Seerat-ul-Nabi 73

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ صحابہ اور صحابیات کی فداکاری

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ صحابہ اور صحابیات کی فداکاری
حضرت اُمّ عمارہ رضی الله عنہا کا اصل نام نؤسیبہ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو بھاگتے دیکھا اور مشرکوں کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گرد جمع ہوتے دیکھا تو بے چین ہوگئیں ، جلدی سے آپ صلی الله علیہ وسلم کے قریب پہنچیں اور تلوار کے ذریعے دشمنوں سے لڑنے لگیں ۔تلوار چلاتے چلاتے جب زخمی ہوگئیں ، تو تیر کمان سنبھال لیا اور مشرکوں پر تیر چلانے لگیں ۔
ایسے میں انہوں نے ابن قمیہ مشرک کو آتے دیکھا، وہ یہ کہتا ہوا چلا آرہا تھا:
“مجھے بتاؤ… محمد کہاں ہیں ؟ اگر آج وہ بچ گئے تو سمجھو، میں نہیں بچا۔”
یہ کہنے سے اس کا مقصد یہ تھا کہ آج یا وہ رہیں گے یا میں رہوں گا۔، جب وہ قریب آیا تو حضرت اُمّ عمارہ رضی الله عنہا اور مصعب بن عمیر رضی الله عنہ نے اس کا راستہ روکا، اسی وقت اس نے حضرت اُمّ عمارہ رضی الله عنہا پر حملہ کیا، ان کے کندھے پر زخم آیا، حضرت ام عمارہ رضی الله عنہا نے بھی اس پر تلوار کے کئی وار کیے، مگر وہ زرہیں پہنے ہوئے تھا۔ان کے وار سے محفوظ رہا۔ان کی کوششوں کو دیکھ کر حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“اللّٰه تمہارے گھرانے میں برکت عطا فرمائے۔”
اس پر حضرت ام عمارہ رضی الله عنہا نے عرض کیا:
“اللّٰه کے رسول! ہمارے لیے دعا فرمایئے کہ ہم جنت میں آپ کے ساتھ ہوں ”
آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“اے الله انہیں جنت میں میرا رفیق اور ساتھی بنا۔”
اس وقت حضرت ام عمارہ رضی الله عنہا نے کہا:
“اب مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ دنیا میں مجھ پر کیا گزرتی ہے۔”
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں :
“احد کے دن میں دائیں بائیں جدھر بھی دیکھتا تھا، اُمّ عمارہ کو دیکھتا تھا کہ میرے بچاؤ اور میری حفاظت کے لیے جان کی بازی لگا کر دشمنوں سے لڑ رہی ہیں ۔”
غزوہ احد میں حضرت اُمّ عمارہ رضی الله عنہا کو بارہ زخم آئے۔ان میں نیزوں کے زخم بھی تھے اور تلواروں کے بھی۔
اس روز حضرت ابودجانہ رضی الله عنہ نے بھی اپنے جسم کو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے ڈھال بنالیا تھا۔جو تیر آتا، وہ اس کو اپنی کمر پر روکتے، یعنی انہوں نے اپنا منہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی طرف کر رکھا تھا، اس طرح وہ تمام تیر اپنی کمر پر لے رہے تھے۔تاکہ آپ صلی الله علیہ وسلم محفوظ رہیں ۔اس طرح ان کی کمر میں بہت سے تیر پیوست ہوگئے۔
اسی طرح حضرت زیاد بن عمارہ رضی الله عنہ بھی آپ کی حفاظت میں مردانہ وار زخم کھا رہے تھے۔یہاں تک کہ زخموں سے چور ہوکر گر پڑے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“انہیں میرے قریب لاؤ۔”
ان کی خوش قسمتی دیکھیئے کہ انہیں آپ صلی الله علیہ وسلم کے قریب لایا گیا، جب انہیں زمین پر لٹایا گیا تو انہوں نے اپنا منہ اور رخسار حضور صلی الله علیہ وسلم کے قدموں پر رکھ دیے اور اسی حالت میں جان دے دی… کس قدر مبارک موت تھی ان کی!!
اسی طرح حضرت مصعب بن عمیر رضی الله عنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو بچاتے ہوئے ابن قمیہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔دراصل ابن قمیہ حضرت مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کو حضور صلی الله علیہ وسلم سمجھ رہا تھا، اس لیے کہ ان کی شکل حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ملتی جلتی تھی۔چنانچہ جب اس نے شہید کیا تو قریش کے سرداروں کو جاکر اطلاع دی کہ اس نے رسول اللّٰه صلی الله علیہ وسلم کو شہید کردیا ہے، حالانکہ اس نے حضرت مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کو شہید کیا تھا۔
اسی دوران ابی بن خلف رسول اللّٰه صلی الله علیہ وسلم کی طرف بڑھا۔اس پر کئی صحابہ اس کے راستے میں آگئے، لیکن حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“اسے میری طرف آنے دو۔”
پھر آپ صلی الله علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اس کی طرف بڑھے:
“اے جھوٹے! کہاں بھاگتا ہے؟ ”
پھر حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کے ہاتھ سے ایک نیزہ لیا اور نیزے کی نوک ابی بن خلف کی گردن میں بہت ہی آہستہ سے چبھودی، مطلب یہ کہ نیزہ اس قدر آہستہ چبھویا کہ اس سے خون بھی نہیں نکلا مگر اس ہلکی سی خراش ہی سے وہ بری طرح چیختا ہوا وہاں سے بھاگا… وہ کہہ رہا تھا:
“خدا کی قسم! محمد نے مجھے مار ڈالا۔”
مشرکوں نے اسے روکنے کی کوشش کی اور کہا:
“تو تو بہت چھوٹے دل کا نکلا… تیری عقل جاتی رہی، اپنے پہلو میں تیر لیے پھرتا ہے، تیراندازی کرتا ہے… اور تجھے کوئی زخم بھی نہیں آیا… لیکن چیخ کتنا رہا ہے، ایک معمولی سی خراش ہے ایسی خراش پر تو ہم اف بھی نہیں کرتے۔”
اس پر ابی بن خلف نے درد سے کراہتے ہوئے کہا:
“لات اور عزیٰ کی قسم! اس وقت مجھے جس قدر شدید تکلیف ہورہی ہے، اگر وہ ذی المجاز کے میلے میں سارے آدمیوں پر بھی تقسیم کردی جائے تو سب کے سب مرجائیں ۔”
بات دراصل یہ تھی کہ مکہ میں ابی بن خلف نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کہا کرتا تھا:
“اے محمد! میرے پاس ایک بہترین گھوڑا ہے، میں اسے روزانہ بارہ مرتبہ چارہ کھلا کر موٹا کررہا ہوں ، اس پر سوار ہوکر میں تمہیں قتل کروں گا۔”
اس کی بکواس سن کر حضور صلی الله علیہ وسلم پر فرماتے تھے”انشاءاللہ! میں خود تجھے قتل کروں گا۔”
اب جب اسے آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھوں خراش پہنچی تو اس کی ناقابل برداشت تکلیف نے اسے چیخنے پر مجبور کردیا… وہ بار بار لوٹ پوٹ ہورہا تھا اور کسی ذبیح کیے ہوئے بیل کی طرح ذکرا رہا تھا۔اس کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے اس کے کچھ ساتھی اسے ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے، لیکن اس نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔
ایک حدیث میں آتا ہے:
“وہ شخص جسے نبی نے قتل کیا ہو یا جسے نبی کے حکم سے قتل کیا گیا ہو، اسے اس کے قتل کے وقت سے قیامت کے دن تک عذاب دیا جاتا رہے گا۔”
ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں “سب سے زیادہ سخت عذاب اسے ہوتا ہے جسے نبی نے خود قتل کیا ہو۔”
احد کی لڑائی شروع ہونے سے پہلے ایک فتنہ باز کافر ابو عامر نے جگہ جگہ گڑھے کھود دیے تھے، تاکہ مسلمان بے خبری میں ان میں گرجائیں اور نقصان اٹھاتے رہیں ، یہ شخص حضرت حنظلہ رضی الله عنہ کا باپ تھا… اور حضرت حنظلہ رضی الله عنہ وہ ہیں جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا۔
لڑائی جاری تھی کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم ایک گڑھے میں گرگئے، حضرت علی رضی الله عنہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو گرتے دیکھا، انہوں نے آگے بڑھ کر فوراً آپ صلی الله علیہ وسلم کو دونوں ہاتھوں پر لے لیا۔حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو اوپر اٹھاکر باہر نکالا۔
آپ صلی الله علیہ وسلم جب گڑھے میں گرے تو ابن قمیہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم پر پتھر برسائے، ان میں سے ایک پتھر آپ صلی الله علیہ وسلم کے پہلو میں لگا، عتبہ بن ابی وقاص نے بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کو پتھر مارا۔اس کا پھینکا ہوا پتھر آپ صلی الله علیہ وسلم کے چہرہ انور پر لگا، حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا چہرہ انور لہولہان ہوگیا اور نچلا ہونٹ پھٹ گیا، حضرت حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جب عتبہ کو حضور صلی الله علیہ وسلم پر پتھر پھینکتے دیکھا تو اس کی طرف لپکا، میں نے اس کا تعاقب کیا اور آخر اسے جالیا، میں نے فوراً ہی اس پر تلوار کا وار کیا، اس وار سے اس کی گردن کٹ کر دور جا گری، میں نے فوراً اس کی تلوار اور گھوڑے پر قبضہ کیا اور حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا، آپ کو عتبہ کے قتل کی خبر سنائی… آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“اللّٰه تم سے راضی ہوگیا، اللّٰه تم سے راضی ہوگیا۔”
اس حملے میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم خود( لوہے کی ٹوپی ) بھی ٹوٹا، چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا، ابن قمیہ کے حملے سے دونوں رخسار بھی زخمی ہوئے تھے خود کی دو کڑیاں آپ صلی الله علیہ وسلم کے رخسار مبارک میں گڑ گئی تھی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ابن قمیہ کو بددعا دی:
“اللّٰه تجھے ذلیل کردے اور برباد کردے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں