68

صدر مملکت سے علماء و مشائخ کی میٹنگ. مفتی گلزاراحمد نعیمی

59 / 100

صدر مملکت سے علماء و مشائخ کی میٹنگ
آج(05-04-2021) صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ ملک بھر سے مختلف مکاتب فکر کے جید علمائے کرام کی میٹنگ ہوئی۔میٹنگ بہت پر سکون ماحول میں ہوئی۔یہ میٹنگ ویڈیو لنک کے ذریعے ہوئی۔پیر ڈاکٹر نورالحق قادری وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے اس میٹنگ کو مربوط کیا۔پنجاب ،سندھ اور بلوچستان کےگورنرز نے بھی اپنے اپنے ہوم سٹیشن پر بیٹھ کر اس اہم میٹنگ میں شرکت کی۔
صدر مملکت جناب ڈاکٹر عارف الرحمن علوی نے اپنے اختتامی خطبہ میں کہا کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں گزشتہ سال کی طرح امسال بھی ایس او پیز پر مکمل عمل کیا جائے اور رمضان المبارک کے پہلے جمعہ میں تمام پاکستانی نماز استغفار ادا کریں۔انہوں نے علمائے کرام کو کہا کہ وہ قائدانہ کردار ادا کریں۔خود بھی ویکسین لگوائیں اور اپنے خطبوں کے ذریعے لوگوں کو بھی ترغیب دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ علماء، سیاسی قائدین اور میڈیا لوگوں میں کرونا کے حوالہ سے بیداری پیدا کریں۔صدر مملکت نے تحفظ ناموس رسالت کے حوالہ سے بھی واضح اور دو ٹوک موقف دیا اور کہا کہ موجودہ حکومت نے اس پر بہت کام کیا ہے اور کررہی ہے اور ہم ہر قیمت پر ناموس رسالت کا تحفظ کریں گے۔صدر پاکستان نے اوقاف بل کے حوالہ سے بھی علماء و مشائخ کو یقین دلایاکہ اس میں علماء ومشائخ کی آراء کے مطابق ضروری تبدیلیاں کر دی جائیں گی۔صدر پاکستان نے حکومت کو ھدایات دیں کہ اوقاف بل کے حوالہ سے علماء و مشائخ کا ایک اہم اجتماع بلایا جائے اور انکی آراء کی روشنی میں اس قانون میں مناسب اور قابل قبول ترامیم لائی جائیں۔
وفاقی زیر مذہبی امور نے اس اجلاس کو بتایا کہ اس قانون کے حوالہ سے اہم سٹیک ہولڈرز سے بات چیت ہوچکی ہے اور جملہ تحفظات سے میں نے انہیں آگاہ کردیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس قانون میں ترامیم کے حوالہ سے علماء ومشائخ پر مشتمل پانچ سے چھ افراد کی ایک کمیٹی چند دنوں میں بنائی جارہی ہے جو اپنی تجاویز دے گی اور پھر اس کے مطابق اس قانون میں ترامیم لائی جائیں گی۔اجلاس میں شریک ایک رہنماء نے لبیک کے ساتھ معاہدہ کے حوالہ سے بھی بات کی کہ اسے بھی پورا کیا جائے۔اس پر جناب پیر نور الحق قادری نے کہا کہ ہم اس پر کام کررہے ہیں اور ایک ایسے حل کی طرف جارہے ہیں جس سے معاہدہ پر بھی عمل ہوجائے اور پاکستان کو بھی نقصان نہ ہو۔میں یہ بات شرح صدر سے کہہ رہا ہوں کہ صاحبزادہ نور الحق قادری معاہدہ کو پائیہ تکمیل تک پہنچانےمیں نہایت سنجیدہ ہیں۔مگر حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں آئندہ چند دنوں میں واضح ہوجائے گا۔یہ بات بہت قابل افسوس ہے کہ چند اوباش قسم کے گڈریے صاحبزادہ صاحب کی بہت توہین کرتے ہیں اور کررہے ہیں جو بہت ہی قابل مذمت ہے۔جن کے ابھی دودھ کے دانت نہیں گرے وہ ایسی شخصیات کی توہین کرتے ہیں جن کے کریڈٹ میں کئی ناقابل فراموش قربانیاں ہیں۔صاحبزادہ صاحب درجن سے زائد اپنے عزیزوں کی قربانیاں دے چکے ہیں۔وہ پندرہ(15) کے قریب اپنے شھیدوں کو اپنے ہاتھوں سےلحد میں اتار چکے ہیں۔لیکن اتنے بڑے ظلم کے باوجود انہوں نے جوابا اسلحہ نہیں اٹھایا۔اسلام دشمن قوتیں انکے تعلیمی نیٹ ورک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیےتالا لگانا چاہتی تھیں مگر وہ ایسا نہیں کر سکیں۔آج ان کے نیٹ ورک میں 200 سے زائد مدارس ہیں۔اس دفعہ 235 فضلاء جامعہ جنیدیہ نے سند فراغت حاصل کی ہے۔خیبر پختوں خواہ لبیک کے سب سے بڑے رہنماء برادر ڈاکٹر شفیق امینی بھی اسی جامعہ جنیدیہ کے فضلاء میں سے ہیں۔اس لیے ایسی شخصیت پر زبان دراز کرنابہت ہی جاہل لوگوں کا کام ہے۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اس حکومت نے ناموس رسالت کے مسئلہ کو جس طرح بین الاقوامی سطح پر اٹھایا اس کی نظیر ماضی میں ہمیں نہیں ملتی۔حکومتوں کے پیش نظر تمام مسائل ہوتے ہیں اور وہ کسی بھی مسئلہ کو ایسے نہیں چھوڑ سکتی۔مذہبی سیاسی جماعتوں نے عورت مارچ پر یا اوقاف بل پر کیا رد عمل دیا؟؟؟ کوئی بتائے تو۔حکومت نے مذہبی مسائل بھی حل کرنے ہیں اور FATF کی لٹکتی تلوار سے بھی ملک کو بچانا ہے۔اگر کسی ایک ملک کے سفیر کو نکالنے سے یا کسی ایک ملک ساتھ تعلقات ختم کرنے سے تحفظ ناموس رسالت کا مسئلہ حل ہوجائے تو یہ کوئی بڑا مہنگا سودا نہیں۔آقائے نامدار کی عزت و ناموس کے لیےتو پوری دنیا سے تعلقات ختم کیے جاسکتے ہیں مگر کوئی معقول لائحہ عمل پیش کریں۔پاکستان کے مخالف پاکستان کو ڈیفالٹر ملک قرار دلوانا چاہتے ہیں۔وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس کے سبب ہم اپنے دشمنوں کے مکروہ عزائم کی تکمیل میں غیر دانستہ طور پر انکا ساتھ دے رہے ہوں۔ہر دل میں محبت رسول ہے ،ہر دل افتاب رسالت سے منور ہےاور ہرجان جان رسالت مآب پر قربان ہونا چاہتی ہے۔اس میں کسی کا کوئی اختصاص نہیں ہے۔یاد رکھیں! کسی کو ماں بہن کی گالیاں دیکر اپنی بات نہیں منوائی جاسکتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کے دعویدار رسول اللہ کی سیرت کی روشنی میں طرز تکلم اختیار کریں۔تمہاری گالیوں سے کوئی نہیں ڈرے گا۔
اس ملک میں ملحدانہ قوتوں کا مقابلہ کرنا کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں ہے۔صرف اور صرف اجتماعی کاوشیں ہی بروئے کار آئیں تو بات بنے گی۔اس کے لیے اپنے تنگ ظرف کو وسیع کرنا ہوگا۔ہمیں ایک دوسرے کو قبول کرنے کی روش اپنانا ہوگی۔کلمہ کی بنیاد پر اکٹھا ہونا ہوگا۔اندر کے بغض کو تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ مذہب وملت کی خاطر ختم کرنا ہوگا۔یہ وقت کا تقاضہ ہے اور یہی دانشمندی ہے۔دنیا کی قوموں کا یہی آزمودہ نسخہ ہے۔
وصل کے اسباب پیدا ہوں تیری تحریر سے
دیکھ! کوئی دل نہ دکھ جائے تیری تقریر سے
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں