126

طالبان روس سے پیٹرول کی خریداری کے معاہدے سے قریب تر

طالبان روس سے پیٹرول کی خریداری کے معاہدے سے قریب تر
افغانستان کی وزارت تجارت کے حکام کا کہنا ہے کہ طالبان انتظامیہ روس کے ساتھ پٹرول اور بینزین کی خریداری کے لیے ماسکو میں بات چیت کر رہی ہے اور معاہدے کی شرائط پر بات چیت آخری مراحل میں ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق افغانستان کی وزارت صنعت وتجارت کے ترجمان حبیب الرحمان حبیب نے تصدیق کی کہ وزارت تجارت کی سربراہی میں ایک سرکاری وفد روسی دارالحکومت ماسکو میں موجود ہے اور گندم، گیس اور تیل کی فراہمی کے معاہدوں کو حتمی شکل دے رہا ہے۔انہوں نے بتایا، “وہ روسی فریق کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں اور معاہدہ مکمل ہوجانے کے بعد اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔”
روس جلد ہی افغانستان کو امداد فراہم کرے گاوزارت صنعت و تجارت کے ذرائع نے بتایا کہ ایک وزارتی وفد نے اس ماہ روس کا دورہ کیا تھا لیکن وفد کی واپسی کے بعد بھی ان کی وزارت اور وزارت خزانہ کے تکنیکی عہدیدار معاہدوں پر کام کرنے کے لیے ماسکو میں رک گئے تھے۔انہوں نے بتایا، “ہم معاہدے کے متن پر کام کر رہے ہیں۔ پیٹرول اور بینزین پر ہم تقریباً متفق ہوچکے ہیں اور توقع ہے کہ معاہدہ جلد ہی تکمیل کو پہنچ جائے گا۔”
روسی وزارت خارجہ اور وزارت توانائی کے ترجمانوں نے اس پیش رفت پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
معاہدہ اہم کیوں ہے؟
خیال رہے کہ کارگزار وزیر تجارت کی قیادت میں طالبان کے ایک وفد نے تجارتی امور پر بات چیت کے لیے رواں ماہ کے وسط میں ماسکو کا دورہ کیا تھا۔
امریکی اور غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلاء اور ملک پر طالبان کے کنٹرول کرلینے کے ایک برس سے زیادہ گزر جانے کے باوجود کسی بھی بین الاقوامی حکومت نے طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، ایسے میں اگر روس کے ساتھ یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ اس بات کی علامت سمجھا جائے گا کہ بیرون ممالک طالبان کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے تیزی سے آگے آرہے ہیں۔
یہ معاہدہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ دیگر ملکوں کو روسی تیل پر انحصارکم کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ تاکہ اس کے بقول ماسکو تیل سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال یوکرین کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے نہ کرسکے۔
خیال رہے کہ روس اور طالبان کی زیر قیادت افغانستان، دونوں کو امریکا سمیت بین الاقوامی حکومتوں کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئلے کی تجارت جاری
روس سمیت کوئی بھی غیر ملکی حکومت طالبان انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتی ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے افغانستان کے بینک بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بیشتر عالمی بینک افغان بینکوں کے ساتھ لین دین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سرکاری ذرائع نے کہا کہ ادائیگیوں کے لیے ان کے پاس منصوبہ موجود ہے تاہم اس کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا اس کے لیے سرکاری بینکنگ چینلز استعمال کیے جائیں گے یا نہیں۔
واشنگٹن نے افغانستان کو امدادی رقوم منتقل کرنے کی اجازت دے دی
افغانستان کے مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں، بینکنگ سیکٹر پر پابندیوں اور بیرون ممالک کی جانب سے باضابطہ طور پر تسلیم نہ کیے جانے کے باوجود چند ممالک افغانستان کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں جس سے اسے ملکی اقتصادی بحران کے دوران عالمی منڈیوں تک رسائی میں مدد مل رہی ہے۔
پاکستان، افغانستان سے روزانہ ہزاروں ٹن کوئلہ حاصل کر رہا ہے جس سے اسے اپنے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔ یہ لین دین دونوں ممالک میں نجی کاروباری سیکٹر کے مابین کی جاتی ہے جبکہ طالبان انتظامیہ کوئلے کی برآمدات پر ڈیوٹی وصول کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں