14

صوبائی سول سروسز کی طرف بڑ ھتا رجحان

3 / 100

پنجاب میں مقابلے کا امتحان دےکر سول سروسز آف پاکستان کے ٹاپ گروپوں جن میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، فارن سروس اور کسٹمز شامل ہیں‘ کے علاوہ دیگر گروپوں کو جوائن کرنے کی بجائے پروونشل مینجمنٹ سروس ( پی ایم ایس) کے ذریعے ڈائریکٹ اسسٹنٹ کمشنر اور سیکشن افسر لگنے کا رجحان بڑھنے لگا ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ وہ تو ہم ضرور ڈسکس کریں گے لیکن اہم بات یہ ہے کہ پروونشل مینجمنٹ سروس کے افسر جو پنجاب سمیت دوسرے صوبوں میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور جو کسی دور میں اس سروس کو چھوڑ کر سول سروسز آف پاکستان میں جانا چاہتے تھے‘ اب صوبوں کی سروس کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ یہاں کچھ مثالیں موجود ہیں۔ 2 سال قبل سی ایس ایس کے امتحان میں ایسے امیدوار تھے جنہوں نے صوبائی سول سروس کا بھی ساتھ ہی امتحان دیا تھا جن میں سے 4 پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں سلیکٹ ہوگئے جبکہ دیگر 4 نے وفاقی سروس کے ان لینڈ ریونیو (انکم ٹیکس) اور آڈٹ اینڈ اکائونٹس گروپ جوائن کرنے کی بجائے صوبائی سول سروس کو ترجیح دی۔ 47 ویں کامن میں ان افسران میں منور سیال کو سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے آڈٹ اینڈ اکائونٹس گروپ الاٹ ہوا لیکن انہوں نے صوبائی سروس جوائن کی اور اس وقت سیکشن افسر محکمہ سیاحت پنجاب ہیں۔ اسی طرح ضیاء چدھڑ کو وفاقی سروس کا ٹریڈ اینڈ کامرس گروپ ملا لیکن وہ اسے چھوڑ کر صوبائی سول سروس میں بطور اسسٹنٹ کمشنر خانیوال تعینات ہیں۔ 48 ویں کامن میں زوہیب گوندل کی وفاقی حکومت کی طرف سے آف مینجمنٹ گروپ (او ایم جی) میں انڈکشن کی گئی لیکن انہوں نے بھی صوبائی سول سروس کو ترجیح دی اور اس وقت سیکشن افسر ویلفیئر (ن) ایس اینڈ جی اے ڈی تعینات ہیں۔ 49ویں کامن میں الماس صبیح ثاقب نے ان لینڈ ریونیو (انکم ٹیکس) سروس جوائن کرنے کی بجائے پنجاب حکومت کے محکمہ انڈسٹریز میں سیکشن افسر بننا پسندکیا۔ پی ایم ایس کےگروپ 8 کے ٹاپر ازمان چودھری نے بھی سی ایس ایس کے 48 ویں کامن کا امتحان پاس کیا تو انہیں وفاقی حکومت نے ان لینڈ ریونیو سروس جوائن کرنے کی آفر کی لیکن وہ صوبائی سول سروس جوائن کرکے آج اسسٹنٹ کمشنر بہاولپور سٹی ہیں۔ اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر چکوال محمد عاطف، سیکشن افسر اسٹیبلشمنٹ ایس اینڈ جی اے ڈی اسد اقبال اور اے سی ہیڈ کوارٹر لاہور اویس سرور چشتی سمیت گزشتہ چند سال میں سینکڑوں ایسے افسران وفاقی حکومت کی پوسٹل سروس، ان لینڈریونیو، آڈٹ اینڈ اکائونٹس اور ملٹری اکائونٹس سروسز کو جوائن کرنے کی بجائے صوبائی سول سروس میں آئے۔ اب ذرا ان وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں جن کی بنا پر افسر بننے کے خواہشمند صوبائی سول سروس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ پنجاب کی انتظامی پوسٹوں پر کوٹہ بڑھنے کی وجہ سے 9 اہم اضلاع کے ڈپٹی کمشنر پی ایم ایس سروس کے ہیں جن میں ڈاکٹر خرم رحیم یار خان، رائو پرویز جہلم، سیف انور جپہ گجرات، نوید شہزاد مرزا حافظ آباد، رانا شکیل پاکپتن، شفقت اللہ مشتاق بہاولنگر، اور راجہ منصور ننکانہ کے علاوہ جھنگ اور منڈی بہائوالدین کے ڈپٹی کمشنر بھی پی ایم ایس سروس کے ہیں۔ پنجاب سے مقابلے کا امتحان پاس کرکے افسر بھرتی ہونے والوں کی اب ایک خواہش یہ بھی ہے کہ اگر وہ وفاق کی پاکستان ایڈمنسٹریٹوسروس، پولیس سروس، فارن سروس یا کسٹمز گروپ جوائن نہیں کرتے تو پھر وہ صوبائی سروس جوائن کریں تاکہ ان کو اپنے ہی صوبے میں اہم پوسٹوںپر نوکری کرنے کا موقع ملے۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو وفاق کی مذکورہ پہلے نمبر کی ان چار سروسز کے بعد نام صوبائی سول سروس (پی ایم ایس) کا ہی آتا ہے۔ افسر بننے کے خواہشمند یہ سمجھتے ہیں کہ سی ایس ایس کرکے اگر آڈٹ اینڈ اکائونٹس، پوسٹل سروس، او ایم جی جیسی سروسز جوائن کرکے دوسرے صوبوں میں جا کرنوکریاں کرنی ہیں تو بہتر ہے کہ پی ایم ایس جوائن کرو اور پنجاب میں اے سی، ڈی سی لگ جائو۔ اس سے قبل پی ایم ایس سروس کی صوبے میں 21 گریڈ کی سیٹیں ہی نہیں ہوا کرتی تھیں۔ 22 ویں گریڈ میں ترقی دینا صوبائی حکومت کا اختیار نہیں۔ یہ احکامات صرف وفاقی حکومت ہی دے سکتی ہے۔ صوبوں میں شاید اب تک کسی کو خیال ہی نہیں آیا ورنہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبے اتنے بااختیار ہو چکے ہیں کہ رولز آف بزنس میں ترمیم کرکے گریڈ 22 میں ترقیاں دینے کا وفاقی حکومت کا اختیار خود حاصل کرسکتے ہیں جس کے بعد صوبائی سول سروس میں جانے والوں کی تعداد مزید بڑھے گی۔ وفاقی حکومت میں سروس کرنے والے گریڈ 20 کے جوائنٹ سیکرٹری اور پنجاب میں اس گریڈ کے سیکرٹری کے اختیارات، تنخواہوں اور مراعات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وفاق میں گریڈ 18 کا سیکشن افسر 75 سے 80 ہزار جبکہ پنجاب سول سیکرٹریٹ میں اسی گریڈ میں تعینات ڈپٹی سیکرٹری 3لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتا ہے۔ وفاق میں گریڈ 20 کے جوائنٹ سیکرٹری کے پاس فل ٹائم سرکاری گاڑی نہیں ہوتی جبکہ پنجاب میں گریڈ 17 کے سیکشن افسر کے پاس سرکاری گاڑی اور پٹرول ہوتا ہے۔ابھی بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس آف پاکستان نے پی ایم ایس اور رینکر پولیس افسران کو دبایا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود صوبائی سروس میں زیاد ہ فائدے ہونے کی وجہ سے افسر بننے کے زیادہ تر خواہشمند اسی سروس کو جوائن کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے پی ایم ایس کا امتحان سی ایس ایس سے آسان نہیں ہوتا بلکہ ایک جیسا ہی مشکل ہوتا ہےکیونکہ دونوں میں 1200 سوالات ہوتے ہیں۔ پی ایم ایس افسر بھرتی ہو کر گریڈ 18میں لوگ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تعینات ہوتے ہیں جبکہ وفاق میں سیکشن افسر ہوتے ہیں جس کے اختیارات اور فیلڈ پوسٹنگ سےکیریئر پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں اور فائدے حاصل ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں