42

صدر اردوغان کشیدہ تعلقات کے بعد سعودی عرب کے پہلے دورے سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے دورۂ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعے کی شام جدہ میں ’السلام پیلس‘ میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی جس میں ترک سعودی تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر باہمی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت اور ان کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ خطے میں بدلتے ہوئے حالات اور ترکی کی گرتی ہوئی معیشت کے پس منظر میں ترک صدر رجب طیب اردوغان جمعرات کو سعودی عرب پہنچے۔
اردوغان کے اس دورے کو بہت خاص اور غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ اکتوبر سنہ 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں سعودی عرب کے ناقد صحافی جمال خاشقجي کے قتل اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے بعد صدر اردوغان کا سعودی عرب کا یہ پہلا دورہ ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اردوغان کے دو روزہ دورے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ ترکی کی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کاری پر بھی بات چیت ہو گی۔
انقرہ کے مواصلاتی دفتر نے ٹوئٹر پر کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، نے صدر اردوغان کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات بھی کی۔ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا اور انھیں بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔‘
صدر اردوغان کے دفتر نے کہا کہ اُن کا یہ دورہ سعودی بادشاہ کی دعوت پر کیا گیا ہے، جو تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مہینوں کی طویل کوششوں کے نتیجے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں سنہ 2018 میں ترکی کی جانب سے استنبول میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے کی سماعت کو ختم کرنا بھی شامل تھا۔
تجزیہ کاروں اور حکام کا کہنا ہے کہ سعودی فنڈنگ ترکی کو اپنی اقتصادی پریشانیوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس میں افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح بھی شامل ہے۔
ترکی کے معاشی حالات کی بہتری سے صدر اردوغان کو اگلے سال انتخابات میں فائدہ ہو سکتا ہے۔
صدر اردوغان نے اس ملاقات کے بارے میں ٹویٹ کیا ہے کہ ’ہم نے تمام مواقع پر کہا ہے کہ ہم خلیجی خطے میں اپنے دوستوں کے استحکام اور سلامتی کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی ہم اپنے استحکام اور سلامتی کو دیتے ہیں۔‘
28 اپریل کو سعودی عرب روانگی سے قبل اردوغان نے اتاترک ہوائی اڈے پر میڈیا کو بتایا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ‘نئے دور’ کا آغاز ہو گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، جدہ روانگی سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اردوغان نے کہا کہ ان کا سعودی عرب کا دورہ تعلقات کو بہتر بنانے اور سیاسی، عسکری اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے ’ہماری مشترکہ مرضی کا مظہر‘ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ صحت، توانائی، فوڈ سیکیورٹی، دفاعی صنعت اور مالیات سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا باہمی طور پر فائدہ مند ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم مشترکہ کوششوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو اس سے آگے لے جائیں گے جہاں وہ ماضی میں تھے۔‘
صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ہونے والی کشیدگی کے برعکس، اب مصالحتی انداز میں اردوغان نے مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان کے اختتام کو اس دورے کے لیے موزوں وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ برادرانہ تعلقات کو دوبارہ سے بہتر کرنے اور مضبوط کرنے کا مہینہ ہے۔‘
انقرہ کو امید ہے کہ یہ دورہ ترکی کی درآمدات کے غیر سرکاری سعودی بائیکاٹ کے مکمل خاتمے کا سبب بنے گا جو سنہ 2020 میں خاشقجی کے قتل کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ اس بائیکاٹ کی وجہ سے سعودی مملکت میں ترکی کی درآمدات میں 98 فیصد کمی ہو گئی تھی۔
ترکی کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا صدر اردوغان کے دورے کے متعلق کہا کہ ’سفر سے پہلے دونوں جانب بہت ہی مثبت ماحول تھا، اور زمین ہموار ہے تاکہ ہم ایک بار پھر تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی مسائل پر متحد ہو کر کام کر سکیں۔‘
صدر اردوغان نے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ ‘خلیج میں دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں’۔ سعودی عرب ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کرتا رہا ہے۔
ترک صدر دورۂ سعودی عرب سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ترکی بحیرہ اسود کے اپنے پڑوسی ممالک یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے منفی معاشی نتائج سے دوچار ہے۔ ترکی کی معیشت برسوں سے بیمار رہی ہے اور سنہ 2021 کے آخر میں اردوغان کی حمایت یافتہ غیر روایتی مانیٹری پالیسی کی وجہ سے ترک کرنسی لیرا کا بحران شروع ہوا جس کی وجہ سے افراط زر کی شرح 60 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔
ترکی چاہتا ہے کہ سعودی عرب موجودہ ‘کرنسی سواپ نیٹ ورک’ میں شامل ہو جس کی مالیت 28 ارب ڈالر ہے جس میں پہلے ہی چین، جنوبی کوریا، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہو چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کی کوشش ہے کہ ابوظہبی کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی طرح کی سعودی عرب سے بھی معاہدے ہو جائیں۔ اردوغان کا یہ دورہ مصر، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت پورے خطے میں ترکی کے کشیدہ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے ایک وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
روئٹرز سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ حالیہ برسوں میں شام، لیبیا اور دیگر جگہوں پر ترکی کی پالیسیوں کی وجہ سے ترکی کے تیزی سے الگ تھلگ ہونے کے بعد اقتصادی اور سیاسی دباؤ کو دور کرنے میں اُسے مدد کی ضرورت ہے۔
ایک مغربی سفارت کار نے کہا ’اردوغان عملیت پسند سیاسی ذہن رکھتے ہیں، اور جب تک وہ ملک میں روزگار کے مواقعوں میں اضافہ نہیں کرتے ہیں ایک برس میں انتخابات ہونا ممکن نہیں لگ رہا ہے۔ لہٰذا وہ جزوی طور پر سعودی عرب میں سودے اور فنڈنگ کی تلاش میں ہیں، اور شاید 10 سے 12 ارب ڈالر سے انھیں کچھ فائدہ ہو گا۔‘
ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات کیسے خراب ہوئے؟
سعودی عرب اور ترکی کے درمیان خلافتِ عثمانیہ کے زمانے سے ایک مخاصمت چلی آ رہی ہے۔ اور آج کے دور میں دونوں کے درمیان مسلم دنیا کی قیادت کے لیے بھی مقابلہ جاری ہے۔
مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون اور دیگر اسلام پسند گروپوں کی حمایت کرنے پر اردوغان کے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں شدید کشیدگی رہی ہے۔
سنہ2014 میں اردوغان ترکی کے صدر منتخب ہوئے اور سنہ 2015 میں شاہ سلمان سعودی عرب کے تخت پر بیٹھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک میں اسٹریٹجک تعاون کونسل تشکیل دی گئی تھی۔ لیکن پھر سنہ 2017 کے خلیجی بحران کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر سے تعلقات توڑ لیے اور اس پر کئی پابندیاں عائد کر دیں۔
لیکن اردوغان نے درآمدات پر انحصار کرنے والے ملک قطر کی تنہائی کو غیر انسانی اور اسلامی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی۔
جمال خاشقجی کا قتل اور دونوں ممالک کے تعلقات
سنہ 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ ترک حکام کا کہنا تھا کہ سعودی ایجنٹوں نے یہ کارروائی سعودی حکومت کے ‘اعلیٰ عہدے داروں’ کے حکم پر کی۔
سعودی عرب جمال خاشقجي کے قتل کے کیس کی تحقیقات میں پیش رفت پر برہم تھا۔ دو سنی اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہونے لگے اور سعودی عرب نے ترکی کی معیشت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ سعودی عرب نے غیر رسمی طور پر ترکی سے درآمد کی جانے والی اشیا پر پابندی لگا دی۔ اس نے سیاحوں کے ترکی جانے پر بھی پابندی لگا دی، جس کا ترکی کی معیشت پر برا اثر پڑا۔
اس ماہ کے شروع میں عدالت نے خاشقجی کے قتل سے منسلک 26 سعودی مشتبہ افراد کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے مقدمے کی سماعت روک دی تھی۔ جس کے بعد عدالت نے کیس سعودی عرب منتقل کر دیا۔
ترکی نے اس فیصلے پر کہا تھا کہ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم رائٹرز کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے ترکی کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ تاہم بہت سے لوگ یہ بھی مان رہے ہیں کہ عدالت کے اس اہم فیصلے کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے بہتر ہونے کا امکان ہے۔
ترکی کا یوٹرن
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایک سکالر بیرول باسکان نے رائٹرز کو بتایا کہ ‘ترکی جس پالیسی پر عالمِ عرب میں موسمِ بہار والے انقلاب کے آغاز سے عمل کر رہا ہے وہ مزید جاری نہیں رہ سکتا ہے۔ وہ اپنی جارحانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے الگ تھلگ رہ گیا تھا۔‘
حالیہ برسوں میں ترکی نے قطر اور صومالیہ میں فوجی اڈے بنائے ہیں۔ شام، لیبیا اور نگورنا کاراباخ پر اس کے موقف اور روس سے دفاعی نظام خریدنے کے منصوبے نے مغربی ممالک اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تناؤ بڑھا دیا ہے۔
مڈل ایسٹ پالیسی کونسل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سنہ 2020 سے ترکی خلیجی ممالک کے حوالے سے یو ٹرن لے رہا ہے اور ان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مہم کے تحت اردگان مصر، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور سعودی عرب کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور اختلافات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اس کوشش کے ایک حصے کے طور پر اردوغان نے گذشتہ سال مئی میں سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز سے فون پر بات کی تھی جس کے بعد وزیر خارجہ مولُوت چوواشوگلو گذشتہ سال مئی میں دو روزہ دورے پر سعودی عرب گئے تھے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے نے بتایا کہ ‘ترکی کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ اس کی زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کی تلاش ہے۔ اس کے روس جیسی دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ امریکہ، یورپ اور چین کے تعلقات خراب ہو رہے ہیں اور وہ اسے بہتر کرنا چاہتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی سرمایہ کاری سے ترکی کی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اردوغان کا راستہ قدرے آسان ہو سکتا ہے۔ صدر اردوغان کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافے کا اشارہ ترک وزیر خارجہ نورالدین نباتی کے ایک ٹویٹ میں بھی ملتا ہے۔
دو روز قبل انھوں نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے اپنے سعودی ہم منصب محمد الجدعان سے آن لائن بات چیت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’دونوں کے درمیان اس بارے میں بات چیت ہوئی کہ دونوں ممالک معیشت، سرمایہ کاری اور تجارت کے حوالے سے کس طرح تعاون بڑھا سکتے ہیں۔‘
دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں گذشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے سنہ 2022 کی پہلی سہ ماہی میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بی بی سی ترکی سروس کا کہنا ہے کہ ترکی نے سنہ 2022 کے پہلے دو مہینوں میں سعودی عرب سے 69.3 کروڑ ڈالر کی درآمدات کیں، ترکی کے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، لیکن اس کی برآمدات 2 کروڑ ڈالر کی سطح پر رہیں۔
لیکن مارچ میں برآمدات میں اضافہ ہوا جب خاشقجی کے کیس کو منتقل کرنے کی درخواست کی گئی اور ترکی کے ریزرو میں بہتری دیکھی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں