مرد مظلوم ہے یا عورت - عامر خاکوانی سوشل میڈیا پر جو مردوں عورتوں کی ظالم، مظلومیت والی بحث چل رہی ہے، اس میں نہیں الجھنا چاہ رہا تھا، مگر پھر سوچا کہ اپنی رائے بیان کر دوں۔ آج سارا دن ہی سیاسی پوسٹیں چلتی رہی ہیں تو ایک غیر سیاسی پوسٹ ہی سہی۔ میرا خیال ہے کہ خواتین خاص کر فیمنسٹ حلقے ایک غلطی کرتے ہیں جسے جوابی طور پر مرد حضرات خاص کر اینٹی فیمنسٹ بھی دہراتے ہیں۔ 42

طالبان کے حوالے سے مغالطے. عامر خاکوانی

60 / 100

افغان طالبان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیشہ یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ان کے حوالے سے فکری مغالطے موجود ہیں۔عام آدمی کی بے خبری توچلیں فطری ہے، اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ اور اکثر اخبارنویس بھی برسوں سے غلط تصورات کو اپنے ذہن میں سجائے گھوم رہے ہیں۔ افغان طالبان کی افغانستان میں حالیہ یلغار اور کامیابیوں کے تناظر میںان چند نکات کی تفہیم اور انہیں اچھی طرح سے سمجھنا بڑا ضروری ہے۔ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان میں فرق سب سے بڑی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کو ایک سمجھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان الگ ہیں اور نام نہاد پاکستانی طالبان یعنی ٹی ٹی پی بالکل الگ ایجنڈے، سٹرکچر اور قیادت رکھنے والا گروپ تھا۔ طالبان کی اصطلاح مدرسوں کے طلبہ کے حوالے سے آئی۔ افغانستان میں جب ایک دینی مدرسے کے استاد ملا عمر نے اپنے کچھ طلبہ کے ساتھ مل کر مقامی بدمعاش وارلارڈ کے خلاف آواز بلند کی اور حملہ کر کے اسے ختم کیا اور پھر دیگر طلبہ اور نوجوان ساتھ ملتے گئے اور یوں طالبان تحریک شروع ہوئی۔ یہ 1996اور اس کے بعد کا دور ہے۔ تب انہیں طالبان کہا گیا اور افغانستان کی حکومت پر قبضہ کر لینے کے بعد اسے طالبان حکومت کہا گیا۔ نائن الیون کے بعد(نومبر 2001) امریکی فوج کی نیٹو دستوں کے ہمراہ افغانستان پر فوج کشی تک طالبان حکومت قائم رہی۔ پچھلے اٹھارہ انیس برسوں سے افغان طالبان افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی قابض افواج کے خلاف جنگ ہی لڑ رہے تھے۔ملا عمرطالبان کے قائد تھے، 2013میں ان کے انتقال کے بعد ملا اختر منصور کو امیر بنایا گیا۔ جب وہ امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے تو موجودہ امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ امیر بنائے گئے۔طالبان کا پچھلے دو عشروں میں ون پوائنٹ ایجنڈا رہا ہے کہ افغانستان کو قابض افواج سے نجات دلائی جائے ۔ پاکستان نے امریکی دبائو کے تحت امریکہ کوافغانستان میں طالبان کے خلاف فضائی حملے کرنے کے لئے اڈے دئیے، نیٹو فورسز کو لاجسٹک سپورٹ دی، ان کے کنٹینرز یہاں سے گزر کر افغانستان جاتے رہے۔ اس سب کے باوجود افغان طالبان نے کبھی پاکستانی حکومت اور پاکستانیوں کو مطعون نہیں کیا اور نہ کبھی ان کے کسی کمانڈر یا جنگجو نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائی کی۔ یہ حقائق ہیں، کوئی انہیں جھٹلانے کی کوشش نہیں کر سکتا۔ طالبان کا یہ رویہ اس وجہ سے بھی تھا کہ پاکستان نے بددلی سے امریکہ کا ساتھ دیا اور ان پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ امریکیوں کے ساتھ ڈبل گیم کی۔ پاکستان نے طالبان کو ختم کرنے کی امریکی کوششوں کا ساتھ نہیں دیا۔ امریکی جرنیل اور نیٹو کمانڈر دس سال تک پاکستان پر دبائو ڈالتے رہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں طالبان کے سب سے اہم عسکری گروپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کریں، بلوچستان میں طالبان کمانڈروں کے خلاف کارروائی کریں، جنہیں امریکی کوئٹہ شوریٰ کہہ کر پکارتے تھے۔ یہ ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی اور نہ ہی کوئٹہ شوریٰ کو کچھ کہا۔طالبان کی پاکستان نے کتنی مدد کی ،اس حوالے سے بہت کچھ ہوا ہوگا، مگر ظاہر ہے اس طرح کے کاموں کا کریڈٹ نہیں لیا جاتا اور نہ ہی اعتراف کیا جاتا ہے۔ جن کا خیال ہے کہ پشاور سکول حملے میں افغان طالبان شامل تھے، انہیں اپنی یہ خوفناک غلط فہمی فوری دور کر لینی چاہیے۔ اس کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں، پشاور پولیس کے کسی سینئر افسر کو فون کر کے پتہ کیا جا سکتا ہے کہ حملہ آور کون تھے۔ گیدڑ گروپ یا منصور نرائے وغیرہ کے بارے میں پشاور کے صحافی بھی سب کچھ جانتے ہیں۔سکول حملے کا ماسٹر مائنڈ منصور نرائے اپنے انجام کو پہنچ چکا ۔براہ کرم افغان طالبان پر پشاور سکول حملے کا بہیمانہ الزام نہ لگائیں، یہ بات تو امریکی حکام اور میڈیا نے بھی نہیں کہی۔ ٹی ٹی پی کے بانی بیت اللہ محسود تھے، ان کا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہ گروپ بنیادی طور پر قبائلی علاقوں میں مقیم القاعدہ ارکان کی حمایت میں بنا اور اس کے مقاصد میں مالی مفادات بھی شامل تھے۔ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد مقامی قبائلی ردعمل سے اسے تقویت ملی۔ جنرل پرویز مشرف نے کشمیری جہادی تنظیموں کو بین کیا، ان کے خلاف کریک ڈائون کیا تو ان میں سے بعض تنظیموں کے سپلنٹر گروپ بھی ٹوٹ کو ٹی ٹی پی کا حصہ بنے، سوات آپریشن کے بعد ملا فضل اللہ گروپ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔لال مسجد آپریشن کے بعد ٹی ٹی پی کو زیادہ قوت ملی جب ناراض جہادی عناصر کی خاصی تعداد پنجابی طالبان کے نام پر ان کا حصہ بنی، جن میں الیاس کشمیری جیسا تجربہ کار بڑا کمانڈر بھی شامل تھا۔ ٹی ٹی پی نے اپنے نام کے ساتھ طالبان کا لفظ لگایا تاکہ وہ پاکستان میں موجود طالبان حامیوں کی سپورٹ لے سکیں اور اس کے ساتھ اینٹی امریکہ ہونے کا دعویٰ بھی کر سکیں۔ ٹی ٹی پی کا اپنا سٹرکچر تھا، اس کاسربراہ (امیر) بھی بیت اللہ محسود تھا ، اس کا ایجنڈا صرف پاکستانی فوج اور ریاست کو نشانہ بنانا تھا کیونکہ یہ القاعدہ کے خلاف آپریشن کر رہے تھے۔ ٹی ٹی پی نے کبھی کبھار کہنے کی حد تک ملا عمر کی تعریف کی ، مگر عملی طور پر وہ ہمیشہ الگ رہے یا یہ کہہ لیں کہ افغان طالبان نے ان کے منفی اور پاکستان مخالف ایجنڈے کی بنا پرانہیں ساتھ نہیں ملایا۔بعد میں بیت اللہ محسود کی جگہ حکیم اللہ محسود نے لی مگر اس کا رویہ بھی منفی اور قابل مذمت رہا۔ ٹی ٹی پی اگر واقعی طالبان ہوتی تو اسے افغان طالبان کے ساتھ جا کر وہاں نیٹو فورسز کے خلاف لڑنا چاہیے تھا،جو افغان طالبان کا نمبر ون ایجنڈا رہا ہے۔ الٹا انہوں نے پاکستان کے خلاف محاذ کھول کرافغان طالبان کی سپلائی لائن متاثر کی اور ان کی جدوجہد کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔ بیت اللہ محسود کے قریبی علاقے سے ملا وزیر اور حافظ گل بہادر گروپوں کے لوگ افغان طالبان کا عملی ساتھ دینے جاتے رہے۔ بیت اللہ محسود اور ٹی ٹی پی سفاکانہ بے حسی سے یہ سب دیکھتی رہی اور اپنے مذموم ایجنڈے کے لئے سرگرم رہی۔ ایک زمانے میں ملا عمر کے طالبان کا ساتھ دینے والے کرنل امام جب خالد خواجہ کے ساتھ وزیرستان گئے تو حکیم اللہ محسود نے انہیں یرغمال بنا لیا اور بعد میں قتل کر دیا۔ وجہ یہی تھی کہ کرنل امام جن کا ملا عمر بہت احترام کرتے تھے، ان کے لئے ٹی ٹی پی کے کریمنل گینگ میں کوئی عزت یا قدر نہیں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ملا عمر کا ایک پیغام بھی حکیم اللہ محسود تک پہنچایا گیا جس میں کرنل امام کی رہائی کی درخواست کی گئی ، ٹی ٹی پی کے امیر نے حیلے بہانے سے اس پر عمل نہ کیا اور یوں کرنل امام مع خالد خواجہ بے دردی سے قتل کر دئیے گئے۔ اگرواقعتاً ٹی ٹی پی افغان طالبان کا حصہ ہوتی تو یہ کبھی نہیں ہونا تھا۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے فرق کو سمجھنے کا سب سے آسان طریقہ پاکستان کا ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا طرز عمل ہے۔ ابتدا میں ملا ضعیف کی امریکہ کو حوالگی کے افسوسناک واقعے کے علاوہ بعد کے برسوںمیں کسی بھی طالبان کمانڈر کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ جب ملا عمر کے نائب ملا برادر ایک اتفاقی آپریشن میں گرفتار ہوگئے اور سی آئی اے نے انہیں اپنی تحویل میں لینے کی بھرپور کوشش کی تو یہ ناکام بنا دی گئی۔ پاکستان میں ملا برادر کئی سال تک اداروں کی تحویل میں رہے، وہ ممکن ہے اس نظربندی یا قید پر ناخوش بھی ہوں، مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے تمام تر مطالبے کے باوجود ملا برادر کو امریکیوں کے حوالے نہیں کیا۔انہی برسوں میں البتہ القاعدہ کے متعدد کمانڈر امریکہ کے حوالے کئے گئے، جن میں خالد شیخ محمد سے ابو زبیدہ اور پھر بہت سے دیگر شامل ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں جو حوالہ دیا، وہ ان القاعدہ کمانڈروں کی طرف تھا، ورنہ پاکستان نے امریکہ کی شدید خواہش کے باوجود کسی بھی اہم، غیر اہم طالبان کمانڈر کوپکڑ کر انہیں نہیں دیا۔ اس کے برعکس ٹی ٹی پی کے خلاف مسلسل آپریشن چلتا رہا، حتیٰ کہ بعد میں شمالی اور پھر جنوبی وزیرستان آپریشن کے بعد ان کی محفوظ پناہ گاہیں بھی ختم کر دی گئیں۔ ہمارے ہاں یار لوگوں نے گڈ طالبان، بیڈ طالبان کی اصطلاح کو مذاق بنا دیا، حالانکہ بات سمجھنا بالکل آسان تھی۔افغان طالبان نے پاکستانی ریاست کونشانہ نہیںبنایا،امریکی اتحادی ہونے کے باوجودہمارے خلاف کارروائی نہیںکی۔ بدلے میں پاکستان نے بھی ان کی کچھ سرگرمیوں سے آنکھ بند کئے رکھی، انہیں ڈھکی چھپی سپورٹ دی۔ یہ گڈ طالبان تھے۔ ٹی ٹی پی جو طالبان کا صرف نام استعمال کرتے تھے، انہوں نے پاکستانی ریاست اور اداروں کو نشانہ بنایا، نہتے عوام کو حملوں میں ہلاک کیا، پاکستان دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت پہنچائی۔ جواب میں پاکستانی اداروں نے بھی انہیں نشانہ بنایا اور آخر کارآپریشن ضرب عضب وغیرہ کے بعد ان کا صفایا کر ڈالا۔ یہ بیڈ طالبان تھے۔درحقیقت ٹی ٹی پی کے لوگ طالبان تھے ہی نہیں، مگر چونکہ نام کے ساتھ لگایا ہوا، اس لئے انہیں طالبان مگر بیڈ طالبان کہا جاتا رہا۔ (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں