صدقۂ فطر 53

صدقۂ فطر کا بیان .

69 / 100

صدقۂ فطر کا بیان

1. صدقۂ فطر اس شخص پر واجب ہے جو آزاد اور مسلمان ہو اور ایسے نصاب کا مالک ہو جو اس کی اصلی حاجتوں سے زائد ہو خواہ وہ مال نصاب بڑھنے والا ہو یا نہ ہو زکوٰۃ اور صدقۂ فطر کے نصاب میں یہ فرق ہے کہ زکوٰۃ فرض ہونے کے لئے چاندی سونا یا تجارت کا مال ہونا ضروری ہے ،صدقۂ فطر کے نصاب میں ہر قسم کا مال حساب میں لیا جاتا ہے جو حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو اور قرض سے بچا ہوا ہو پس اگر کسی شخص کے پاسروزمرہ کے استعمالی کپڑوں اور برتنوں و دیگر سامان کے علاوہ اگر حاجاتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو اور ان سب کی قیمت نصابِ زکوٰۃ کے برابر یا زیادہ ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی مگر صدقۂ فطر واجب ہو گا
2. صدقۂ فطر واجب ہونے کی شرطیں یہ ہیں آزاد ہونا، غلام پر صدقۂ فطر واجب نہیں ہے مسلمان ہونا، کافر پر صدقۂ فطر واجب نہیں ہے صاحبِ نصاب ہونا، اور نصاب کا اس کی اور اس کے اہل و عیال کی اصلی حاجتوں سے زائد ہونا حوائج اصلیہ کی تفصیل زکوٰۃ کے بیان میں گزر چکی ہے ، اس نصاب کا بڑھے والا ہونا اور اس پر سال کا گزرنا شرط نہیں ہے ، جس کی تفصیل بھی زکوٰۃ میں مذکور ہے عاقل و بالغ ہونا امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف کے قول کے بموجب صدقۂ فطر واجب ہونے کی شرطوں میں سے نہیں ہے اس لئے اگر نابالغ اور مجنون کا مال ہو تو ان پر بھی صدقۂ فطر واجب ہے اور ان کا ولی یعنی باپ یا اس کا وصی یا دادا یا اس کا وصی ان کے مال سے صدقۂ فطر نکالے اگر یہ لوگ نہ نکالیں تو نابالغ بالغ ہونے پر اور مجنون افاقہ ہونے کے بعد خود نکالے ، ان کے غلاموں کا فطرہ بھی ان دونوں کے مالوں میں سے ادا کرنا واجب ہے
3. صدقۂ فطر واجب ہونے کا سبب خود اس کی ذات اور وہ لوگ ہیں جن کا نان نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے اور وہ ان پر کامل ولایت رکھتا ہے پس صدقۂ فطر اپنی طرف سے ادا کرنا واجب ہے اگر کسی شخص نے کسی عذرسے یا بلا عذر روزے نہ رکھے ہوں تب بھی اس پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے
اوراس کے نابالغ بچوں اور بچیوں کی طرف سے بھی اس پر واجب ہے لیکن اگر نابالغ بچہ خود مالدار ہو تو اس کے مال میں سے صدقۂ فطر واجب ہو گا کم عقل، دیوانہ اور مجنون کا بھی وہی حکم ہے جو نابالغ بچے کا ہے یعنی اس کی طرف سے باپ صدقۂ فطر ادا کرے
بیوی کا صدقۂ فطر خاوند پر واجب نہیں ہے
بالغ اولاد کا نفقہ بھی باپ پر واجب نہیں ، اگر بالغ اولاد اور بیوی کی طرف سے اور جن کا نفقہ اس کے ذمہ ہے ان سب کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر صدقۂ فطر دے دیا تو ادا ہو جائے گا اِسی پر فتویٰ ہے کیونکہ عادتاً اجازت موجود ہے ، اگرچہ نیت کے بغیر فطرہ ادا نہیں ہوتا لیکن اس صورت میں حکماً نیت موجود ہے
اپنی عیال اور اہل نفقہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے فطرہ دینا ان کی اجازتسے جائز ہے اجازت کے بغیر جائز نہیں پس اگر عورت نے اپنے خاوند کی طرفسے اس کی اجازت کے بغیر فطرہ ادا کر دیا تو جائز نہیں ہے اپنے دادا دادی، نانا نانی، پوتے پوتیوں ، نواسے نواسیوں کی طرف سے صدقۂ فطر دینا واجب نہیں ہے اور اپنے ماں باپ کا فطرہ دینا بھی واجب نہیں اگرچہ ان کا نفقہ ان کے ذمہ ہو کیونکہ ان پر اس کو ولایت نہیں ہے جیسا کہ بڑی اولاد پر نہیں ہے لیکن اگر ان میں سے کوئی فقیر اور دیوانہ ہو تو اس کا صدقہ اس پر واجب ہو گا
اپنے چھوٹے بھائی بہنوں اور اپنے دیگر رشتہ داروں کی طرف سے صدقۂ فطر دینا اس پر واجب نہیں اگرچہ ان کا نفقہ اس کے ذمہ ہو کیونکہ اس کو ان پر ولایت حاصل نہیں ہے اور صدقۂ فطر واجب ہونے کو لئے اس شخص پر ولایت کاملہ حاصل ہونا اور اس کے نفقہ کا ذمہ دار ہونا ضروری ہے اگر اپنی چھوٹی لڑکی کا نکاح کر دیا اور اس کو خاوند کے گھر رخصت کر دیا،اگر وہ خاوند کی خدمت و موانست کے لائق ہے تو اس کا صدقۂ فطر کسی پر واجب نہیں ہے نہ باپ پر، نہ خاوند پر اور نہ خود اس لڑکی پر جب کہ لڑکی خود محتاج ہو اور اگر شوہر کی خدمت و موانست کے لائق نہیں ہے تو اس کا صدقۂ فطر اس کے باپ کے ذمہ ہو گا اور اگر شوہر کے گھر رخصت نہیں کی گئی تو ہر حال میں اس کے باپ کے ذمہ ہے لڑکی کے فطرہ کے متعلق مزید وضاحت یہ ہے کہ اگر لڑکی مالدار ہے تو خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اور خواہ بالغ ہو یا نابالغ خود اس کے مال میں صدقۂ فطر واجب ہے اور اگر مالدار نہیں لیکن بالغ ہے تو خواہ شادی شدہ ہو یا شادی شدہ ہے اس کا فطرہکسی کو ذمہ نہیں اور اگر مالدار نہیں لیکن نابالغ شاذی شدہ ہے اور رخصت نہیں ہوئی تو باپ کے ذمہ ہے اور رخصت ہو گئی ہو تو کسی کے ذمہ نہیں اور اگر شادی نہیں ہوئی اور نابالغ محتاج ہے تو اس کا فطرہ باپ کے ذمہ ہے دادا کے ذمہ پوتوں کا صدقۂ فطر واجب نہیں ہے جب کہ ان کا باپ مفلس ہو اور زندہ ہو اور اگر مفلس باپ فوت ہو چکا ہو تو اس میں اختلاف ہے ظاہر الروایت کے بموجب اس صورت میں بھی دادا کے ذمہ پوتوں کا صدقۂ فطر واجب نہیں ہے اور امام حسن کی روایت میں واجب ہے
4. صدقۂ فطر عیدالفطر کے روز صبحِ صادق طلوع ہونے کے بعد واجب ہوتا ہے پس جو شخص اس سے پہلے مر جائے اس پر صدقۂ فطر واجب نہیں ہو گا اور جو شخص اس دن کی طلوع فجر کے بعد مرے تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہو گا اسی طرح جو بچہ طلوع فجر سے پہلے پیدا ہوا یا کوئی کافر مسلمان ہوا تواس پر صدقۂ فطر واجب ہو گا اور جو بچہ طلوع فجر کے بعد پیدا ہوا یا کوئی کافر مسلمان ہوا تو اس پر صدقۂ فطر واجب نہ ہو گا، اور اسی طرح اگر فقیراس دن کی طلوع فجر سے پہلے مالدار ہو جائے یا مالدار آدمی طلوع فجر کے بعد فقیر ہو جائے تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہو گا اس کے برعکس اگر مالدار طلوع فجر سے پہلے فقیر ہو جائے یا فقیر طلوع فجر کے بعد مالدار ہو جائے تو اس پر صدقۂ فطر واجب نہیں ہو گا
5. عید الفطر کا دن آنے سے پہلے صدقہ ادا کر دیں تو جائز ہے اور یہ عیدالفطر سے پہلے دینے کا حکم مطلق ہے اس میں مدت کی مقدار کی کوئی تفصیل نہیں ہے اس لئے خواہ رمضان المبارک میں دیا جائے یا اس سے پہلے دے دیا جائے ہر وقت جائز ہے یہی صحیح و مختار ہے بعض فقہا نے اس بات کی تصحیح کی ہے کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہو جائے اس میں پیشگی صدقۂ فطر دینا جائز ہے اس سے پہلے نہیں ، دونوں قول صحیح ہیں اور مفتیٰ بہ ہیں لیکن پہلا قول ظاہر الروایت ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور دوسرے قول میں احتیاط زیادہ ہے اور عمل کے لئے یہی مناسب ہے عیدالفطر کے دن کسی وقت بھی ادا کر دے گا تو وہ ادا کرنے والا ہو گا قضا کرنے والا نہیں ہو گا، اگر عید کا دن گزر گیا اور کسی شخص نے فطرہ ادا نہیں کیا تو صحیح یہ ہے کہ اس سے ساقطنہیں ہو گا بلکہ اس کا دینا واجب ر ہے گا لیکن یومِ فطر کے بعد اس کا ادا کرنا بعض فقہا کے نزدیک قضا کہلائے گا اور بعض نے اس کو ترجیع دی ہے اور بعض فقہا کے نزدیک عمر بھر میں جب بھی ادا کرے گا ادا ہی کہلائے گا کیونکہ ان کے نزدیک تاخیر سے ادا کرنا یعنی عمر میں ادا کر دینا واجب ہے بعض نے اس کو ترجیع دی ہے اور زیادہ راجح بھی یہی ہے
6. صدقۂ فطر ادا کرنے کا مستحب وقت یہ ہے کہ عید الفطر کے روز طلوع فجر کے بعد عیدگاہ کو جانے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کر دیں ، اور اس سے تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی ہے
7. صدقۂ فطر چار چیزوں گیہوں ، جو، کھجور اور کشمش میں سے ادا کرنا واجب ہے ، یعنی وزن مقررہ کے حساب سے دینے کے لئے یہ چار چیزیں ہی منصوص علیہ ہیں فطرہ کی مقدار گیہوں میں نصف صاع اور جو و کھجور میں ایک صاع ہے کشمش میں اختلاف ہے صحیح اور مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ ایک صاع دی جائے گیہوں و جو کے آٹے اور ستوں کا وہی حکم ہے جو خود اُن کا ہے گیہوں میں جَو وغیرہ ملے ہوئے ہوں تو غلبہ کا اعتبار ہو گا پس اگر گیہوں غالب ہو گی تو نصف صاع دیا جائے گا، مذکورہ چار منصوص چیزوں کے علاوہ اگر کسی دوسری جنس سے صدقہ فطر ادا کیا جائے مثلاً چاول، جوار، باجرہ وغیرہ دیا جائے تو اشیائے منصوصہ مذکورہ میں سے کسی ایک چیز کی قیمت کے برابر ہونا چاہئے مثلاً چاول وغیرہ دے تو جس قدر قیمت میں نصف صاع گیہوں آتے ہوں یا ایک صاع جَو آتے ہوں اتنی قیمت کے چاول وغیرہ دے سکتا ہے ، اور اگر وہاں گندم و جَو و کھجور اور کشمش نہ ہوتے ہوں تو وہاں سے زیادہ قریبی جگہ میں جہاں ہوتے ہوں وہاں کی قیمت معتبر ہو گی گیہوں یا جو کی روٹی صدقۂ فطر میں وزن سے دینا جائز نہیں بلکہ قیمت کے اعتبار سے دے گا تو جائز ہو گا یہی اصح ہے ، اگر منصوص علیہ یعنی چاروں مذکورہ اجناس میں سے کسی ایک کی قیمت ادا کرے تو یہ بھی جائز ہے بلکہ عین اس چیز کے دینے سے اس کی قیمت کا دینا افضل ہے اسی پر فتویٰ ہے ( انگریزی سیر کے وزن سے جو کہ اسی تولہ ہوتا ہے اور ہند و پاکستان میں رائج ہے ایک صاع تقریباً ساڑھے تین سیر کا اور نصف صاع پونے دو سیر کا ہوتا ہے یہی فتویٰ بہ ہے بہتر یہ ہے کہ احتیاطاً گیہوں دو سیر اور جو چار سیر دے دئے جائیں
8. صدقۂ فطر کے مصارف عامل کے سوا وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں ، ذمی کافر کو صدقۂ فطر دینے میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ جائز و مکروہ ہے اورمسلمان فقیر کو دینا اولیٰ ہے ایک شخص کا صدقۂ فطر بعض کے نزدیک ایک ہی شخص کو دینا واجب ہے اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ متعدد شخصوں کو ایک ایک شخص کا فطرہ دینا جائز ہے یہی مذہب ہے ، متعدد شخصوں کا فطرہ کسی ایکمسکین کو دینا بھی جائز ہے جب کوئی ایسا شخص جس کے ذمہ زکوٰۃ یا صدقۂ فطر یا کفارہ یا صدقہ نذر ہو بلا وصیت کے فوت ہو جائے تو اس کے ترکہ میں سے ادا نہیں کیا جائے گا لیکن اگر اس نے وصیت کی ہو تو ترکہ میں سے ادا کیا جائے گا اور وہ وصیت اس کے تہائی مال میں جاری ہو گی خواہ وہ پوری زکوٰۃ و فطرہ وغیرہ کو کفایت کرے یا نہ کرے لیکن اگر اس کے وارث تہائی سے زیادہ دینے پر راضی ہوں تو جس قدر زیادہ وہ خوشی سے دے دیں لے لیا جائے گا اگر وصیت نہیں کی اور اس کے وارث تبرعاً اس کی طرف سے ادا کر دیں تو جائز ہے اور اگر وہ ادا نہ کریں یا ان میں سے کوئی اپنے حصہ میں سے نہ دے تو مجبور نہیں کیا جائے گا
۹. صدقۂ فطر وصول کرنے کے لئے کسی عامل کو مقرر کر کے قبائل میں نہ بھیجا جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے لیکن کسی شخص کو اس طرح مقرر کر دینا کہ لوگ خود آ کر اس کو دے جایا کریں تو جائزو ثابت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں