہ دوسرے حلقے سے سبطین رضابخاری تو ن کو سیٹ جتوا بھی گیا۔ لاہور میں ن لیگ نے اسد کھوکھر والی سیٹ جیتی ہے۔ ان کا امیدوار یہی بنتا تھا۔ اگر اسد کھوکھر کو نہ دیتے تو اور کسے دیتے ؟گڑھی شاہو کی سیٹ پر ن لیگ نے اپنے رنر اپ امیدوار کو ہی ٹکٹ دی مگر وہ نسبتاً ناتجربہ کار انصافین امیدوار سے ہار گیا۔ لاہور میں البتہ چودھری امین اور نذیر چوہان نسبتاً کمزور امیدوار تھے، مگریہاں جو بھی ن لیگی امیدوار ہوتا، یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ جھنگ میں تو ن لیگ سرے سے عام انتخابات میں تھی ہی نہیں۔ پہلے پانچ امیدواروں میں بھی شائد نہیں تھی۔ وہاں تو انہیں منحرف اراکین اسمبلی کی صورت میں امیدوار مل گئے، اگرچہ وہ عمران خان کے طوفان آگے نہ ٹک سکے۔ شیخوپورہ کو ن لیگ اپنا گڑھ سمجھتی ہے، وہاں منحرف رکن اسمبلی مضبوط امیدوار تھا جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار نے تو پہلی بار الیکشن لڑا ، مگر وہ میدان مار گیا۔ ڈی جی خان میں امجد فاروق کھوسہ کا بیٹا ن لیگ سے امیدوار تھا، ان کا اثرورسوخ ہے، لغاریوں کی سپورٹ بھی شامل تھی، اویس لغاری نے مستعفی ہو کر کمپین چلائی ، سابق رکن اسمبلی محسن عطا کھوسہ بھی ان کے ساتھ تھا، مگر تحریک انصاف کے نوجوانوں نے سب کچھ الٹ دیا۔ ملتان میں سلمان نعیم سے بہتر امیدوار ن لیگ کو کہاں سے مل سکتا تھا؟ اگر عمران خان کا طوفان نہ ہوتا تو سلمان نعیم یقینی طور پر پھر سیٹ جیت جاتا۔ اس پوری تفصیل کا مقصد یہ بتانا تھا کہ شکست کی ذمہ داری امیدواروں پر ڈالنا غلط ہوگا۔ یہ کہنا کہ مقامی ن لیگی کارکنوں نے ان امیدواروں کو تسلیم نہیں کیا، یہ مکمل سچ نہیں۔ن لیگ کے امیدوار الیکٹ ایبل نہیں تھے کہ ووٹ ان کا شخصی ہوتا، ووٹ مسلم لیگ ن کا ہی تھا۔ ن لیگ نے بھرپور مہم چلائی، مریم نواز نے جگہ جگہ جلسے کئے، ہر حلقے میں وہ گئیں اور ہر جگہ اچھے بڑے جلسے کئے۔میرا نہیں خیال کہ شہباز شریف یا حمزہ شہباز ان سے بہتر یا بڑے جلسے کر پاتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مریم کے جلسوں نے ن لیگی کارکنوں اور ووٹرز کو چارج کر دیا تھا۔ وہ اپنے امیدوار کے ساتھ جڑ گئے تھے۔ الیکشن ڈے سے کئی دن پہلے ہی حمزہ شہبازاور ن لیگی مرکزی قیادت نے کوشش کر کے اپنے ناراض اراکین اسمبلی کومنا لیا تھا، انہیں اکاموڈیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور یہ سمجھایا کہ اگر الیکشن ہارے تو پنجاب حکومت جائے گی اور وفاق بھی ، یوں کچھ نہیں بچے گا ۔ اس پر لودھراں میں وفاقی وزیر عبدالرحمن کانجو متحرک ہوئے اور پورا زور لگایا مگر ناکام رہے۔ اسی طرح فیصل آباد میں ناراض لوگ راضی ہو کر کمپین چلاتے رہے، یہی جھنگ وغیرہ میں بھی ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ن لیگی امیدوار برے نہیں تھے، کئی حلقوں میں وہ بہت مضبوط اور تگڑے تھے۔، زمینی حقائق کے مطابق انہیں تحریک انصاف پر برتری بھی تھی، یہ تو عمران خان فیکٹر نے الیکشن ڈے پر سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ویسے ان منحرف اراکین اسمبلی کی وجہ سے ہونے والے ردعمل کی وجہ سے ایک آدھ سیٹ جیسے خوشاب میں ن لیگ ہاری تو بہاولنگر،علی پور اورلاہور سے بیٹھے بٹھائے تین سیٹیں جیت بھی لیں۔ الیکشن میں اصل فرق عمران خان کا بیانیہ کا تھا۔ ن لیگ اور اس کی مہم بری نہیں تھی، مگر فرق یہ پڑا کہ عمران خان کا ووٹ بینک بڑھا۔ عوام نے اس کے بیانیہ کو پزیرائی بخشی۔ امپورٹڈ گورنمنٹ اور امریکہ وغیرہ کے حوالے سے بیانیہ عوام نے پسند اور قبول کیا۔ لوگوں کو یہ نظر آ رہا تھا کہ پوری سرکاری مشینری، انتظامیہ اور تمام سیاسی جماعتیں اس ایک شخص کے خلاف اکھٹی ہوگئی ہیں۔ انہیں لگا کہ عمران خان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور اس کا بیانیہ درست اوروطن پرستی پر مبنی ہے۔ اسی نے فرق ڈالا۔ ایک کمزور دلیل تو یہ دی جا رہی ہے کہ بیس سیٹیں پی ٹی آئی کی تو تھیں، اس نے واپس جیت لیں تو اس میں ن لیگ کی ہار کیسی؟یہ بچکانہ دلیل ہے۔ پہلی بات ہے کہ یہ حلقے مریخ میں تو واقع نہیں تھے، یہاں پرن لیگ نے بھی پچھلا الیکشن لڑا تھا ، رنر اپ رہے تھے ۔ ن لیگ کے مطابق پنجاب کی اصل قوت وہ ہے اورعام انتخابات میں دھاندلی سے تحریک انصاف کو سیٹیںملیں۔ یعنی اس اعتبار سے یہ بیس سیٹیں بھی دراصل ن لیگ کی ہی تھیں جو عام انتخابات میں دھاندلی اور انجینئرنگ کی وجہ سے عمران خان کو ملیں۔ویسے پی ٹی آئی کی تو دس نشستیں تھیں، باقی دس تو آزاد امیدوار تھے۔ دوسرا جب ن لیگ نے بھرپور مہم چلائی، مریم نواز کو میدان میں اتارا گیا، جگہ جگہ جلسے کئے ، انتظامیہ کی مدد سے مقامی سطح پر بہت سے کام کئے گئے، پیسہ بانٹا گیا وغیرہ وغیرہ۔ تب تو یہ مقابلہ الیکشن سے پہلے برابر اور منصفانہ ہوگیا تھا۔ ن لیگ کا دعویٰ ہے کہ الیکشن ڈے مینجمنٹ اور جوڑتوڑ اس پر ختم ہیں۔ مہنگائی ضرور ہوئی مگر پٹرول ڈیزل کی قیمتیں الیکشن سے پہلے کچھ کم بھی کی گئیں۔ یہ سب مگر کافی نہیں تھا۔ عمران خان فیکٹر ان تمام پر بھاری اور بڑا ثابت ہوا۔ ان انتخابات میں ٹی ایل پی فیکٹر اہم ثابت نہیں ہوا۔ تحریک انصاف نے ساڑھے دس لاکھ ووٹ لئے، ن لیگ کو آٹھ لاکھ سے کچھ زیادہ ووٹ جبکہ ٹی ایل پی (لبیک)نے سوالاکھ ووٹ بمشکل لئے، جماعت اسلامی کی کارکردگی بہت ہی مایوس کن رہی اور چند ہزارووٹ ملے ۔مذہبی ووٹ اس الیکشن میں مارجنلائز ہوگیا ہے۔ الیکشن نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ عام انتخابات میںبھی تحریک انصاف نے ووٹ لئے تھے، تب ن لیگ کے دھاندلی کے الزامات فضول اور بیکار تھے ۔ اسی طرح یہ کہ عمران اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتا۔ ان انتخابات نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے بل بوتے پر سب کو ہرا سکتا ہے۔ تیسری تھیوری یہ غلط ہوئی کہ اگر اینٹی عمران ووٹرز اکھٹے ہوجائیں تو تحریک انصاف کو چت کیا جا سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہوا۔ عمران خان نے بڑی فتح حاصل کی ہے، مگر اس کے سامنے ابھی بڑے چیلنج باقی ہیں۔ پنجاب حکومت بنانا اور پھر عام انتخابات کے لئے دبائو ڈالنا۔ اصولی طور پر تو اب الیکشن کا اعلان ہوجانا چاہیے۔ اکتوبر میں ہونے والے بڑے فیصلے وہی حکومت اور وزیراعظم کرے جس کے پاس فریش عوامی مینڈیٹ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں