61

طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ، انخلاء کا عمل سست کرسکتے ہیں، امریکا

3 / 100

کراچی، قندوز (نیوز ڈیسک، اے ایف پی ) امریکا کی فوج کا کہنا ہے کہ طالبان کی حالیہ دنوں میں جنگی کامیابیوں کے پیش نظر افغانستان سے جاری غیر ملکی افواج کے انخلاء کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔

امریکا کی وزارتِ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء کی آخری تاریخ گیارہ ستمبر ہی رہے گی لیکن فوجیوں کی واپسی کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔

امریکا کی وزارتِ دفاع کے حکام نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ نصف انخلاء ہو چکا ہے۔جبکہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی سربراہ نے امریکا اور اتحادی افواج کے انخلا کے دوران طالبان کی جانب سے عسکری کامیابیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب طالبان نے افغانستان اور تاجکستان کی مرکزی سرحدی راہداری پر قبضہ کرلیا ہے ، افغان سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹیں خالی کردی ہیں جبکہ کچھ اہلکار سرحد پار فرار ہوگئے ۔

شیر خان بندر کے علاقے پر قبضہ مئی میں امریکی افواج کے حتمی انخلاء کے آغاز کے بعد سے یہ طالبان کی سب سے بڑی کامیابی ہے جبکہ کابل حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، شیر خان بندر کا علاقہ قندوز شہر سے صرف 50 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ۔

قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن خالد دین حاکمی نے بتایا کہ منگل کی صبح ڈیڑھ گھنٹے کی لڑائی کے بعد بدقسمتی سے طالبان نے شیر خان پورٹ، علاقے اور تاجکستان سے ملحقہ تمام چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ افغان فوج کے ایک آرمی افسر نے بتایا کہ ہمیں تمام چیک پوسٹیں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا جبکہ ہمارے کچھ اہلکار سرحد پار کرکے تاجکستان چلے گئے۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ طالبان کے سیکڑوں جنگجو ہر جگہ موجود تھے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے جنگجوئوں نے سرحدی چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مجاہدین نے شیر خان بندر اور تاجکستان سے ملحقہ تمام چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ قبل ازیں امریکا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صورت حال بدل رہی ہے کیونکہ طالبان ضلعی مراکز پر حملے کر رہے ہیں اور تشدد جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انخلاء کی رفتار کو تبدیل کرنے کی ضرورت پڑے یا فوج کو کسی ہفتے یا دن واپس نکالنے کو روکنا پڑے تو اس میں وہ لچک رکھنا چاہتے ہیں۔

ʼہم مستقل اور روزانہ کی بنیاد پر اس چیز کا جائزہ لے رہے ہیں کہ زمینی صورت حال کیا ہے، ہمیں کیا درکار ہو سکتا ہے اور ملک سے نکلنے کے لیے ہمیں کیا اضافی وسائل درکار ہو سکتے ہیں اور اس کی رفتار کیا ہونی چاہیے۔ʼ انہوں نے کہا کہ یہ سب اہم فیصلے وقت کے وقت کیے جا رہے ہیں۔ امریکانے اکتوبر سنہ 2001 میں طالبان کو اقتدار سے علیحدہ کر دیا تھا۔

طالبان القاعدہ تنظیم کے رہنما اسامہ بن لادن اور دیگر سرکردہ ارکان کو پناہ دیئے ہوئے تھے۔ افغانستان سے نیٹو اور امریکی فوج کا جب سے انخلاء شروع ہوا ہے اس وقت سے ملک میں تشدد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور انہوں نے ملک کے50 اضلاع پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان نے سرکاری فوج سے بھاری مقدار میں اسلحہ بارود چھین لینے کے علاوہ بڑی تعداد میں افغان فوجیوں کو ہلاک اور زخمی بھی کیا ہے۔ افغانستان کی حکومت کے ترجمان ان خبروں کی تردید کرتے ہیں کہ طالبان نے درجنوں اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان اضلاع کو ایک جنگی حکمت عملی کے تحت خالی کر دیا گیا ہے اور یہ واضح نہیں کہ طالبان کو کتنا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ طالبان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے شمالی صوبے قندوز کے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا اور صرف صوبائی دارالحکومت پر سرکاری فوج کا قبضہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں