22

صرف انکم ٹیکس اور GST دینا ہوگا

کسی بھی حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ محصولات ہوتے ہیں جو بلا واسطہ اور بالواسطہ ٹیکسوں کی شکل میں عوام سے وصول کئے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں براہِ راست انکم ٹیکس کی وصولی اور بالواسطہ ٹیکسوں ،کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس اکٹھا کرنے کا نظام نہایت فرسودہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی شرح دیگر ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ٹیکس جمع کروانے کے طریقۂ کار کو سہل بنانے کے حوالے سے مشیر امورِ خزانہ شوکت ترین نےپیر کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں کامیاب نوجوان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی کے علاوہ باقی ٹیکسوں کو آئندہ دو تین سال میں ختم کر دیا جائےگا۔وفاقی حکومت ملک میں ٹیکس زیادہ جمع کرنے کے لئے ایک نئے اقدام کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے تحت نادرا کو ٹیکس کے نظام تک رسائی دی جائے گی۔ایف بی آر اورنادرا کا ڈیٹا ایک ہوگیا ہے، جس کی بدولت حکومت کے پاس شہریوں کے بلز، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات، گاڑیوں کی مالیت، سفری معلومات، رہائش گاہوں سب کی تفصیلات موجود ہیں، اب حکومت آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا استعمال کر کے آمدن کا تخمینہ لگائے گی اور ٹیکس کا بل بھیجے گی۔ حکومت نے تاجروں کی زندگی سے ایف بی آر کو نکال دیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوام ٹیکس نہ دیں۔یہ خوش آئند ہے کہ حکومت ٹیکس معاملات پر تاجروں کی مشکلات دور کرنے میں مشغول ہے اِس ضمن میں ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جانی چاہئے۔موجودہ حکومت ٹیکس کے نظام کو آسان اور شفاف بنانے کے لئے کوشاں ہے، عوام کو بھی جان لینا چاہئے کہ جب تک حکومتی ذرائع آمدن یعنی ٹیکس وصولیوں میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو گا، عوام کی حالت بہتر نہیں بنائی جا سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں