38

طالبان مذاکرات خیبرپختونخوا حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا

طالبان مذاکرات خیبرپختونخوا حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا
پشاور(نمائندہ نیوز )خیبر پختونخوا کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ۔کابینہ کے اجلاس میں وزراء نے تحریک طالبان سے مذاکرات پر اعتماد میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے طالبان کی صوبے کے مختلف علاقوں موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ۔ بعض وزاراء نےجذباتی انداز میں کہا کہ سارا معاملہ خیبرپختونخوا سے متعلق ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت کو نہ تو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے اعتماد میں لیا گیا ہے۔وزاراء نے کہا کہ اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات نہیں بلکہ معاہدہ بھی طے ہوچکا ہے لیکن صوبائی حکومت کو اندھیرے میں رکھا جارہا ہے ۔۔وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی مکمل حمایت کی ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی ۔کابینہ کا اجلاس منگل کے روزسول سیکرٹریٹ پشاور میں وزیر اعلی محمود خان کی سربراہی میں منعقد ہوا۔سوات سمیت مختلف علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مسلح جنگجوؤں کی آمد اور سرگرمیوں کے حوالے سے صوبائی وزیر خوراک و کھیل عاطف خان نے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے اور اس امر کی ضرورت ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے کے دیگر نکات کو ایک طرف رکھ کر صرف اس ایک نکتہ پر بات کی جائے کیونکہ امن ہوگا تو ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا ورنہ حکومت جتنے بھی ترقیاتی منصوبے بنائے یا ان منصوبوں پر جتنے بھی وسائل خرچ کئے جائیں یہ سارے وسائل، کاوشیں اور محنت بیکار چلی جائے گی۔ کابینہ کو یہ بتایا جائے کہ کس طرح کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مسلح افراد نہ صرف سرحد پار کرکے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے بلکہ با جوڑ اور دیر سے ہوتے ہوئے طویل مسافت طے کرکے سوات تک آن پہنچے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ خیبرکابینہ کے اس اجلاس میں موجود دیگر محکموں کے سیکرٹری اور حکام باہر چلے جائیں تاکہ چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کابینہ کو بریف کرسکیںتاکہ معلوم ہوسکے کہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی موجودگی میں کس طرح کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے یہ مسلح جنگجو سوات تک پہنچ سکے۔ انہوں نے سوات کے جنگجوؤں کے ہاتھوں سیکورٹی اہلکاروں کے اغواء اور اس کے بعد سامنےآنے والی آڈیوز اور ویڈیوز پر تشویش کا اظہار کیا ۔اس موقع پر دیگر وزراء نے بھی ان کا ساتھ دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کے ساتھ کچھ عرصہ سے مذاکرات ہو رہے ہیں جس کے بارے بعض حلقے ا یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات صرف دکھانے کے لئے ہیں جبکہ درپردہ سارے معاملات طے پا چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سارا معاملہ خیبرپختونخوا سے متعلق ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت کو نہ تو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے اعتماد میں لیا گیا ہے۔اس موقع پر اجلاس میں موجود انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے ضلع سوات کے علاقہ مٹہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مسلح جنگجوؤں کی موجودگی، تعداد اور سرگرمی کے حوالے سے کابینہ کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ متعلقہ پولیس اور علاقے کے لوگ بروقت سرحد پار سے ٹی ٹی پی کے لوگوں کی آمد کی اطلاع نہ مل سکی لیکن انھوں نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی کے لوگ سڑکوں کے ذریعے نہیں بلکہ پہاڑوں کے راستے سوات میں داخل ہوئے ۔ تاہم کابینہ کے ارکان اور وہاں موجود اعلی سرکاری حکام کو اس وقت حیرت و استعجاب کا شدید دھچکا لگا جب اجلاس میں موجود وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے ٹی ٹی پی کے جنگجوئوں کی آمد اور سرگرمیوں سے متعلق سینیئر صوبائی وزیر اور دیگر کے خدشات یکسر مسترد کرتے ہوئے بھرپور انداز میں دفاع کیا۔بیرسٹر محمد علی سیف جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے جرگہ کے اہم رکن ہیں اور افغانستان میں برسراقتدار طالبان کی امارت اسلامی افغانستان کی ثالثی سےکابل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار کرچکے ہیں۔وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف نے پہلی مرتبہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تفصیل صوبائی کابینہ کو بتائی اور کہا کہ سوات وغیرہ کے واقعات انفرادی نوعیت کے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں